Site icon اردو محفل

فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنۡ كَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ‌ۘ اِذۡ نَادٰى وَهُوَ مَكۡظُوۡمٌؕ سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 48

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنۡ كَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ‌ۘ اِذۡ نَادٰى وَهُوَ مَكۡظُوۡمٌؕ‏ ۞

ترجمہ:

سو آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنے رب کی حالت غم میں پکارا تھا

تفسیر:

القلم : ٤٨ میں فرمایا : سو آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے اور مچھلی والے کس طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنے رب کو حالت غم میں پکارا تھا۔

آپ کا رب آپ کو اپنا پیغام پہنچانے کا جس طرح حکم دے آپ اس پیغام کو پہنچاتے رہیے۔

قتادہ نے کہا : آپ جلدی نہ کریں اور کفار کی دل آزار اور دل خراش باتوں پر غیط و غضب میں نہ آئیں، اور ایک قول یہ ہے کہ آیت ِ جہاد کے نازل ہونے سے اس آت کی حکم کا منسوخ ہوگیا۔

مچھلی والے سے مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں یعنی جس طرح وہ اپنی قوم کے ایمان نہ لانے سے جلدی غضب میں گئے تھے اور جلدی میں اللہ تعالیٰ سے اذن مخصوص لیے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے، آپ اس طرح نہ کریں۔

اور فرمایا : جنہوں نے اپنے رب کو حالت غم میں پکارا تھا، یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے رب کو پکارا اور کہا :” لَّآ اِلٰـہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ “ (الانبیاء : ٨٧)

اس آیت میں ” مکظوم “ کا لفظ ہے اس کا معنی حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ غم سے پر تھے اور عطا اور ابو مالک نے کہا : اس کا معنی ہے : وہ کرب اور بےچینی سے پر تھے اور یا ان کا سانس گھٹ رہا تھا، کہتے ہیں :” کظم فلان غبطہ “ فلاں شخص نے اپنا غصہ روک لیا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 48

Exit mobile version