بیشک جب پانی میں طغیانی آگئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔
الحاقہ : ١٢۔ ١١ میں فرمایا : بیشک جب پانی میں طغیانی آگئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔ تاکہ ہم اس کو تمہارے لیے نصیحت بنادیں، اور حفاظت کرنے والے کان اس کو محفوظ رکھیں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ کے غضب سے وہ پانی محافظ فرشتوں کی طاقت سے باہر ہوگیا اور وہ اس کو روکنے پر قادر نہ ہو سکے، قتادہ نے کہا : وہ پانی ہر چیز سے پندرہ ہاتھ اونچا ہوگیا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ پانی محافظ فرشتوں کی طاقت سے باہر ہوگیا اور وہ یہ نہ جان سکے کہ کتنا پانی نکل چکا ہے، اور اس سے پہلے پانی کا ایک قطرہ بھی ان کی پیمائش سے زیادہ نازل نہیں ہوتا تھا، ان قصوں کو بیان کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ پچھلی امتوں پر کس طرح عذاب نازل ہوتا رہا تھا اور کفار مکہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی میں ان کے طریقہ کی ابتداء کرنے سے باز رکھنامطلوب ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے مؤمنوں پر یہ احسان فرمایا کہ ان کو حضرت نوح کی کشتی میں سوار کر کے طوفان سے نجات دی۔
اس آیت میں کفار قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم کو کشتی میں سوار کیا، اس کا محمل یہ ہے کہ کفار قریش کے آباء و اجداد اس وقت ان لوگوں کی پشتوں میں تھے، جن کو کشتی میں سوار کیا تھا اس لیے یہ احسان کفار قریش پر بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی قوم کے کفار کو غرق کردیا اور ان کی قوم کے مؤمنوں کو نجات دی، تاکہ یہ واقعہ تمہارے لیے نصیحت اور عبرت کی نشانی بن جائے، اور حفاظت کرنے والے کان اس نشانی کو سن کر اسے یاد رکھیں۔