أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِّنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ ؕ وَمَنۡ يُّعۡرِضۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهٖ يَسۡلُكۡهُ عَذَابًا صَعَدًا ۞
ترجمہ:
تا کہ اس میں ہم ان کی آزمائش کریں، اور جو اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا تو وہ اس کو چڑھتے ہوئے سخت عذاب میں داخل کر دے گا
تفسیر:
الجن : ١٧ میں فرمایا : تاکہ اس میں ہم ان کی آزمائش کریں، اور اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا تو وہ اس کو چڑھتے ہوئے سخت عذاب میں داخل کر دے گا۔
کفار اور فجار کو ڈھیل دینا اور مال دنیا کی خرابیاں
سعید بن المسیب، عطاء بن ابی رباح، ضحاک، قتادہ، مقاتل، عطیہ، عبید بن عمیر اور الحسن نے کہا : اللہ کی قسم ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام کو سننے والے اور اطاعت کرنے والے تھے، ان کے اوپر قیصرو کسریٰ ، المقوقس اور النجاشی کے خزانے کھول دیئے گئے، پھر ان کی آزمائش کی اور ان کے بعد کے لوگ اس آزمائش میں پورے نہیں اترے اور انہوں نے خلیفہ برحق حضرت عثمان (رض) کے خلاف خروج کیا اور ان کے مکان کا محاصرہ کیا اور ان کو شہید کر ڈالا۔
اور ہمارے دور میں سرمایہ کی بہت فراوانی ہے، اور اکثر اسلامی ملکوں میں مسلمان بہت عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، پاکستان میں غیر ملکی ساختہ کاروں کی اتنی کثرت ہے کہ اب ٹریفک کو رواں دواں رکھنا مشکل ہوگیا ہے، لوگ ہزار ہزار گز کے بنگلوں میں رہتے ہیں، لگژری اپارٹمنٹ خریدتے ہیں، بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز میں خریداری کرتے ہیں، گھروں میں فریج اور او ون کی کثرت ہے اور سامان تعیش بہت زیادہ ہے، روپے پیسے کی کثرت سے فحاشی اور بےحیائی بھی بہت بڑھ گئی ہے، اب کم گھر ٹیوی اور وی سی آر سے خالی ہوتے ہیں اور زیادہ جوش حال لوگ ڈش کے ذریعہ غیر ملکی چینلوں پر عریاں فلمیں دیکھتے ہیں۔ روپے پیسے کی کثرت سے لوگ جوئے اور سٹے میں رقمیں لگاتے ہیں۔ سعودی شہزادے اور عرب امارات کے شیوخ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے کلبوں اور ہوٹلوں میں ایک ایک میز پر ہزاروں ڈالر اور پونڈ ہار کر اٹھتے ہیں اور ویٹریس کو سینکڑوں ڈالر اور پونڈ کی ٹپ دے دیتے ہیں، فضول خرچی کا یہ عالم ہے کہ محض شوقیہ ہر ماڈل کی نئی کاریں خریدتے ہیں اور ہزاروں ریال کے مہنگے عطریات اور پر فیومز خریدتے ہیں، گھوڑوں اور اونٹوں کی ریس پر لمبی لمبی رقوم کی شرطیں لگا کر ہار جاتے ہیں، حسین سے حسین کال گرل ان کے شبستان کی زینت ہوتی ہے، اور بازار اور شکروں کو خریدنے پر ہزاروں ریال اور درہم خرچ کرتے ہیں، اسی طرح ہر وڈیرہ اور رئیس شراب پیتا ہے، ان کے دیہاتوں اور مزارعین کی کسی لڑکی کی عزت، ناموس اور آبرو ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں، پیسے اور طاقت کے زور پر یہ اپنے ہر مخالف کو کچل دیتے ہیں، ان کے عشرت کدوں سے کسی مظلوم کی آواز باہر نہیں جاسکتی انہیں تو قانون کا بھی ڈر نہیں، ان کو اسلام کا ڈر کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کثرت سے مال دیا، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے اور عیاشیوں میں اور مال و دولت کی کثرت دے کر اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا اور یہ اس امتحان میں ناکام ہوگئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں ہی تو نہیں فرمایا تھا کہ مجھے تم پر شرک کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا مال دنیا کی کثرت کا خطرہ ہے، اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں :
حضرت عمرو بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) کو جزیہ وصول کرنے کیل لیے بھیجا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل بحرین سے صلح کی تھی، اور حضرت العلا بن حضری کو ان کے اوپر امیر بنادیا تھا، انصار کو جب ان کے آنے کی خبر پہنچی تو وہ صبح کی نماز کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے، آپ نماز سے فارغ ہو کر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا : میرا گمان ہے کہ تم کو ابو عبیدہ کے آنے کی خبر پہنچ گئی ہے اور یہ کہ وہ کچھ مال لے کر آئے ہیں، انہوں نے کہا : ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : پھر تم خوش ہو جائو اور اس چیز کی امید رکھو جس سے تم کو خوشی ہوگی، پس اللہ کی قسم ! مجھے تم پر فقر اور تنگ دستی کا خوف نہیں ہے، لیکن مجھے تم پر یہ خطرہ ہے کہ تم پر دنیا اس طرح کشادہ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر تم دنیا کے مال و دولت میں رغبت کرو گے جس طرح انہوں نے مال دنیا میں رغبت کی تھی اور مال دنیا تم کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام سے اس طرح غافل کر دے گا جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو غافل کردیا تھا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٢٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٦١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٦٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٩٧، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٨٧٦٦ )
حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے اور آپ نے اہل احد ( شہداء احد) کی نماز جنازہ پڑھی، پھر آپ واپس منبر پر آئے اور فرمایا : میں ( حشر کے دن) تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور بیشک میں اللہ کی قسم ! اپنے حوض کو ضرور اب بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے تمام روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں، اور بیشک اللہ کی قسم ! مجھے تم پر یہ خوف نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٦٠۔ ١٣٤٤، مسند احمد ٤ ص ١٤٩۔ ١٤٨ )
حضرت سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تم پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے، یہ وہ چیزیں ہیں : جو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے روئے زمین کی برکتوں سے نکالے گا ( یعنی کھیتوں سے غلبہ اور باغات سے پھل) آپ نے فرمایا : یہ دنیا کی تر و تازگی ہے ( الیٰ قولہ) بیشک یہ مال میٹھا ہے، جس نے اس مال کو حق کے ساتھ لیا اور حق کے راستوں میں خرچ کیا تو یہ مال اس کے لیے بہت اچھا ہے اور جس نے اس مال کو ناحق طریقہ سے لیا وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٢٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٥٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٩٥)
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مال و دولت کی نعمتیں اس لیے عطاء فرمائی ہیں کہ وہ ان کی آزمائشکرے، پس مال و دولت کا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور انعام ہے، تاکہ لوگوں پر یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کے احکام کی اطاعت اور اس کی عبادت کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سرکشی کرتا ہے، اور اللہ سبحانہٗ کی نعمتوں کو اس کی رضا اور خوشنودی میں خرچ کرتا ہے یا ان نعمتوں سے اپنی نفسانی خواہشوں کے تقاضے پورے کرتا ہے اور شیطان کو راضی کرتا ہے، اور جو انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت برے کاموں میں صرف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ فوراً اس پر گرفت نہیں کرتا، اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کے یہ کام صحیح اور درست ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ جی بھر کر گناہ کرے، پھر اللہ تعالیٰ اس سے اکٹھا حساب لے گا، قرآن مجید میں ہے : اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۔ نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْرٰتِط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ۔ (المؤمنون : ٥٥۔ ٥٦ )
کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم ان کے مال اور اولاد میں صرف اس لیے اضافہ کر رہے ہیں۔ کہ ان کی بھلائیاں ان کو جلد پہنچا دیں ؟ ( نہیں نہیں) بلکہ یہ سمجھ نہیں رہے۔
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِہِمْط اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًاج وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔ (آل عمران : ١٨٧)
کفایہ گمان نہ کریں کہ ہمارا ان کو ڈھیل دینا ان کی بہتری کے لیے ہے، بلکہ ہم ان کو اس لیے ڈھیل دیتے ہیں تاکہ وہ زیادہ گناہ کریں، اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
ہر چند کہ یہ آیت کفار کے لیے ہے، لیکن جو مسلمان اپنے فسق و فجور اور سرکشی سے تائب نہیں ہوتے اور اپنی ہٹ دھرمی پر اصرار کرتے ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے مہلت دینے کے قانون کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کفار اور فساق اور فجاز کو مہلت عطاء فرا اتا ہے، اور ان کو دنیا کی فراغت، خوش حالی، فتوحات اور مال اور اولاد کی کثرت سے نوازتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ان پر اللہ کا فضل ہو رہا ہے لیکن اگر وہ لوگ اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بعد، نیکی، اطاعت اور گناہوں سے اجتناب کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو ان کو مہلت ملی ہے اس سے ان کے گناہوں میں اضافہ ہی ہوگا اور بالآخر وہ دوزخ کے عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔
اللہ کے ذکر سے اعراض کا معنی
نیز اس آیت میں فرمایا : اور جو اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا تو وہ اس کو چڑھتے ہوئے سخت عذاب میں داخل کر دے گا۔
ابن زید نے کہا : اس آیت میں رب کے ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور اس سے اعراض کرنے کا معنی ہے : اس کو قبول نہ کرنا اور یہ کافروں کا طریقہ ہے، یا ان آیات کے احکام پر عمل نہ کرنا، جیسا کہ فساق مؤمنین کی روش ہے۔
اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غفلت برتنا اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کرنا ہے۔
” صعداً “ کا معنی
اور اس آیت میں ” عذابا صعدا “ ہے ” صعداً “ کا معنی ہے : چڑھنا، اور چونکہ انسان کو چڑھنے میں سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور بہت مشقت ہوتی ہے، اس لیے یہاں اس سے مراد ہے : سخت مشقت والا عذاب ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :” صعداً “ جہنم میں بہت عظیم پہاڑ ہے، جب بھی وہ اس پر اپنا ہاتھ رکھیں گے ان کا ہاتھ پگھل جائے گا، حضرت ابن عباس سے یہ بھی روایت ہے کہ ” صعداً “ کا معنی ہے : مشقت والا عذاب، اور یہ لغت عربی کے موافق یہ، لغت میں ” صعداً “ کا معنی مشقت ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا :
ما تصعدنی شیئی ما تصعدتنی خطبۃ النکاح ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٣)
مجھے سی کام میں اتنی مشقت نہیں ہوتی جتنی مشقت نکاح کا پیغام دینے میں ہوتی ہے۔
عذاب کی صفت ” صعداً “ اس لیے لائی گئی ہے کہ عذاب، عذاب میں مبتلا شخص پر چڑھ کر اس پر غالب ہوجائے گا اور وہ اس کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔
عکرمہ نے کہا : ” صعداً “ دوزخ میں ایک چکنا پتھر ہے، دوزخی کو اس پر چڑھنے کا مکلف کیا جائے گا اور وہ اس پر چڑھ نہیں سکے گا، بار بار پھسلے گا، پھر اس کو زنجیروں سے باندھ کر آگے سے کھینچا جائے گا اور پیچھے سے اس کو اوپر لوہے کے گرز مارے جائیں گے، پھر جب وہ اس پتھر کی چوٹی پر پہنچ جائے گا تو اس کو اوپر سے پھر نیچے پھینک دیا جائے گا، اور اس کو پھر دوبارہ اس پتھر کے اوپر چڑھنے کا مکلف کیا جائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا اور یہ ” صعداً “ کا وہ عذاب ہے جس میں اس کو داخل کیا جائے گا۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٣، الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٠ )
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کا دنیا میں تنگی کا سبب ہونا
اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے :
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی۔ (طہٰ : ١٢٤ )
اور جو میری یاد سے اعراض کرے گا، اس کی زندگی میں تنگ رہے گی اور ہم قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیں گے
بعض مفسرین نے کہا : اس تنگی سے مراد قبر کا عذاب ہے اور بعض نے کہا : اس سے مراد وہ بےچینی، بےکلی اور اضطراب ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل بڑے بڑے سرمایہ دار مبتلا ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جس شخص کے پاس مال ہو خواہ کم ہو یا زیادہ اور وہ اس مال کو نیک کاموں میں صرف نہ کرے، اس کی زندگی تنگی میں گزرے گی، کیونکہ جو مال دار لوگ اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں، ان سے قناعت سلب کرلی جاتی ہے، ان کی حرص اور مال کی پیاس بڑھتی جاتی ہے، وہ کبھی سیراب نہیں ہوتے اور ان کو ہر وقت اپنے مال پر کسی آفت اور مصیبت کا خطرہ لگا رہتا ہے، وہ چین کی نیند سو نہیں سکتے، خواب آور گولیوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے، لیکن ان کو سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا، ان کے کاروباری حریف بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے مسابقت کی جنگ میں ان کا بلڈ پریشر بڑھتا رہتا ہے اور یہی اللہ کی یاد سے غافل رہنے والے مال داروں کی زندگی کی وہ تنگی ہے جس میں وہ آئے دن مبتلا رہتے ہیں۔ یہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنگی سے مرادان کے خون کی شریانوں کا تنگ ہونا مراد ہو، جس کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، انجائنا ہوجاتا ہے، دل کے دورے پڑھتے ہیں اور فالج کا خطرہ ہوتا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 17
