أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡهُدٰٓى اٰمَنَّا بِهٖ ؕ فَمَنۡ يُّؤۡمِنۡۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخۡسًا وَّلَا رَهَقًا ۞
ترجمہ:
اور بیشک ہم نے جیسے ہی ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے، سو جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا وہ نہ کسی خبر میں کمی پائے گا نہ کسی شر میں اضافہ
تفسیر:
الجن : ١٣ میں فرمایا : (جنات نے کہا) اور بیشک ہم نے جیسے ہی ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے، سو جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا وہ نہ کسی خیر میں کمی پائے گا نہ کسی شر میں اضافہ۔
مشکل الفاظ میں معانی
اس آیت میں ” بخس “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : نقصان اور کمی اور ” رھق “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : حد سے تجاوز عدوان اور بہت زیادہ گناہ کرنا۔
اس آیت کا معنی ہے : جب ہم نے قرآن کریم کی آیات سنیں تو ہم نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تصدیق کی، اس آیت سے واضح ہوگیا کہ ہمارے نبی انسانوں اور جنات دونوں کی طرف مبعوث تھے، اور اللہ تعالیٰ نے جنات میں سے کسی رسول کو نہیں بھیجا اور نہ بادیہ نشینوں میں سے کسی کو رسول بنایا ہے اور نہ عورتوں میں سے کسی کو رسول بنایا ہے، قرآن مجید میں ہے :
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ مِّنْ اَہْلِ الْقُرٰی (یوسف، ١٠٩)
اور ہم نے آپ سے پہلے شہر والوں میں جتنے رسول بھیجے وہ سب مروی تھے جن کی طرف ہم وحی فرماتے تھے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : جو شخص اپنے رب پر ایمان لائے گا اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی نہ اس کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 13
