Site icon اردو محفل

فَذَرۡنِىۡ وَمَنۡ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ‌ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَۙ سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 44

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَذَرۡنِىۡ وَمَنۡ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ‌ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

سو آپ اس کلام کے جھٹلانے والے کو مجھ پر چھوڑ دیجئے ہم ان کو اس طرح آہستہ آہستہ ( عذاب کی طرف) کھینچیں گے کہ ان کو معلوم بھی نہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو آپ اس کلام کے جھٹلانے والے کو مجھ پر چھوڑ دیجئے، ہم ان کو اس طرح آہستہ آہستہ ( عذاب کی طرف) کھینچیں گے کہ ان کو معلوم نہیں ہوگا۔ اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔ کیا آپ ان سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں جو یہ تاوان سے دبے جا رہے ہیں۔ یا ان کے پاس علم غیب ہے جس کو وہ لکھ رہے ہیں۔ سو آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنے رب کو حالت غم میں پکارا تھا۔ اگر ان کے رب کی طرف سے نعمت ان کا تدراک نہ کرتی تو وہ ضرور وصف مذمومیت کے ساتھ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے۔ پس ان کے رب نے ان کو عزت والا بنادیا اور صالحین میں سے کردیا اور بیشک کفار سے یہ بعید نہیں کہ وہ اپنی نظریں لگا کر آپ کو پھسلا دیں گے، وہ جب بھی قرآن سنتے ہیں تو کہتے ہیں : یہ مجنون ہے حالانکہ یہ تو صرف تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔ ( القلم : ٥٢۔ ٤٤ )

استدراج کا معنی

اس سے پہلے آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور ہولناکی سے ڈرایا تھا، اس آیت میں ان کو اور زیادہ ڈرایا اور اپنے قہر اور اپنی قدرت کا ذکر فرمایا اور فرمایا : آپ ان کو میرے سپرد کر دیجئے، میں ان کے لیے کافی ہوں یعنی ان کی زیادتیوں کا انتقام لینے کے لیے یہ کافی ہے کہ آپ ان کا معاملہ میرے سپرد کردیں، مجھے معلوم ہے کہ ان کو کیسی سزا دینی چاہیے اور میں اس سزا کو دینے پر قادر ہوں۔

اس آیت میں ” سنستدرجھم “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر استدراج ہے، اس کا معنی ہے : ہم ان کو بہ تدریج عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں، عطاء نے کہا : ہم ان کے ساتھ ایسی خفیہ تدبیر کرنے والے ہیں کہ ان کو اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا، کلبی نے کہا : ہم ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں پسندیدہ بنادیں گے، پھر ہم ان کو گرفت میں لے لیں گے، ضحاک نے کہا : جب وہ کوئی نیا گناہ کرتے ہیں تو ہم ان کو نئی نعمت عطاء کرتے ہیں۔ سفیان نے کہا : ہم ان پر اپنی نعمتوں کے دریا بہاتے ہیں اور ان کو اس کا شکر ادا کرنے سے غفلت میں مبتلا رکھتے ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 44

Exit mobile version