وہ اس کو پکارے گی جس نے ( حق سے) پیٹھ پھیری اور اعراض کی
تفسیر:
دوزخ کے بلانے کی توجیہات
المعارج : ١٨۔ ١٧ میں فرمایا : وہ اس کو پکارے گی جس نے ( حق سے) پیٹھ پھیری اور اعراض کیا۔ جس نے مال جمع کیا اور حفاظت سے رکھا۔
اس آیت میں بتایا کہ دوزخ کی آگ پکارے گی حالانکہ نداء کرنا اور پکارنا تو ذی روح کا کام ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ زبان حال سے پکارے گی، دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آگ کے جسم میں صراحتہً یہ کلام پیدا کر دے گا کہ وہ کہے گی : اے افرو ! میرے پاس آئو، اے منافقوں ! میرے پاس آئو، تیسرا جواب یہ ہے کہ دوزخ کے پکارنے سے مراد یہ ہے کہ دوزخ کے فرشتے پکاریں گے اور یہاں مضاف مخدوف ہے، جیسے ” وسئل القریۃ “ ( یوسف : ٨٦) ہے۔