Site icon اردو محفل

تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوۡحُ اِلَيۡهِ فِىۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗ خَمۡسِيۡنَ اَلۡفَ سَنَةٍ‌ۚ‏ – سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 4

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوۡحُ اِلَيۡهِ فِىۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗ خَمۡسِيۡنَ اَلۡفَ سَنَةٍ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

فرشتے اور جبریل اس کی طرف چڑھتے ہیں، وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

تفسیر:

المعارج :4 میں فرمایا : فرشتے اور جبریل اس کی طرف چڑھتے ہیں، وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

” الروح “ کا مصداق

اس آیت میں فرشتوں کے بعد روح کا ذکر ہے، علاوہ الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے کہا : روح کی تفسیر میں تین قول ہیں :

(١) قبیصہ بن ذویب نے کہا : اس سے مراد ( مسلمان) میت کی روح ہے، جب فرشتے اس کو قبض کرتے ہیں تو وہ اس مقام کی طرف چڑھتی ہے جو آسمانوں میں اس کی منزل ہے کیونکہ وہ اس کی عزت اور کرامت کی جگہ ہے اور یہ آیت اس طرح ہے، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا :

اِنِّیْ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیْ (الصافات : ٩٩) بیشک میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں۔

(٢) ابو صالح نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، جو انسانوں کی شکل میں ہے لیکن انسان نہیں ہے۔

(٣) اس سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ (الشعراء : ١٩٣) قرآن مجید کو روح امین نے نازل کیا ہے۔

(النکت والعیون ج ٦ ص ٩٠، دارالکتب العربیہ، بیروت)

میں کہتا ہوں اس آیت میں ” الروح الامین “ سے مراد حضرت جبریل ہیں، اسی طرح قرآن مجید کی روایات میں بھی ” الروح “ سے مراد حضرت جبریل ہیں :

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا (النبا : ٣٨) جس دن روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔

اس آیت میں بھی روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں اور ان کو ان کے شرف اور کرامت کی وجہ سے فرشتوں کے عموم سے نکال کر ذکر فرمایا ہے، المعارج ٥ میں ان کا ذکر عام فرشتوں کے بعد فرمایا اور النبا : ٣٨ میں ان کا ذکر عام فرشتوں سے پہلے فرمایا اور ان اقوال میں راحج قول یہی ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔

اس کی تحقیق کہ قیامت کا دن آیا پچاس ہزار سال کا ہے یا ایک ہزار سال کا ؟

وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

اس آیت سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا، اس کی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وہ شخص جو سونا چاندی رکھتا ہو اور اس کا حق ( زکوٰۃ) ادا نہ کرے، قیامت کے دن اس کے لیے اس کے لیے آگ کی چٹانوں کی پرت بنائے جائیں گے اور دوزخ کی آگ سے ان کو تپایا جائے گا اور اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو ان کے ساتھ داغا جائے گا، ایک بار یہ عمل کرنے کے بعد اس کو دوبارہ دہرایا جائے گا، جو دن پچاس ہزار سال کے برابر ہے، اس دن میں یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا، بالآخر جب تمام لوگوں کے فیصلے ہوجائیں گے تو اسے جنت یا دوزخ کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٨٧، سنن ابو دائودرقم الحدیث : ١٦٥٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٤٣٨، مسند احمد ج ٢ ص ٤٩٠۔ ٤٨٩)

قرآن مجید کی اس آیت اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اور فرشتے اور جبریل پچاس ہزار سال کے دن میں اس طرف چڑھیں گے، اور ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن ایک ہزار سال کا ہوگا اور اس دن میں فرشتے چڑھیں گے، وہ آیت یہ ہے :

یُدَبِّرُ الْاَمْرَمِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ (السجدہ : ٥)

وہ آسمان سے زمین تک ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے، پھر وہ کام اس کی طرف اس دن چڑھتا ہے، جس کی مقدار تمہارے گننے کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتوں کے روز قیامت تک چڑھنے کے دو اعتبار ہیں، ایک اعتبار ساتویں زمین سے ساتویں آسمان تک ہے، اس کی مدت ہما رے دنوں کی گنتی کے اعتبار سے پچاس ہزار سال ہے اور ایک اعتبار سے زمین سے آسمان تک اور آسمان سے زمین تک آنے جانے کا ہے، اس اعتبار سے اس کی مدت ہمارے گننے کے اعتبار سے ایک ہزار سال ہے۔

امام عبد الرحمن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا : سب سے نچلی زمین کی انتہاء سے لے کر سات آسمانوں کی انتہاء کے اوپر ہمارے اعتبار سے پچاس ہزار ہے اور پہلے آسمان سے زمین تک اور پہلی زمین سے پہلے آسمان تک فرشتے ایک دن میں چڑھتے ہیں اور اس چڑھنے کی مدت ہمارے گننے کے اعتبار سے ایک ہزار سال ہے۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩٨٧، ج ١٠ ص ٣٣٧٣، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہر زمین کی موٹائی کی مسافت کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے، پس یہ چودہ ہزار سال کی ہیں اور ساتویں آسمان سے عرش تک کی مسافت کا فاصلہ چھتیس ہزار سال ہے، پس یہ تمام فاصلہ اس دن میں طے ہوگا جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩٨٨۔ ج ١٠ ص ٣٣٧٣)

حضرت ابن عباس (رض) ” فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ۔ “ (المعارج : ٥) کی تفسیر میں فرمایا : قیامت کا دن اتنا طویل ہوگا جو تمہارے شمار کے اعتبار سے پچاس ہزار سال کا ہوگا۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩٨٩۔ ج ١٠ ص ٣٣٧٤)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس حدیث کی تفصیل میں لکھتے ہیں :

اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر زمین کی موٹائی انچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، اور پہلی زمین اور پہلے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ساتویں آسمان اور کرسی کی گہرائی کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور اس کا مجموعہ چودہ ہزار سال کی مسافت ہے اور کرسی کی گہرائی سے عرش تک چھتیس ہزار سال کی مسافت ہے اور اس کا مجموعہ پچاس ہزار سال کی مسافت ہے، امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رض) سے جو حدیث نقل کی ہے، اس میں اسی طرح ہے، اور شاید یہ حدیث صحیح ہے نہ ہو، ہرچند کہ فرشتوں کا اتنی سرعت کے ساتھ مسافت کو منقطع کرنا بعید نہیں ہے، جس طرح روشنی بہت سرعت کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ہمیں اس پر یقین ہے کہ اللہ عزوجل ہر چیز پر قادر ہے۔ (روح المعانی جز ٢٩ ص ٩٩۔ ٩٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

مسلمانوں کے لیے قیامت کے دن کی مقدار

امام محم بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ فرماتے ہیں :

قیامت کے دن کی مقدار ہمارے شمار کے اعتبار سے پچاس ہزار سال صرف کفار کے لیے ہوگی جن کی مغفرت نہیں ہوگی اور جن مؤمنین کی مغفرت ہوگی، ان کے اعتبار سے قیامت کے دن کی مقدار اتنی ہوگی جتنا ظہر سے عصر تک کا وقت ہوگا، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : قیامت کا دن مؤمنین پر اتنی مقدار کا ہوگا جتنی مقدار ظہر اور عصر کے درمیان ہوتی ہے۔ ( البعث والنثور رقم الحدیث : ١٢٤۔ ص ٧٨، المستدرک ج ١ ص ٨٤)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کا دن مؤمنوں پر اتنی مقدار کا ہوگا جتنی مقدار ظہر اور عصر کے درمیان ہوتی ہے۔ ( البعث والنثور رقم الحدیث : ١٢٥۔ ص ١٧٨، المستدرک ج ١ ص ٨٤)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کافر کے لیے قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا کیا جائے گا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی ( نیک) عمل نہیں کیا تھا اور کافر ضرور دوزخ کو دیکھے گا اور یہ گمان کرے گا کہ وہ اس میں چالیس سال کی مسافت تک کرنے والا ہے۔ ( مسند احمد ج ٣ ص ٧٥ طبع قدیم، مسند احمدج ١٨ ص ٢٤٤، مؤسستہ الرسالۃٗ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٣٨٥، المستدرک ج ٤ ص ٥٩٧، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٦، اس حدیث کو حاکم اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے، حافظ الہمیثی نے کہا : اس کی سند میں کچھ ضعیف ہے، یہ حدیث صحیح ابن ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٥٢ میں بھی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ )

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے، یہ کس قدر طویل دن ہوگا ؟ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، مومن پر یہ دن خفیف ہوگا حتیٰ کہ جتنے وقت میں وہ دنیا میں عصر کی نماز پڑھتا تھا اس کے لیے قیامت کا دن اس سے بھی خفیف ہوگا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٧٥ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٨ ص ٢٤٤، مؤسستہ الرسالۃ، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٣٨٥، المستدرک ج ٤ ص ٩٧، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٦، اس حدیث کو حاکم اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے، حافظ الہیثمی نے کہا : اس کی سند میں کچھ ضعیف ہے، یہ حدیث صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٥٢ میں بھی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ )

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے، یہ کس قدر طویل دن ہوگا ؟ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں ہزار سال کا ہے، یہ کس قدر طویل دن ہوگا ؟ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، مومن پر یہ دن خفیف ہوگا حتیٰ کہ جتنے وقت میں وہ دنیا میں عصر کی نماز پڑھتا تھا اس کے لیے قیامت کا دن اس سے بھی خفیف ہوگا۔ ( مسند احمد ج ٣ ص ٥ ٧ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٨ رقم الحدیث : ١١٧١٧، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤١٨ ھ، اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ اور اس کا شیخ دراج بن سمعان ضعیف راوی ہیں، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٣٩٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٣٤، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٢٧، حافظ عسقلانی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، کامل ابن عدی ج ٣ ص ٣٩٠، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٠٨١٤، البعث والنثور رقم الحدیث : ١٢٦ )

القرآن – سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 4

Exit mobile version