المعارج : ٢٨ میں فرمایا : بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں۔
تمام نیک اعمال کرنے اور تمام برے اعمال سے بچنے کے باوجود اللہ کے عذاب کا خوف
اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے رب کے تمام احکام کو بجا لائے اور اس کے منع کیے ہوئے تمام کاموں میں رک جائے، پھر بھی اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتا رہے، اور وہ اپنے نیک اعمال پر مطمئن نہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے جلال ذات سے ڈرتا رہے، اسے کیا پتہ ہے کہ اس کے یہ نیک اعمال قبول ہوں گے یا نہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی تقصیر ہوگئی ہو جس سے اس کی ساری نیکیاں ضائع ہوجائیں اور وہ عذاب کا مستحق ہوجائے، یہی وجہ ہے کہ جلیل القدر صحابہ کرام بھی باوجود کثرت عبادت و ریاضت کے خوف خدا سے لرزتے رہتے تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا : کاش ! میں یہ تنکا ہوتا، کاش ! میں پیدا نہ کیا جاتا، کاش ! میری ماں مجھے نہ جنتی، کاش ! میں کچھ بھی نہ ہوتا، کاش ! میں بھولا بسرا ہوتا۔
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر (رض) نے کہا : کاش ! میں ایک درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا، مجھے پسند ہے کہ میں پیدا نہ یا جاتا۔ ( مسند احمد ج ٥ ص ١٧٣، حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٢٣٦۔ ٢٣٧، المستدرک ج ٤ ص ٥٧٩، مصنف ابن ابی شبہ ج ٢ ص ٢٥٠ ) ۔
حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم ان چیزوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روئو زیادہ اور تم بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل نہ کرو، اور تم اللہ کو پکارتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جائو ( حضرت ابو ذر غفاری (رض) نے کہا :) میں ضرور یہ پسند کرتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣١٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٩٠، مسند احمد ج ٥ ص ١٧٣)
حضرت ابن الزبیر رصی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : مجھے پسند ہے میں بھولی بسری ہوتی۔ ( مسند احمد ج ١ ص ١٧٦، مصنف عبد الرزاق ج ١١ ص ٣٠٧ قدیم، مصنف ابن بی شیبہ رقم الحدیث : ٣٤٧٢٤، حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٤٥٢، الطبقات الکبریٰ ج ٧ ص ٧٥۔ ٧٤ قدیم)
اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : مجھے پسند ہے کہ میں درخت ہوتی جس کو کاٹ دیا جاتا، مجھے پسند ہے کہ مجھ کو پیدا نہ کیا جاتا۔ ( الطبقات الکبریٰ ج ٧ ص ٧٥، کتاب الزہد لا حمد رقم الحدیث : ١٦٤، کتاب الزہد لا بن المبارک رقم الحدیث : ٨، کتاب الزہد للوکیع رقم الحدیث : ١٦١، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٤٧٢٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٦ ھ)
الضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : کاش ! میں پرندہ ہوتا، میرے بازوئوں میں پر ہوتے۔ (کتاب الزہد لاحمد رقم الحدیث : ١٥٦، کتاب الزہد للوکیع رقم الحدیث : ١٦٢ )
یعقوب بن زید بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ ایک پرندہ درخت پر بیٹھا ہوا ہے تو انہوں نے کہا : کاش ! میں اس پرندہ کی جگہ ہوتا۔ ( مصنف ابن بی شیبہ ج ٢ ص ٢٤٥، کتاب الزہد للوکیع رقم الحدیث : ١٦٥ )