Site icon اردو محفل

فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 5

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا ۞

ترجمہ:

سو آپ صبر جمیل فرمایئے

المعارج : ٥ میں فرمایا : سو آپ صبر جمیل فرمایئے۔

” صبر جمیل “ کا معنی

یعنی آپ اپنی قوم کی اذیتوں پر صبر جمیل فرمایئے۔ النضر بن الحارث، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے کے لیے اور قرآن مجید کی تکذیب کرنے کے لیے کہتا تھا : آپ جس عذاب سے ہم کو ڈرا رہے ہیں وہ آج ہی لے آیئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی باتوں سے اذیت پہنچتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ ان باتوں پر صبر جمیل فرمایئے۔

صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں، جس میں صبر کرنے والا بےقراری کا اظہار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے دکھ کی شکایت کسی اور سے نہ کرے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ صبر جمیل یہ ہے کہ جس شخص پر مصیبت آئی وہ لوگوں کے ساتھ اس طرح رہے کہ اس کے ظاہر حال سے یہ پتہ نہ چلے کہ اس پر کوئی مصیبت آچکی ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 5

Exit mobile version