Site icon اردو محفل

وَاللّٰهُ اَنۡۢبَتَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ۙ‏ – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 17

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ اَنۡۢبَتَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا ہے.

نوح : ١٨۔ ١٧ میں فرمایا : اور اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا ہے۔ پھر تم کو اسی زمین میں لوٹائے گا اور دوبارہ تم کو نکالے گا۔

انسان کو زمین سے پیدا کرنے کی توجیہات

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے : ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو نطفہ سے پیدا کیا ہے اور قرآن مجید میں بھی یہی فرمایا ہے۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ (النحل : ٤) انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔

انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج (الدھر : ٢) بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہمارے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور وہ ہماری اصل ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے تو چونکہ اصل انسان کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے تو اس وجہ سے فرمایا : ہم نے تم کو اس زمین سے پیدا کیا ہے، ایک اور سورت میں اللہ تعالیٰ نے ہماری خلقت کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے :

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰـہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰـمَ لَحْمًاق ثُمَّ اَنْشَاْنٰـہُ خَلْقًا اٰخَرَط فَتَبٰـرَکَ اللہ ُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ (المؤمنون : ١٢۔ ١٤)

اور بیشک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا فرمایا۔ پھر ہم نے اس کو مضبوط جائے قرار میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے نطفہ کو جما ہوا خون بنادیا، پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا، پھر گوشت کی بوٹی سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں کو گوشت پہنا دیا، پھر ہم نے ( اس میں روح ڈال کر) ایک اور مخلوق بنائی، سو اللہ بڑی برکت والا ہے جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ انسان کی پیدائش نطفہ اور حیض کے خون سے ہوتی ہے، اور نطفہ اور حیض کا خون دونوں غذا سے بنتے ہیں اور غذا گوشت اور سبزیوں سے حاصل ہوتی ہے اور گوشت بھی حیوانوں کے سبزہ کھانے سے بنتا ہے تو غذا کا رجوع اور مآل سبزیوں کی طرف ہے، اور سبزیاں پانی اور مٹی کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہیں تو خلاصہ یہ ہے کہ نطفہ اور حیض کا خون زمین کی مٹی سے پیدا ہوتا ہے، لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے۔

اس اعتراض کا تیسرا جواب یہ ہے کہ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، اس کے اوپر اس کی قبر کی مٹی چھڑ کی جاتی ہے، ابو عاصم نے کہا : تم حضرت ابوبکر اور عمر کے لیے اس جیسی فضلیت نہیں پا سکو گے، کیونکہ ان دونوں کی مٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مٹی سے ہے۔

( حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٣١٨۔ رقم الحدیث : ٢٣٨٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جانا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا۔

( مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٦٥٣١، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت، ٣ ١٤٠ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، فرشتہ زمین سے مٹی لے کر اس کی ناف کاٹنے کی جگہ پر رکھتا ہے، اس مٹی میں اس کی شفاء ہوتی ہے اور اسی میں اس کی قبر ہوتی ہے۔ ( مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٦٥٣٣، مطبوعہ بیروت)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے، اس کی ناف میں وہ مٹی ہوتی ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے، اور جب وہ ارذل عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس مٹی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اس مٹی میں اس کو دفن کیا جاتا ہے اور میں اور ابوبکر اور عمر ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور اسی مٹی سے ہم اٹھائے جائیں گے۔ (فردوس الاخبار ج ٤ ص ٢٣٥، اللئالی المصنوعۃ ج ١ ص ٢٨٦)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور ابوبکر اور عمر ایک مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں۔ (فردوس الاخبار ج ٢ ص ٣٠٥۔ رقم الحدیث : ٢٧٧٥، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٢٦٨٣، تنزیہ الشریعۃ ج ١ ص ٣٤٩ )

القرآن – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 17

Exit mobile version