الحاقۃ ١٦۔ ١٥ میں فرمایا : پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ بالکل کم زور ہوگا۔
یعنی اس دن قیامت واقع ہوجائے گی اور فرشتوں کے نزول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن آسمان میں بالکل قوت نہیں ہوگی اور وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجائے گا۔
اس آیت میں ” الملک “ کا لفظ ہے، ہر حند کہ یہ واحد ہے لیکن اس سے ایک فرشتہ مراد نہیں ہے بلکہ فرشتوں کی جنس مراد ہے، نیز اس آیت میں ” الاجاء “ کا لفظ ہے، اس کا لغوی معنی ہے : نواحی اور اطراف اور یہ لفظ کنویں اور قبر کے کنارے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب آسمان پھٹ جائے گا تو فرشتے آسمان کے پھٹنے کی ہر جگہ سے انحراف کریں گے اور آسمان کی اطراف میں ٹھہرے ہوں گے۔
اس جگہ یہ اشکال ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اور صور میں پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں اور زمینوں والے ہلاک ہوجائیں گے ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے۔
اس آیت کا تقاضا ہے کہ قیامت آنے کے بعد فرشتے بھی ہلاک ہوجائیں گے، پھر وہ آسمان کی اطراف میں کیسے ہوں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک لحظہ کے لیے آسمان کی اطراف میں ٹھہریں گے، پھر مرجائیں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے : ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عموم سے فرشتوں کو مستثنیٰ کرلیا ہو۔