وہ تمہارے بعض گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تمہیں ایک معین مدت تک مہلتے دے گا، بیشک جب اللہ کی معین کردہ مدت آجائے گی تو اس کو مؤخر نہیں کیا جائے گا، تم جانتے
تفسیر:
نوح : ٤ میں فرمایا : وہ تمہارے بعض گناہوں کو معاف فرما دے گا، اور تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دے گا، بیشک جب اللہ کی معین کردہ مدت آجائے گی تو اس کو مؤخر نہیں کیا جائے گا، کاش ! تم جانتے۔
بعض گناہوں کی معافی کی بشارت کی توجیہ
اللہ سبحانہٗ نے ان کو تین کاموں کو مکلف کیا، اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرو اور حضرت نوح کی اطاعت کرو، اور اس پر عمل کرنے کے بعد ان سے دو انعاموں کا وعدہ فرمایا : (١) اللہ ان کے بعض گناہوں کو معاف فرما دے گا، یعنی ان کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا (٢) ان سے دنیا کے عذاب نہیں ہوگا (٢) ان سے دنیا کے عذاب اور مصائب کو بھی بہ امکان دور فرما دے گا اور ان کی موت کو بہ قدر امکان مؤخر کر دے گا۔
اس آیت میں ’ ’ من ذنوبکم “ فرمایا ہے، یعنی تمہارے بعض گناہوں کو معاف فرما دے گا یعنی ان کے تمام گناہ معاف نہیں فرمائے گا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان لانے سے پہلے کے گناہ کو صرف ایمان لانے سے ہی معاف ہوجاتے ہیں، پھر قابل معافی جو گناہ بچے وہ ایمان لانے کے بعد ہی گناہ ہیں اور وہ کل گناہوں کا بعض ہی ہیں، حدیث میں ہے :
حضرت عمرو بن العاض رصی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنے ہاتھوں کو کھینچ لیا، آپ نے پوچھا : اے عمرو ! کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : میرا ارادہ ہے کہ میں ایک شرط لگائوں، آپ نے فرمایا : تم کیا شرط لگائو گے ؟ میں نے عرض کیا : میری معافی ہوجائے، آپ نے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اسلام اس سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور حج اس سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢١ )
دوسرا جواب یہ ہے کہ ان بعض گناہوں سے وہ گناہ مراد ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ جن گناہوں کا تعلق حقوق العباد کے ساتھ ہے وہ گناہ اس وقت معاف ہوں گے جب اصحاب حقوق ان کو معاف کردیں گے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ ان بعض گناہوں سے وہ گناہ مراد ہیں، جن پر بندوں نے استغفار کیا ہوا اور باقی ماندہ گناہ اللہ سبحانہٗ کی مشیت کی طرف مفوض ہیں، وہ چاہے تو ان گناہوں کی سزا دینے کے بعد ان کو معاف فرما دیئے، چاہے تو کسی نبی، ولی یا فرشتہ کی سفارش سے ان کو معاف فرما دے اور چاہے تو اپنے فضل محض سے ان کو معاف فرما دے۔
چوتھا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ” من “ زائدہ ہے یا بیانیہ ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا، لیکن یہ جواب نہیں ہے کیونکہ بلیغ کے کلام میں کوئی لفظ زائد اور بےمعنی نہیں ہوتا، اور ” من “ بیانیہ اس وقت ہوتا ہے جب اس سے پہلے جنس کا ذکر ہو یا کوئی مہبم لفظ ہو۔
اس کے بعد فرمایا : اور تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دے گا، بیشک جب اللہ کی معین کردہ مہلت آجائے گی تو اس کو مؤخر نہیں کیا جائے گا۔
تقدیر مبرم اور تدیر معلق
اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت کے پہلے حصہ میں فرمایا ہے، اللہ تمہیں مہلت دے گا یعنی موت یا عذاب کو مؤخر کر دے گا اور دوسرے حصہ میں فرمایا ہے : اللہ کی معین کردہ مہلت مؤخر نہیں ہوتی اور یہ صریح تناقض اور تضاد ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی دو قسمیں ہیں : تقدیر مبرم اور تقدیر معلق، تقدیر مبرم وہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور وہی در حقیقت اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور اس میں تبدیلی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم بد جائے اور یہ محال ہے کیونکہ علم بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کا علم نہ ہو بعد میں اس کا علم ہو اور یہ محال ہے، اس لیے تقدیر مبرم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، قرآن مجید میں ہے :
لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللہ ِ (یونس : ٦٤) اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
اور تقدیر معلق کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کام کو دوسرے کام پر موقوف کر کے لوح ِ محفوظ میں لکھ دیا ہے، مثلاً اگر تمام قوم نوح ایمان لے آئی تو ان پر طوفان کا عذاب نہیں ٓئے گا اور اگر تمام قوم ایمان نہیں لائی تو ان پر عذاب آجائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کو قطعیت سے علم ہوتا ہے کہ کیا ہوگا اور وہی ام الکتاب ہے، اس کا ثبوت اس آیت میں ہے :
یَمْحُوا اللہ ُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِتُج وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ ۔ (الرعد : ٣٩) اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا یہ اور جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔
اس کا ثبوت حسب ذیل میں ہے :
حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تقدیر کو صرف دعا بدل سکتی ہے اور عمر میں صرف نیکی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٩)
اس تقدیر سے مراد معلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی نفع کو کسی بندہ کی دعا پر موقوف کردیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو قطعی طور پر علم ہوتا ہے کہ وہ بندہ دعا کرے گا یا نہیں اور اس کو وہ علم ہی تقدیر مبرم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
ابو خزامہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ بتایئے کہ ہم جو دم کراتے ہیں یا دوا سے علاج کرتے ہیں یا پرہیز کرتے ہیں، آیا اس سے اللہ کی تقدیر بدل جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦٥، سنن ابن مجہ رقم الحدیث : ٣٤٣٧، مسند احمد ج ٣ ص ٤٢١ )
یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کردیا ہے کہ اس مرض میں اس دوا سے مثلاً شفاء ہوگی، اگر دوا کی تو شفا ہوگی ورنہ نہیں اور یہ تقدیر معلق ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو قطعی طور پر عمل ہوتا ہے کہ کیا ہوگا اور وہی تقدیر مبرم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔