Site icon اردو محفل

وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ‌ۚ سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 25

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور رہا وہ جس کو اس کا صحیفہ ٔ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، پس وہ کہے گا : کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا

تفسیر:

الحاقہ : ٢٦۔ ٢٥ میں فرمایا : اور رہا وہ جس کو اس کا صحیفہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، پس وہ کہے گا : کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا۔ اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا کیا حساب ہے۔

رسوائی کے عذاب کا دوزخ کے عذاب سے زیادہ سخت ہونا اور کفار کا کف افسوس ملنا

جب کفار اور فساق اپنے صحائف اعمال میں اپنے برے کام دیکھیں گے تو شرمندہ ہوں گے اور دوزخ کے عذاب سے زیادہ ان کے لیے شرمندگی کا عذاب تکلیف دہ ہوگا، اور وہ کہیں گے : کاش ! ہمیں دوزخ کا عذاب دیا جاتا اور ہمارے برے کام دکھا کر ہم کو شرمندہ نہ کیا جاتا، اس سے معلوم ہوا کہ روحانی عذاب جسمانی عذاب سے زیادہ سخت ہوتا ہے، اس لیے دوزخی کہے گا : کاش ! مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا کیا حساب ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 25

Exit mobile version