Site icon اردو محفل

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِيۡمٍۙ‏ – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 12

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِيۡمٍۙ‏ ۞

ترجمہ:

نیکی سے بہت روکنے والا، حد سے متجاوز، سخت گناہ گار ہے۔

القلم : ١٣۔ ١٢ میں فرمایا : نیکی سے بہت روکنے والا، حد سے متجاوز، سخت گناہ گار ہے۔ بہت بد خوان، سب کے بعد نطفہ حرام ہے۔

نیکی سے روکنے اور ” عتل “ اور ” زنیم “ کا معنی

نیکی سے روکنے سے یہ مراد ہے کہ وہ نیک کاموں میں مال خرچ کرنے سے روکتا ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ شخص اپنی اولاد اور اپنے رشتہ دروں کو اسلام لانے سے روکتا تھا، حسن نے کہا : وہ کہتا تھا : تم میں سے جو شخص ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین میں داخل ہوا، میں اس کو کوئی نفع نہیں دوں گا اکور لوگوں پر حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا اور سخت گناہ گار تھا۔

القلم : ١٣ میں ” عنل “ کا لفظ ہے : سخت مزاج، گردن کش، اجڈ، بسیار خوار، درشت، جس کا جسم بہت مضبوط اور اس کے اخلاق بہت خراب ہیں۔

اور اس آیت میں ” زنیم “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : بد نام، جو شخص کسی بری شناخت سے معروف ہو اور وہ شخص جو اپنے آپ کو کسی قوم میں شامل کرے اور فی الواقع وہ اس قوم سے نہ ہو۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے کہا :” زنیم “ کے متعلق متعدد اقوال ہیں : فرا نے کہا ہے : یہ وہ شخص ہے جس کے نسب میں تہمت ہو، وہ اپنے آپ کو کسی قوم کے ساتھ ملائے اور وہ ان میں سے نہ ہو ” زنیم “ اس ولد الزنا کو کہتے ہیں جو خود کو کسی قوم کے ساتھ منسوب کرے اور حقیقت میں وہ اس قوم میں سے نہ ہو، ولید بن مغیرہ قریش کے نسب میں متہم تھا اور ان کی اصل سے نہ تھا، اس کے باپ نے اس کی پیدائش کے اٹھارہ سال بعد دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس کی ماں نے بدکاری کی تھی مگر مشہور نہ تھا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی، شعبی کا قول ہے کہ ” زنیم “ وہ شخص ہے جو اپنی برائی اور ملامت میں اس طرح مشہور ہے جیسے بکری اپنے لٹکے ہوئے کان کے ساتھ پہچانی جاتی ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :” زنیم “ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گلے میں زائد گوشت ہونے کی وجہ سے مشہور ہوا، اور مقاتل نے کہا :” زنیم “ وہ شخص ہے جس کے کان کی جڑ میں زائد گوشت ہو۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٠٥، ملخصاً ، داراحیاء التراث العربی، بیروت : ١٤١٥ ھ)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے ” زنیم “ کے متعلق متعدد اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا : ” زنیم “ وہ شخص ہے جو برائی میں اتنا مشہور ہو کہ اسی برائی کے ساتھ لوگوں میں پہچانا جاتا ہو، اور اکثر ایسا شخص نسب میں متہم اور ولد الزنا ہوتا ہے، اور شیطان اس پر مسلط ہوت ہے۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٤٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم متوفی ٤٢٧ ھ نے لکھا ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آسمان اس شخص پر روتا ہے جس کا جسم اللہ تعالیٰ نے تندرست بنایا ہوا اور اس کا پیٹ بڑا ہو، اس کا دنیا کا مال دیا ہو اور وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہو، اسی طرح ” العنل الزنیم “ ہے۔ ( الکشف و البیان ج ١٠ ص ١٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ولد الزنا داخل نہیں ہوگا اور نہ احسان جتانے والا، اور نہ ماں باپ کا نافرمان اور نہ دائمی شراب نوش۔

(سنن داری رقم الحدیث : ٢٠٩٧، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٦٨٨)

یہ حدیث اس دلدا الزنا پر محمول ہے جو اپنے ماں باپ کی طرح زنا کرتا ہو، کیونکہ اس حدیث میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے افعال دخول جنت کے منافی نہیں ہیں، اس لیے اس حدیث محمل یہ ہے کہ یہ لوگ ابتداء جنت میں نہیں داخل ہوں گے اور اپنی سزا پا کر جنت میں جائیں گے اور آپ نے زجراً اس طرح فرمایا ہے تاکہ لوگ ڈریں اور ایسے کام نہ کریں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہنے والے کا مصداق

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

تمام روایات اس پر محمول ہیں کہ جس شخص نے آپ کو مجنون کہا تھا وہ ولید بن مغیرہ مخرومی تھا، اور وہ اپنے آپ کو قریش کی طرف منسوب کرتا تھا اور واقع میں وہ قریش سے نہیں تھا، اس کے باپ نے اس کی پیدائش کے اٹھارہ سال بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے، اور ایک قوم یہ ہے کہ وہ شخص الحکم بن العاص تھا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ بدر کردیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ شخص الا خنس بن شریق تھا، وہ اصل میں ثقیف سے تھا اور اس کا شمار زھرہ میں ہوتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ شخص الاسود بن بغوث تھا یا ابو جہل تھا۔

(روح المعانی جز ٢٩ ص ٤٧، دارلفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

قرآن مجید میں ولید بن مغیرہ کے دس عیوت مذکور ہیں یا نو ؟

جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہا تھا، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کے نو عیوب بیان فرمائے ہیں : (١) بےحد قسمیں کھانے والا (٢) بےحد ذلیل (٣) بہت طعنے دینے والا (٤) چلتا پھرتا چغل خور (٥) نیکی سے بہت روکنے والا (٦) حد سے متجاوز (٧) سخت گنہ گار (٨) بہت بدخو (٩) نطفہ حرام۔

صدرالافاضل سیدنا محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولیدبن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے حق میں دس باتیں فرمائی ہیں، نو کو تو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطاء ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں، یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماروں گا، اس پر اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مرجائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کو بلا لیا، تو اس سے ہے۔

میں کہتا ہوں کہ مذکور الصدر روایت کو علامہ سلیمان جمل متوفی ١٢٠٤ ھ نے اس طرح بیان کیا ہے : اس شخص نے اپنی ماں سے کہا : (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری نو ایسی صفات بیان کی ہیں جن کو میں پہنچانتا ہوں، ماسوا نویں صفت کے، اگر تم نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی تو میں تمہاری گردن اڑادوں گا، اس نے کہا : تمہارا باپ نامرد تھا، مجھے مال کا خطرہ ہوا تو میں نے ایک چرواہے کو اپنے اوپر قادر کیا، تم اس کے نسب سے ہو۔ علامہ جمل نے اس روایت کو صرف اپنے استاذ کے حوالے سے لکھا ہے، علامہ صاوی مالکی متوفی ١٢٢٣ ھ نے بھی اس کو حسب عادت جمل سے نقل کر کے لکھ دیا ہے، ہمیں کسی حدیث کی کتاب یا کسی تفسیر سے اس کی اصل نہیں ملی۔

نیز صدر الافاضل (رح) نے لکھا ہے کہ اس کے دس عیوب بیان کیے ہیں، لیکن قرآن مکید میں اس کے صرف نوعیت کا ذکر ہے۔

صدر الافاضل کی پیروی میں فاضل احمد یار خاں نعیمی (رح) نے نور العرفان میں اور حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری نے ضیاء القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں اس شخص کے دس عیوب لکھے ہیں : جبکہ دیگر مفسرین نے قرآن مجید کے مطابق نو عیوب لکھے ہیں، دیکھئے تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٠٤، داراحیاء التراث العربی، روح البیان ج ١٠ ص ١٣٠، داراحیاء التراث العربی، تفسیر الجمل ج ٤ ص ٣٨٤، قدیمی کتب خانہ کراچی، تفسیر الصاوی ج ٦ ص ٣٢١٣، دارالفکر، بیروت۔

اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرے اس کا رد کرنا اور اس کے مقابلہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان اور نعت بیان کرنا قرآن مجید کا اسلوب اور اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 12

Exit mobile version