المعارج ٩ : میں فرمایا : اور پہاڑ رنگ برنگے اون کی طرح ہوجائیں گے۔
اس آیت میں ” العھن “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے، مختلف رنگ کے اون، حسن بصری نے کہا : اس سے مراد ہے : سرخ رنگ کا اون اور ” العھن “ دھنکی ہوئی روئی کو بھی کہتے ہیں، اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب پہاڑ متغیر ہوں گے تو پہلے ریت کے ذرات کی طرح ہوجائیں گے، پھر دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجائیں گے، پھر باریک غبار کی طرح ہوجائیں گے۔