Site icon اردو محفل

وَّاَنْ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَى الطَّرِيۡقَةِ لَاَسۡقَيۡنٰهُمۡ مَّآءً غَدَقًا سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 16

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنْ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَى الطَّرِيۡقَةِ لَاَسۡقَيۡنٰهُمۡ مَّآءً غَدَقًا ۞

ترجمہ:

اور اگر وہ راہ راست پر رہتے تو ہم انہیں کثیر پانی سے سیراب کرتے

تفسیر:

الجن : ١٦ میں فرمایا : اور اگر وہ راہ راست پر رہتے تو ہم انہیں کثیر پانی سے سیراب کرتے۔

استغفار کرنے سے دنیا اور آخرت کی نعمتوں کا ملنا

یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر یہ ( کفار مکہ) ایمان لے آتے تو ہم ان پر دنیا کشادہ کردیتے اور ان کے رزق میں وسعت کردیتے۔

اس آیت کا پہلے جملے پر عطف ہے یعنی میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے قرآن سنا۔۔۔۔۔ اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر یہ کفار مکہ ایمان لے آتے تو ہم ان پر دنیا کشادہ کردیتے۔

اس آیت میں ” غدق “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : کثیر پانی، جس باغ میں پانی بہت زیادہ ہو اس کو ” روضۃ مغدقۃ “ کہتے ہیں اور جب بارش بہت زیادہ ہو تو اس کو ” مطر مغدوق “ کہتے ہیں، اور کثیر پانی سے کیا مراد ہے، اس میں تین قول ہیں :

اس سے جنتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جنتوں کے نیچے دریا بہتے ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بارش ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مرادعام منافع اور فوائد ہیں کیونکہ پانی دنیا میں ہر خیر کی اصل ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ کفار مکہ ایمان لے آئے اور راہ راست پر چلے تو ان کی دنیا اور آخرت کی ہر خیر حاصل ہوگی اور اس کی نظریہ آیات ہیں :

وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلَاَدْخَلْنٰـہُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ (المائدۃ : ٦٥ )

اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتے تو ہم ان کے تمام گناہ معاف فرما دیئے اور ان کو نعمت والی جنتوں میں داخل فرما دیتے۔

وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَ کَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِم (المائدۃ : ٦٦ )

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم کرتے اور ان احکام کو قائم کرتے جو ان کے رب کی طرف سے نازل کیے گئے ہیں تو وہ اپنے اوپر سے ( بارش کے ذریعہ) کھاتے اور اپنے نیچے ( زمین کی) پیداوار) سے کھاتے۔

وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِب (الطلاق : ٢۔ ٣)

اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے۔ اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰـرًا۔ (نوح : ١٠۔ ١٢)

( نوح نے اپنی قوم سے کہا) میں نے کہا : تم اپنے رب سے مغفرت کی دعا کرو، بیشک وہ بہت مغفرت کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش نازل فرمائے گا۔ اور کثرت مال اور بیٹوں کی کثرت سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغات پیدا کر دے گا اور دریا نکالے گا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 16

Exit mobile version