Site icon اردو محفل

وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 51

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ ۞

ترجمہ:

اور بیشک کفار سے بعید نہیں کہ وہ اپنی نظریں لگا کر آپ کو پھسلا دیں گے، وہ جب بھی قرآن سنتے ہیں تو کہتے ہیں : یہ مجنوں ہے

تفسیر:

القلم : ٥١ میں فرمایا : اور بیشک کفار سے یہ بعید نہیں کہ وہ اپنی نظریں لگا کر آپ کو پھسلا دیں گے، وہ جب بھی قرآن سنتے ہیں تو کہتے ہیں : یہ مجنوں ہے۔

کفار مکہ کا آپ پر نظر لگانے کی ناکام کوشش کرنا

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شدید عداوت کی خبر دی ہے، انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر لگا دیں، پھر قریش کی ایک جماعت نے آپ کو نظر لگائی اور کہنے لگے : ہم نے ان کی مثال کوئی شخص دیکھا ہے نہ ان کے محافظوں کی مثل کوئی شخص دیکھا ہے۔ ایک قول ی ہے کہ بنو اسد والے نظر لگاتے تھے حتیٰ کہ کوئی فربہ گائے یا موٹی نازی اونٹنی ان میں سے کسی ایک کے پاس سے گزرتی تو وہ اس کو نظر لگاتے، پھر اپنی باندی سے کہتے کہ ٹوکری لے کر جائو اور درہم لے کر جائو اور اس اونٹنی کا گوشت لے آنا، پھر شام ہونے سے پہلے وہ اونٹنی مرجاتی اور ذبح کردی جاتی۔ کلبی نے کہا : عرب کا ایک شخص دو تین دن کھانا نہیں کھاتا تھا پھر اس کے پاس سے کوئی اونٹ یا بکرا گزرتا تو وہ کہتا : میں نے اس سے زیادہ خوب صورت اونٹ یا بکرا اس سے پہلے نہیں دیکھا، پھر تھوڑی ہی دیر گزرتی تھی کہ وہ اونٹ یا بکرا گر کر ہلاک ہوجاتا تھا، کفار نے اس شخص سے کہا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نظر لگائے، اس نے حامی بھر لی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے شر سے محفوظ رکھا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

عرب جب کسی کی جان یا مال پر نظر لگانا چاہتے تو تین دن بھوکے رہتے، پھر اس کی جان یا مال پر نظر لگا کر کہتے : اللہ کی قسم ! میں نے اس سے زیادہ قوی، بہادر اور اس سے زیادہ مال دار شخص کوئی نہیں دیکھا، پھر وہ شخص ہلاک ہوجاتا اور اس کا مال ہلاک ہوجاتا، اسی وجہ سے فرمایا : جب آپ قرآن مجید پڑھتے ہیں تو یہ آپ کو مجنوں کہتے ہیں۔

اس آیت میں فرمایا ہے : وہ آپ کی نظر لگاتے ہیں تاکہ آپ کو پھسلا دیں، الھروی نے اس کی تفسیر میں کہا : وہ آپ پر اس لیے نظر لگاتے ہیں تاکہ آپ کو اس مقام سے گرا دیں جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو قائم کیا ہے، سدی اور سعید بن جبیر نے کہا : وہ آپ پر اس لیے نظر لگاتے ہیں تاکہ آپ کی تبلیغ رسالت کے منصب سے ہٹا دیں، حسن بصری اور ابن کیسان نے کہا : وہ اس لیے آپ پر نظر لگاتے ہیں تاکہ آپ کو ہلاک کردیں۔

جس شخص پر نظر لگی ہو اس پر اس آیت کو پڑھ کر دم کردیا جائے تو انشاء اللہ اللہ تعالیٰ اس کو نظر کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 51

Exit mobile version