Site icon اردو محفل

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 1

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو عذاب سے ڈرائیں، اس سے پہلے کہ ان کی طرف درد ناک عذاب آئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو عذاب سے ڈرائیں، اس سے پہلے کہ ان کی طرف درد ناک عذاب آئے۔ ( نوح نے) کہا : اے میری قوم ! میں نے تمہیں عذاب سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو۔ وہ تمہارے بعض گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دے گا، بیشک جب اللہ کی معین کردہ مدت آجائے گی تو اس کو مؤخر نہیں کیا جائے گا، کاش ! تم جانتے (نوح : ٤۔ ١)

حضرت نوح (علیہ السلام) کی زندگی کے اہم عنوانات

قرآن مجید کی متعدد سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق آیات ہیں، خصوصاً سورة الاعراف اور سورة ھود میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا بہت مفصل ذکر ہے، ہم نے تبیان القرآن جلد ٤ میں اور جلد ٥ میں ان آیات کی جو تفسیر کی ہے، ہم ان کے عنوانات کا ذکر کررہے ہیں :

حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام و نسب اور ان کی تاریخ ولادت (ج ٤ ص ١٩٠) بت پرستی کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ (ص ١٩١) حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا بیان ( ص ١٩٢) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان کا عذاب (ص ١٩٣) ، طوفان نوح اور کشتی کی بعض تفاصیل (ص ١٩٤) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت پر قوم نوح کیا ستعاد اور تعجب کی وجوہات (ص ١٩٦) ، قوم نوح کے استبعاد اور تعجب کا ازالہ ( ص ١٩٧)

اور سورة ھود کی تفسیر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق یہ عنوانات ہیں :

حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ (ج ٥ ص ٥٢٣ ) ، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے قصص بیان کرنے کی حکمت (ص ٥٢٣ ) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں کے شبہات (ص ٥٢٣ ) ، بشر کا معنی اور نبی کے بشر ہونے کی حقیقت (ص ٥٢٤ ) ، نبی کی خصوصیات (ص ٥٢٥ ) ، فرشتہ کو نبی نہ بنانے کی وجوہ ( ص ٥٢٧ ) ، پس ماندہ لوگوں کا ایمان لانا نبوت میں طعن کا موجب نہیں (ص ٥٢٨ ) ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اغنیاء کی بہ نسبت فقراء کا مقرب ہونا ( ص ٥٢٨)

تبلیغ دین پر اجرت طلب نہ کرنے سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی نبوت پر استدلال ( ص ٥٣٠) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی ذات سے اللہ کے خزانے اور علم غیب کی نفی کرنا اور اس کی توجیہ ( ص ٥٣٢) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات پر کفار کے اعتراضات (ص ٥٣٣) ، کشتی بنانے کی کیفیت اور اس کی مقدار اور اس کو بنانے کی مدت کی تفصیل (ص ٥٤٤ ) ، کشتی بنانے کا مذاق اڑانے کی وجوہ ( ص ٥٤٥ ) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے جواباً مذاق اڑانے کا محمل (ص ٥٤٥ ) ، تنور کا معنی اور اس کے مصداق کی تحقق (ص ٤٥٤ ) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہونے کی تفصیل (ص ٥٤٦ ) ، ہر کام کے شروع سے پہلے اللہ کا نام لینا (ص ٥٤٧ ) ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کشتی پر کیوں بلایا جب کہ وہ کافر تھا ؟ (ص ٥٤٨ ) ، جودی پہاڑ پر کشتی ٹھہرنے کی تفصیل (ص ٥٥١ ) ، ان بچوں اور جانوروں کا کیا قصور تھا جن کو طوفان میں غرق کیا گیا ؟ (ص ٥٥٢ ) ، اللہ تعالیٰ کسی کافر پر رحم نہیں فرمائے گا (ص ٥٥٣ ) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے سوال پر سید ابو الاعلیٰ مودودی کا تبصرہ ( ص ٥٥٦ ) ، اللہ تعالیٰ کسی کافر پر رحم نہیں فرمائے گا، (ص ٥٥٣) حضرت نوح (علیہ السلام) کے سوال پر سید ابو الاعلیٰ مودودی کا تبصرہ ( ص ٥٥٦ ) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کے متعلق جمہور مفسرین کی توجیہ (ص ٥٥٧ ) ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور برکتوں کا معنی ( ٥٥٩ )

سورۃ العنکبوت کی تفسیر کے درج ذیل عنوانات بھی قابل غور ہیں :

اس کی تحقیق کہ طوفان نوح تمام زمین پر آیا تھا یا بعض علاقوں پر ( ج ٩ ص ٥٥ ) ، طوفان نوح کا تمام روئے میں کو محیط ہونا (ص ٥٥ ) ، طوفان نوح کا صرف بعض علاقوں پر آنا ( ص ٥٧ )

نوح : ١ میں فرمایا : بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو عذاب سے ڈرائیں، اس سے پہلے کہ ان کی طرف درد ناک عذاب آئے۔

آیا حضرت نوح تمام لوگوں کے رسول تھے یا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول تھے جن کو تمام روئے زمین والوں کی طرف بھیجا گیا۔ ( الجامع الاحکام القرآن : جز ١٨ ص ٢٧٣)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن مالکی قرطبی مالکی ٦٦٨ ھ نے سورة نوح کی تفسیر کا آغاز مذکور الصدر حدیث سے کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو تمام روئے زمین والوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، اس حدیث کو علامہ سیوطی نے ابن عساکر کے حوالے سے ذکر کیا ہے، مگر اس میں صرف اتنا ہے کہ سب سے پہلے جس نبی کو بھیجا گیا وہ حضرت نوح ہیں۔ ( الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٢٨٤٥) نیز علامہ قرطبی کا یہ کہنا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا اور جس نبی کو نمام روئے زمین والوں کی طرف بھیجا گیا وہ صرف ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور یہ حقیقت قرآن مجید کی آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، قرآن مجید میں ہے :

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ (الفرقان : ١)

با برکت ہے وہ ذات جس نے اپنے مقدس بندے پر فرقان کو نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے عذاب سے ڈرانے والے ہوجائیں۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّـلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْراً (سبا : ٢٨) ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشارت دینے اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

اور حسب ذیل احادیث میں بھی اس کی صراحت ہے کہ صرف آپ کو ہی زمین کے تمام لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، (١) ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کردیا گیا ہے (٢) میرے لیے تمام روئے زمین نماز کی جگہ اور طہارت کا آلہ بنادی گئی ہے، پس میری امت میں سے جس شخص پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہ وہیں نماز پڑھ لے (٣) اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال کیا گیا (٤) اور مجھے شفاعت (کبریٰ ) عطاء کی گئی ہے (٥) اور پہلے نبی کو ایک مخصوص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے :

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢١ )

نیز صحیح مسلم میں ایک اور سند سے یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مھے انبیاء (علیہم السلام) پر چھ وجوہ سے فضلیت دی گئی ہے، مجھے جوامع الکلم ( وسیع المعنی کلام) دیئے گئے ہیں اور رعب سے میری مدد کی گئی ہے اور مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو آلہ ٔ طہارت اور مسجد بنادیا گیا ہے، اور مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، اور مجھ پر نبوت کو ختم کردیا گیا ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢٣ )

حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ

اس آیت میں فرمایا ہے : اس سے پہلے کہ ان کی طرف درد ناک عذاب آئے، مقاتل نے کہا : اس سے مراد ہے : اس سے پہلے کہ ان کو طوفان سے غرق کردیا جائے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے، ایک تفسیر یہ ہے کہ آپ ان کو مطلقاً آخرت کے عذاب سے ڈرایئے، حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور ان کو آخرت کے عذاب سے ڈراتے تھے لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا، وہ آپ کو اس قدر زدو کو ب کرتے تھے کہ آپ بےہوش ہوجاتے تھے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًاط فَاَخَذَہُمُ الطُّوْفَانُ وَہُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : ١٤)

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، وہ ان میں ساڑھے نو سو سال رہے، پس ان کو طوفان نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظلم کرنے والے تھے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 1

Exit mobile version