کیا نبی اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ سے 70 عہد کیے تھے؟
نبی اکرمﷺ کی طرف منسوب ایک منکر و باطل روایت کی تحقیق
ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
ایک اثنا عشری لکھتا ہے:
✍امام علی ابن ابی طالبؑ کی ایک خصوصی فضیلت اور اس کا دفاع✍
امام ابو نعیم اصفہانی (المتوفی ۴۳۰ھ) نے اپنی سند سے اس طرح نقل کیا ہے :
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ ، ثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَى عَلِيٍّ سَبْعِينَ عَهْدًا ، لَمْ يَعْهَدْ إِلَى غَيْرِهِ
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ہم آپس میں یہ بات کیا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے علیؑ سے ۷۰ عہد کئے اور آپکے علاوہ کسی سے بھی یہ عہد نہیں کئے۔
⛔حلیۃ الاولیاء – ابو نعیم اصفہانی // جلد ۱ // صفحہ ۷۱ // طبع دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان۔
امام ابو نعیم اصفہانی (المتوفی ۴۳۰ھ) نے اس روایت کو اپنی دوسری کتاب میں بھی نقل کیا ہے۔
⛔ذکر اخبار اصفہان – ابو نعیم اصفہانی // جلد ۲ // صفحہ ۳۵۵ // طبع دار العلمیہ دہلی ہندوستان۔
اس سند میں ایک نام التمیمی آتا ہے۔
امام احمد بن حنبل (المتوفی ۲۴۱ھ) کو جب اسکے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یوں جواب دیا :
قال ابي التميمي : اسمه أربدة، حدثني ابي، حدثني به أبو أحمد الزبيري. قال: سألت إسرائيل عن اسم التميمي، فقال: أربدة.
(عبداللہ بن احمد بن حنبل) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے کہا التمیمی، اسکا اصل نام اربدۃ تھا۔ انہوں نے اپنی سند سے نقل کیا کہ اسرائیل کو جب التمیمی کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسکا نام اربدۃ تھا۔
⛔اسامی و الکنی – احمد بن حنبل // صفحہ ۴۷ // رقم ۲۲۵ // طبع الفاروق الحدیثیہ بیروت لبنان۔
امام طبرانی (المتوفی ۳۶۰ھ) نے بھی اس روایت کو اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
کتاب کے محقق محمد شکور محمود نے روایت کے حاشیہ پر یوں لکھا ہے :
انہوں نے نور الدین ہیثمی کا قول نقل کیا ہے جنہوں نے دعوہ کیا تھا کہ اسکے راویوں کو میں نہیں جانتا۔ اسکے بعد اسکا تعقب یوں کیا ہے کہ اسکے راویوں کے احوال موجود ہے (انہوں نے اس میں ایک راوی اربد التمیمی کو مجہول قرار دیا ہے)۔
اسی کتاب کے دوسرے نسخے جسکی تحقیق استاد باصم بن فیصل الجوابرۃ نے کی ہے انہوں نے نور الدین ہیثمی اور ناصر الدین البانی کا اس روایت کی سند میں مجہول روایوں کے دعوے کا تعقب یوں کہہ کر کیا کہ ” رجال كلهم معروفون – تمام راوی معرف ہے”۔ اسکے بعد انہوں نے ذہبی اور ناصر الدین البانی کا اس روایت کو منکر کہنے کی وجہ پیش کی ہے کہ یہ روایت صحیح بخاری کی اس روایت کے خلاف ہے جہاں علیؑ نے خطبہ دیا اور کہا کہ میرے پاس اس کتاب یعنی قرآن اور ایک صحیفہ جس میں فلان فلان مسائل ہیں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
🌷لہذا بنیادی طور پر اس روایت پر دو ہی طرح کے اشکالات ہیں :
👈اول : اسکی سند میں ایک راوی التمیمی جسکا اصل نام اربدۃ تھا مجہول ہے !
اسکا جواب یوں ہے کہ اسکی توثیق تین محدثین نے کی ہے۔
امام عجلی (المتوفی ۲۶۱ھ) نے اسکے بارے میں یوں کہا :
أربدة التَّمِيمِي كوفى تَابِعِيّ ثِقَة
اربد التمیمی، یہ کوفی تابعی تھا۔ یہ ثقہ ہے۔
⛔تاریخ الثقات – العجلی // صفحہ ۵۹ // رقم ۵۴ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔
امام ابن حجر العسقلانی (المتوفی ۸۵۲ھ) نے اسکے بارے میں یوں لکھا :
أربدة بسكون الراء بعدها موحدة مكسورة ويقال أربد التميمي المفسر صدوق
اربد……. اسکو اربد التمیمی کہا جاتا ہے۔ یہ مفسر تھا اور سچا تھا۔
⛔تقریب التہذیب – ابن حجر // صفحہ ۱۳۶ // رقم ۲۹۷ // طبع دار المنہاج بیروت لبنان۔
ابن حبان البستی (المتوفی ۳۵۴ھ) نے اسکو اپنی کتاب الثقات میں شامل کیا۔
⛔کتاب الثقات – ابن حبان // جلد ۲ // صفحہ ۳۱ // رقم ۱۹۸ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔
لہذا ثابت ہوا کہ یہ راوی مجہول نہیں بلکہ تین محدثین نے اسکی توثیق فرمائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(((((الجواب :اسد الطحاوی))))))))
اس روایت میں متعدد ضعف ہیں اور یہ روایت سند ا معلل ہے اور متن کے اعتبار سے منکر ہے!
پہلی علت:
اربدہ تمیمی راوی کے بارے تحقیق:
متقدمین میں درج ذیل ائمہ سے اسکی توثیق ملتی ہے !
۱۔ امام ابن حبان
۲۔ امام عجلی
ان دونوں نے اس راوی کو ثقات میں درج کیا ہے
اور امام مقدسی نے ان سے شواہد میں روایت لی ہے باب استسقاء میں !
اور امام ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں انکو صدوق کہا ہے
امام ابن حجر عسقلانی نے متعدد مقامات پر امام عجلی کی توثیق پر اعتبار نہیں کیا بہت سے رواتہ پر نیز امام ابن حجر عسقلانی کا تعاقب کرتے ہوئے علامہ شعیب کہتے ہیں:
– أربدة، بسكون الراء بعدها موحدة مكسورة، ويقال أربد، التميمي، المفسر: صدوق، من الثالثة. د.
• بل: مجهول، تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، ولم يوثقه سوى العجلي وابن حبان. وروى له أبو داود حديثا واحدا لم يسمه فيه. وقال ابن البرقي: مجهول.
بلکہ میں کہتا ہوں یہ مجہول ہے اس سے روایت کرنے والا صرف ابو اسحاق ہے اور اسکی توثیق سوائے عجلی و ابن حبان کے کسی نے نہیں کی ہے اور ابو داود نے اس سے ایک روایت بیان کی ہے اور اس میں بھی اسکا نام ذکر نہیں کیا ۔ اور امام ابن برقی کہتے ہیں یہ مجہول ہے
[تحریر تقریب الہذیب ]
نیز امام ابن حجر عسقلانی اپنی دوسری تصنیف لسان المیزان میں اس راوی کی تضعیف کی طرف گئے ہیں
جیسا کہ وہ لکھتےہیں:
– (د) أربدة التميمي , راوي التفسير (1: 170/ 687).
جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ امام بن حجر عسقلانی نے اربدہ تیمی کے نام کے ساتھ (د) کا حرف لکھا ہے جس سے مراد امام ابن حجر عسقلانی کی تضعیف ہوتی ہے
جیسا کہ اسی فصل کے شروع میں امام ابن حجر عسقلانی اپنے منہج کی تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
[مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال]
رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ):
– (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة.
– (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه.
-ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف.
یعنی بقول امام ابن حجر عسقلانی جس راوی کے نام کے ساتھ وہ (صح) کا صیغہ استعمال کرینگے وہ راوی ثقہ ثبت ہوگا اس پر جرح مردود ہے
اور جس راوی پر (ھ-) کا صیغہ استعمال کرینگے وہ راوی راجح تحقیق میں صدوق ہے اور اسکی توثیق پر عمل کیا جائے گا
اور جس راوی کے ساتھ کوئی عدد لکھینگے تو وہ ضعیف راویان میں شمار ہوگا
[لسان المیزان برقم:100]
نیز امام مغلطائی علیہ رحمہ اسکی تضعیف بھی نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ؛
وذكره أبو العرب في «جملة الضعفاء».
اور امام ابو العرب نے انکو ضعفاء میں داخل کیا ہے
[إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال]
تو راجح تحقیق میں یہ راوی نا قابل احتجاج ہے
تو اس راوی کی معتبر توثیق عند المحدثین ثابت نہیں جبکہ اس پر جرح راجح ہے
نوٹ: اگر امام ابن حجر عسقلانی کے نزدیک اس راوی کو صدوق بھی تسلیم کیا جائے تو بھی یہ روایت امام ابن حجر عسقلانی کے نزدیک بھی معلل و منکر ہےجیسا کہ آگے آرہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری علت:
لیکن اس روایت میں اصل علت جو ہے اسکو ہم یہاں بیان کرتے ہیں
متقدمین سے اس اربدہ تمیمی نامی راوی کے بارے ایک خاص کلام ملتا ہے جسکو متفقہ علیہ تمام ناقدین نے بیان کیا ہے کہ
” اس اربدہ سے سوائے ابو اسحاق کے اورکوئی بھی راوی حدیث بیان نہیں کرتا ہے”
جسکی تصریحات درج ذیل ہیں :
وقال عبد الله بن أحمد: حدثني أبي. قال: حدثنا أبو أحمد الزبيري، عن إسرائيل. قال: اسم التميمي، الذي حدث عنه أبو إسحاق أربدة
امام احمد کہتے ہیں مجھے ابو احمد نے اسرائل سے روایت کیا اور کہا اسکا نام تیمیمی اربدہ ہے اور اس سے (ٖفقط) ابو اسحاق روایت کرتے ہیں
وقال عبد الله بن أحمد: سألت يحيى، عن التميمي الذي حدث عنه أبو إسحاق. فقال: أسمه أربدة
اور امام عبداللہ کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے پوچھا تمیمی سے روایت کرنے حوالے سے تو انہوں نے کہا اس سے ابو اسحاق روایت کرتے ہیں اور اسکا نام اربدہ ہے
[العلل بروایت ابنہ احمد]
اور ایسے ہی امام ابو زرعہ دمشقی روایت کرتے ہیں :
حدثني عبيد الله بن النضر، عن أحمد بن حنبل، عن أبي أحمد الزبيري. قال: سألت إسرائيل عن اسم التميمي، الذي يروي عنه أبو إسحاق. فقال: أربدة.
امام احمد کہتے ہیں ابو احمد کے حوالے سے کہ میں نے اسرائل (ابو اسحاق کے پوتے ) سے پوچھا تمیمی کے نام کے بارے تو انہوں نے کہا ان سے ابو اسحاق روایت کرتے ہیں اور کہا یہ اربدہ ہے
[المعرفہ والتاریخ برقم: 1248]
ائمہ محدثین کی تصریحات کے مطابق یہ بات واضح ہو گئی کہ اس اربدہ تمیمی راوی سے فقط امام ابو اسحاق سبیعی کے علاوہ کوئی روایت ہی نہیں کرتا ہے ۔
تو مذکورہ روایت میں تمیمی سے منھال کیسے روایت کر سکتا ہے ؟ جسکاسماع ہی نہیں اربدہ راوی سے !
یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی مذکورہ روایت پر امام ذھبی سے نکارت میں موافقت کرتے ہوئے تہذیب میں لکھتے ہیں :
أربدة” ويقال أربد التميمي راوي التفسير عن ابن عباس. روى عنه أبو إسحاق السبيعي وحده فيما ذكر غير واحد وقد روى السندي بن عبدويه3 عن عمرو بن أبي قيس عن مطرف بن طريف عن المنهال بن عمرو عن التميمي عن ابن عباس قال: “كنا نتحدث أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم عهد إلى علي سبعين عهدا لم يعهدها إلى غيره”. رواه الطبراني في معجمه عن محمد بن سهل بن الصباح عن أحمد بن الفرات عن السندي وقال تفرد به السندي. قلت: قرأت بخط الذهبي “هذا حديث منكر” وقال ابن معين عن أبي أحمد الزبيري سألت إسرائيل عن اسم التميمي فقال “أربدة” وقال العجلي “تابعي كوفي ثقة” وقال ابن حبان في الثقات أصله من البصرة كان يجالس البراء بن عازب وقال ابن البرقي “مجهول” وذكره البرديجي في أفراد الأسماء وذكره أبو العرب الصقلي القيرواني في الضعفاء.
اربدہ جسکو اربد تمیمی کہا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس سے تفسیر بیان کرتے ہیں اور اس سے ابو اسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں اور یہ واحد (راوی ان سے بیان کرنے میں ہیں ) یہی بے شمار ناقدین نے کہا ہے ۔ اور پھر اس سے ”سندی بن عبدویہ” عمرو بن قیس کے طریق سے مطرف سے منھال عن تمیمی عن ابن عباس روایت بیان کرتے ہیں (جو کہ مذکورہ ہے حضرت علی کے بارے میں ہے عہد کے تعلق سے) اسکو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اپنی معجم میں اور فرمایا کہ اس روایت کو بیان کرنے میں تفرد ہے السندی کا
اسکے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:
میں (ابن حجر عسقلانی) کہتا ہوں کہ میں نے امام ذھبی کا لکھا ہوا پڑھا ہے وہ کہتے ہیں یہ حدیث منکر ہے ۔
اور کہا ہے امام یحییٰ بن معین نے ابو احمد زبیری سے انہوں نے کہا میں نے سوال کیا اسرائل سے تمیمی کے نام کے حوالے سے تو انہوں نے کہا اربدہ ہے اسکا نام ۔ اور امام عجلی نے انکو ثقہ تابعی کہا ہے اور ابن حبان نے بھی ثقات میں درج کیا ہے ۔ کہ یہ بصرہ کا تھا یہ حضرت براء کی مجلس میں بیٹھتا تھا اور ابن برقی کہتے ہیں یہ مجہول ہے اور امام ابو العرب قرانی نے انکو ضعفاء میں شمار کیا ہے
[تہذیب التہذیب ]
حاصل کلام یہ ہے کہ مذکورہ روایت جو کہ اربدہ تمیمی سے منھال بن عمرو روایت کرتا ہے اسکا سماع ہی نہیں ہے تمیمی سے اور اس نے یہ روایت ابو اسحاق سے کس طریق سے سنی یہ بات مبھم ہے
اور اس روایت میں سندی کا تفرد ہے جس سے ابو مسعود روایت کرتے ہیں اور اس سند میں خطاء سندی سے واقع ہوئی ہے کیونکہ وہ ضبط کے حوالے سے کمزور ترین راوی ہے ۔
اور تمیمی سے فقط ابو اسحاق نے روایت کیا ہے جسکی دلیل مستدرک میں موجود ہے جیسا کہ امام حاکم روایت کرتے ہیں :
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، ثنا محمد بن عمرو بن النضر الحوشي، ثنا إبراهيم بن نضر السوريني، وأخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد الصيدلاني، ثنا محمد بن أيوب، أنبأ يحيى بن المغيرة، وأحمد بن منصور، قالوا: ثنا النضر بن شميل، ثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔الخ
(نوٹ: مذکورہ سند میں ابو اسحاق براء بن عازب سے روایت کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے شیخ اربدہ کو گرا دیا ہے )
اسکو روایت کرنے کے بعد امام حاکم کہتے ہیں :
وهو أحد ما يعد في إفراد النضر بن شميل» . وقد حدث به زهير بن معاوية، عن أبي إسحاق، عن أربد التميمي، عن البراء،
اور یہ نضر بن شمیل (سے روایت کرنے والے )افراد میں سے ایک ہے اور پھر زھیر بن معاویہ سے بیان کیا گیا ہے عن ابی اسحاق عن اربدہ تمیمی عن البراء کے طریق سے حضرت ابن عباس سے
[مستدرک الحاکم]
یعنی امام حاکم نے اسکا جو درست طریق ہے اسکو بیان کرکے ثابت کیا ہے کہ ابو اسحاق براء سے یہ روایت نہیں سنی ہوئی تھی بلکہ وہ اسکو اربدہ کے طریق سے حضرت براء سے روایت کرتے تھے
اور یہی ایک طریق ہے جسکی بنیاد پر ہم اوپر متقدمین ناقدین علل سے ثابت کر چکے ہیں کہ ابو اسحاق مذکورہ روایت بیان کرتا تھا اربدہ سے اور اسی ایک طریق کی وجہ سے متقدمین نے کہا کہ ابو اسحاق اس اربدہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں
جبکہ مذکورہ روایت جو منھال بیان کر رہا ہے اربدہ سے اسکا سماع ثابت نہیں ہے اربدہ سے ائمہ علل کی تصریحات کے سبب !اور یہ سند میں غلطی السندی سے ہوئی ہے جسکے بارے کلام درج ذیل ہے :
امام ابن حجر عسقلانی انکو ضعفاء میں شمار کرتے ہوئے نقل کرتےہیں :
(ز): السِّندي بن عبدويه الدهكي
.
(نوٹ: ابن حجر نے اسکے نام کے ساتھ (ز) کا صیغہ استعمال کرکے اسکی تضعیف پر فیصلہ دیا ہے )
روى عنه محمد بن حماد الطهراني وأخرج له أبو عوانة في صحيحه
وذَكَره ابن حِبَّان في “الثقات” هكذا وقال: يغرب
قال أبو حاتم: رأيته ولم أكتب عنه.
وقال أبو الوليد الطيالسي: لم أر بالري أعلم بالحديث منه ومن يحيى بن الضريس.
ابو عوانہ نے انکو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے
ابن حبان نے ثقات میں درج کرکے کہا ہے کہ یہ غریب روایت کرتا تھا
ابو حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اسکو دیکھا ہے لیکن اس سے لکھا نہیں کچھ
اور ابو داود طیالسی کہتےہیں علم حدیث کے حوالے سے میں رائے علاقہ میں اس جیسا اور یحییٰ بن ضریس جیسا نہیں دیکھا
[لسان المیزان برقم: 3687]
یعنی سندی راوی ایک تو مختلف فیہ ہے اور اس پر غریب روایات بیان کرنے پر کلام ہے وہ متن اور سند دونوں کے اعتبار سے ہو سکتی ہیں ۔ جیسا کہ اوپر ہم سندی سے سندا روایت غریب ثابت کر کے آئیں ہیں جوکہ اصل میں معلل تھی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سند کی تحقیق کا خلاصہ!
یہاں تک ہم نے سندا بھی اس روایت کا حال تحقیقی طور پر پیش کر دیا کہ اس میں اربدہ جسکی توثیق متساہلین سے پیش کی گئی اور پھر امام ابن حجر پر عمارت کھڑی کی گئی جبکہ انہوں نے دوسری تصنیف میں اسکی تضعیف کی طرف فیصلہ دیا ہے
اور متقدمین ائمہ علل کے کلام کو مد نظر رکھتے ہوئے امام ذھبی و ابن حجر عسقلانی نے مذکورہ روایت کو سندی کی منکرات میں شامل کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بعد اثنا عشری نے اس روایت کے متن پر نکارت کا جواب دینے کی کوشش کی ہے
لکھتا ہے :
اسی کتاب کے دوسرے نسخے جسکی تحقیق استاد باصم بن فیصل الجوابرۃ نے کی ہے انہوں نے نور الدین ہیثمی اور ناصر الدین البانی کا اس روایت کی سند میں مجہول روایوں کے دعوے کا تعقب یوں کہہ کر کیا کہ ” رجال كلهم معروفون – تمام راوی معرف ہے”۔ اسکے بعد انہوں نے ذہبی اور ناصر الدین البانی کا اس روایت کو منکر کہنے کی وجہ پیش کی ہے کہ یہ روایت صحیح بخاری کی اس روایت کے خلاف ہے جہاں علیؑ نے خطبہ دیا اور کہا کہ میرے پاس اس کتاب یعنی قرآن اور ایک صحیفہ جس میں فلان فلان مسائل ہیں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
⛔کتاب السنۃ – ابن ابی عاصم (دوسرا نسخہ) // صفحہ ۴۸۰ // رقم ۱۲۲۰ // طبع دار الھدی النبوۃ ریاض سعودیہ۔
اسکا جواب یوں ہے کہ صحیح بخاری کی اس روایت جسکی وجہ سے اسکو منکر قرار دیا جا رہا ہے اس میں کہیں بھی عہدوں کا ذکر نہیں بس کتابوں کا ذکر ہے جو امام علیؑ کے پاس تھی۔ خود صحیح مسلم میں ایک روایت میں امام علیؑ رسول اللہ ﷺ کے ایک خاص عہد کا ذکر کیا ہے۔
مسلم بن حجاج نیساپوری (المتوفی ۲۶۱ھ) نے اپنی صحیح میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس طرح ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، – وَاللَّفْظُ لَهُ – أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَنْ لاَ يُحِبَّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضَنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ .
علیؑ فرماتے ہیں:
اس ذات (اللہ) کی قسم ہے جس نے دانہ پھاڑا (فصل اگائی) اور مخلوقات پیدا کیں، میرے ساتھ نبی امی ﷺ نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے محبت صرف مومن ہی کرے گا اور (مجھ سے) بغض صرف منافق ہی رکھے گا
⛔صحیح مسلم – مسلم بن حجاج // صفحہ ۵۰ // کتاب الایمان // رقم ۲۳۹ // طبع دار السلام ریاض سعودیہ۔
یہ روایت کو باقی صحیح روایات کے موافق ہے لہذا بغض علی ابن ابی طالبؑ کی وجہ سے اس پر منکر کا حکم لگانا کہاں کی دیانداری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
((((((((الجواب اسد الطحاوی))))))))))
شکر ہے یہ نہیں کہا کہ ”پیچھے سے آواز آئی کہ یہ روایت منکر نہیں ”
جو روایت بخاری میں مذکورہ ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میرے پاس سوائے قرآن اور صحیفہ (جس میں فرمان رسولﷺ تھے یعنی احادیث ) اسکے علاوہ ”کچھ بھی نہیں ”
جب حضرت علیؓ نے مطلق ہر چیز کی نفی کر دی اسک نکتے کو نظر انداز کرکے اجہل کہہ رہا ہے کہ اس میں صرف صحیفہ کا ذکر ہے جبکہ اجہل یہ نہیں دیکھ رہا ہے کہ نفی ہر چیز کی ہے جس میں اس بات کا بھی رد ہوگیا کہ ایسے کونسے عہد جو ۷۰ سے زیادہ تھے اور حضرت علی ؓ اسکا ذکر تک نہ کیا بلکہ کہا کچھ بھی نہیں سوائے ان دو چیزوں کے !!!
اور پھر یہ صحیح مسلم سے وہ روایت لایا جس میں نبی اکرمﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تجھ سے سوائے منافق کے کوئی بغض نہیں رکھے گا یہ عہد دیا
تو عرض ہے :
جو عہد نبی اکرمﷺ نے دیا تھا اسکا علان مولا علیؓ نے کر دیا تو یک عہد سے ان ۷۰ عہدوں پر قیاس کس اصول سے کیا جا رہاہے ؟
یوں تو ہم بھی ایک روایت عہد کے بارے حضرت ابو بکر صدیق سے پیش کرکے ۷۰ عہدوں پر قیاس کرتے رہیں
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَة وَا رَأْسَه فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ ذَاکِ لَوْ کَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَکِ وَأَدْعُوَ لَکِ فَقَالَتْ عَائِشَة وَا ثُکْلِيَه وَاﷲِ إِنِّي لَأَظُنُّکَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ کَانَ ذَاکَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِکَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ بَلْ أَنَا وَا رَأْسَه لَقَدْ همَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ وَابْنِه وَأَعْهدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّی الْمُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَی اﷲُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اﷲُ وَيَأْبَی الْمُؤْمِنُونَ.
’’قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما نے کہا: ہائے سر پھٹا تو رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کاش! میری زندگی میں ایسا ہوجاتا تو میں تمہارے لیے استغفار کرتا اور دعا مانگتا۔ حضرت عائشہ عرض گزار ہوئیں : ہائے مصیبت! خدا کی قسم! کیا میں گمان کروں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں، اور اگر ایسا ہوگیا تو آپ دوسرا دن اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس گزاریں گے۔ اسی پر حضورنبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔ لہٰذا میرا فیصلہ ہوا یا میں نے ارادہ کیا کہ ابو بکر اور ان کے صاحبزادے کو بلا بھیجوں اور ان سے عہدِ لوں ورنہ کہنے والے جو چاہیں کہیں گے اور خواہش کرنے والے خواہش کریں گے۔ پھر میں نے کہا (کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ) اﷲتعالیٰ اس کے خلاف نہیں چاہتا اور مسلمان اس کی مخالفت کو ہٹا دیں گے یا اﷲ مخالف کو ہٹا دے گا اور مسلمان کسی دوسرے کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔
[بخاري، الصحيح، 5: 2145، الرقم: 5342]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس ثابت ہوا نہ ہی سند پر قابل تسلی بخش تحقیق پیش کی اور نہ ہی متن پر آجا کر انکے پاس اہلسنت کے ائمہ پر یہی طعن بچتا ہے کہ معاذاللہ بغض مولا علیؓ میں روایت رد کر دی
تحقیق: اسد الطحاوی
