الحاقہ : ٢٧ میں فرمایا : ( کافر کہے گا : ( کاش ! وہی ( موت) میرا کام تمام کردیتی۔
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ” یالیتھا “ کی ” ھا “ ضمیر دنیا کی پہلی موت کی طرف راجع ہے، ہرچند کہ اس کا پہلے ذکر نہیں ہے لیکن اپنے ظہور کی وجہ سے حکماً مذکور ہے، اور اس آیت میں ” القاضیۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی انتہاء اور فراغت ہے، جیسے اس آیت میں ہے :
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ (الجمعہ : ١٠) پس جب نماز مکمل ہوجائے یا ختم ہوجائے۔
اسی طرح اس کا معنی ہے : کاش ! وہی موت میری انتہاء کردیتی اور مجھے فارغ کردیتی تو میں محشر میں نہ آتا۔