Site icon اردو محفل

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِىۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًا سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 5

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِىۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًا ۞

ترجمہ:

( نوح نے) کہا : اے میرے رب ! بیشک میں نے اپنی قوم کو دن اور رات دعوت دی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (نوح نے) کہا : اے میرے رب ! بیشک میں نے اپنی قوم کو دن اور رات دعوت دی۔ پس میری دعوت سے یہ لوگ اور زیادہ بھاگنے لگے اور بیشک میں نے جب بھی ان کو بلایا تاکہ ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیے اور ضد کی اور بہت زیادہ تکبر کیا۔ پھر میں نے ان کو بلند آواز سے بلایا۔ پھر میں نے ان کو علی الاعلان بھی بلایا اور خفیہ طریقہ سے بھی۔ پس میں نے ان سے کہا : تم اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا۔ اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا، اور تمہارے لیے باغات اگائے گا اور تمہارے لیے دریا بہائے گا۔ ( نوح : ١٢۔ ٥)

ہدایت اور گم راہی کا اللہ کی تقدیر سے ہونا

نوح : ٦۔ ٥ میں بتایا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو مسلسل دن اور رات، خلوت اور جلوت میں دین کی تبلیغ کرتے رہے، لیکن ان کی تبلیغ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ الٹا اثر ہوا، بجائے اس کے کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف رغبت کرتے وہ ان سے متنفر ہوگئے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا ملنا اور گم راہی میں مبتلا ہونا محض اللہ کی تقدیر اور اس کی اثر آفرینی سے ہوتا ہے۔ ایک عالم ایک مجلس میں وعظ کرتا ہے، ایک شخص کے دل پر اس وعظ کا اثر ہوتا ہے اور وہ اس کی نصیحت کو قبول کر کے راہ راست پر آجاتا ہے اور دوسرے شخص پر اس کے برعکس اثر ہوتا ہے، وہ اس عالم سے اور متنفر ہوجاتا ہے، اور اس کے وعظ اور نصیحت کے خلاف اپنے دل میں شبہات کے تانے بانے بننے لگتا ہے اور زیادہ شدت اور تندی سے اس کا رد کرتا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 5

Exit mobile version