Site icon اردو محفل

سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ‏ – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 16

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ‏ ۞

ترجمہ:

ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے۔

القلم : ١٦ میں فرمایا : ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کے کفریہ اور قبیح افعال بیان فرمائے تھے اور اس آیت میں اس کی سزا بیان فرمائی ہے کہ ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے۔

سونڈ سے مراد اس کی ناک ہے، اور اس کو سونڈ اس لیے فرمایا ہے کہ جب کسی انسان کے اعضاء کو حیوانوں کے اعضاء سے تشبیہ دی جائے یا اس پر حیوان کے اعضاء کا اطلاق کیا جائے تو اس سے اس انسان کی توہین اور تذلیل مقصود ہوتی ہے مثلاً کسی انسان کے پیر کو کھرکہا جائے یا سم کہا جائے، نیز اس آیت میں ناک کی تذلیل کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعضاء میں سب سے اشرف عضو اس کا چہرہ ہوتا ہے اور چہرے میں ناک کی زیادہ اہمیت ہے، وہی چہرے میں بلند ہوتی ہے اور اسی سے چہرے کی خوبصورتی ہے اور ناک کے لفظ سے کسی انسان کی عزت یا بےعزتی کا کنایہ کیا جاتا ہے، مثلاً کہا جاتا ہے : فلاں نے فلاں کی ناک رکھ لی یعنی اس کی عزت رکھ لی اور کہا جاتا ہے : فلاں کی ناک کٹ گئی۔ یعنی اس کی بےعزتی ہوگئی۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس کی ناک پر یہ نشانی دنیا میں لگائی گئی یا آخرت میں لگائی جائے گی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس کی ناک پر تلوار سے نشان لگایا جائے گا اور تا حیات اس میں یہ نشان باقی رہے گا اور یہ بھی روایت ہے کہ جنگ بدر میں اس نے تلوار سے قتال کیا اور اسی جنگ میں اس کی ناک پر نشان لگا اور مقاتل اور ابو العالیہ نے کہا : آخرت میں اس کی ناک پر نشان ہوگا اور اس نشان کی وجہ سے سب اس کو پہچان لیں گے، جس طرح کفار کے چہرے قیامت کے دن سیاہ کیے جائیں گے اور خوف سے ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، اسی طرح قیامت کے دن اس کی ناک پر نشان ہوگا۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٠٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 16

Exit mobile version