أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنَّا دُوۡنَ ذٰلِكَؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ۞
ترجمہ:
اور بیشک ہم میں سے چند نیک ہیں اور کچھ اس کے خلاف ہیں، اور ہم مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں
تفسیر:
الجن : ١١ میں فرمایا : جنات نے کہا : اور بیشک ہم میں سے چند نیک ہیں اور کچھ اس کے خلاف ہیں، اور ہم مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
جنات کے فرقے
اس آیت میں ” قددا “ کا لفظ ہے، یہ ” فدۃ “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : کچے چمڑے کا ٹکڑا، اور ” قدد “ کا معنی ہے : متعددٹکڑے، یعنی متعدد فرقے۔
اس کا معنی ہے : ہم میں سے چند جنات نیک ہیں اور دوسرے اس سے کم درجہ کے ہیں، اور کم درجہ کے جنات سے مراد عام ہے : خواہ وہ نیکی میں کم درجہ کے ہوں یا وہ فاسق اور بدکار ہوں۔
نیز جنات نے کہا : ہم مختلف قروں میں بٹے ہوئے ہیں، سدی نے کہا : یعنی جنات میں بھی انسانوں کی طرف مختلف عقائد کے حاملین ہیں، ان میں مرجئہ، قدریہ، روافض اور خوارج ہیں۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧١)
ضحاک نے کہا : ان میں مومن متقی بھی ہیں اور مومن فاسق بھی ہیں، المسیب نے کہا : ان میں یہود، نصاریٰ ، مجوس بھی ہیں اور مسلمان بھی ہیں، اور ان میں وہ جنات بھی ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ایمان لائے تھے اور وہ بھی ہیں جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ١٥)
اسی طرح یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سنی بھی ہوں اور دیوبندی اور وہابی بھی ہوں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 11
