الحاقہ : ٣٤۔ ٣٣ میں فرمایا : بیشک یہ بڑی عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تقصیر کا عذاب
پہلی آیت میں کافر کی قوت ِ عاقلہ کے فساد کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت میں اس کی قوت ِ عاملہ کے فساد کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی آیت میں اس کے عقائد کی خرابی کی طرف اشارہ ہو اور دوسری آیت میں اس کے اعمال کی خرابی کی طرف اشارہ ہوا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی آیت میں یہ بتایا ہو کہ وہ حقوق اللہ کی ادائیگی نہیں کرتا تھا اور دوسری آیت میں یہ بتایا ہو کہ وہ حقوق العباد کی ادائیگی نہیں کرتا تھا۔
اس آیت میں اس پر قوی دلیل ہے کہ مسکین کو محروم رکھنا بہت بڑا جرم ہے، نیز اس میں یہ نہیں فرمایا کہ وہ مسکین کو کھلاتا نہیں تھا، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا اور اس کا معنی یہ ہے کہ مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہ دینا بھی بہت بڑا جرم ہے، تو سوچنے کہ مسکین کو کھانا نہ کھلانا اور اس کی مدد نہ کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا ؟
اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ کفار کو احکام شرعیہ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بھی عذاب دیا جائے گا، اس آیت میں دو گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے، ایک اللہ پر ایمان نہ لانا اور دوسرا مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہ دینا کیونکہ سب سے بڑا جرم اللہ تعالیٰ کا کفر کرنا ہے اور سب سے زیادہ مذمت والا کام بخل کرنا ہے اور دل کی سختی ہے۔
پہلے جرم کو ذکر کرنے میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تعظیم بجا لانے اور عبادت کیے جانے کا مستحق ہے، سو جس نے اللہ تعالیٰ کے غیر کی تعظیم کی یا اس کی عبادت کی وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند ہے، جس نے ان میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھینا میں اس کو دوزخ میں داخل کردوں گا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٠٣، کتاب البرو الصلۃ باب تحریم الکبر)
روایت ہے کہ حضرت ابو الدرداء (رض) اپنی بیوی کو اس کی ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ سالن میں شوربا زیادہ رکھا کریں تاکہ مسکینوں کو کھانا کھلایا جاسکے۔
امام ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو الدرداء (رض) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک زنجیر ہے جس کو دوزخ کی دیگچیوں میں مسلسل قامت تک جوش دیا جاتا رہے گا اور اس زنجیر کو لوگوں کی گردنوں میں ڈالا جائے گا، اللہ صاحب عظمت پر ایمان لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے نصف عذاب سے نجات دے دی ہے، پس ام الدردا ! تم مسکین کو کھلانے کی ترغیب دیا کرو۔ ( الدرالمنثور ج ٨ ص ٢٥٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)