تا کہ اللہ اس بات کو ظاہر فرما دے کہ بیشک ان سب رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے ان سب کا اللہ نے احاطہ کرلیا ہے اور اس نے ہر چیز کا شمار کرلیا ہے ؏
تفسیر:
الجن : ٢٨ میں فرمایا : تاکہ اللہ اس بات کو ظاہر فرما دے کہ بیشک ان سب رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں، اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس سب کا اللہ نے احاطہ فرما لیا ہے اور اس نے ہر چیز کا شمار کرلیا ہے۔
اللہ سبحانہٗ کے علم پر حادث ہونے کا اعتراض اور اس کے جوابات
اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے : تاکہ اللہ جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ہیں، پھر اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نہیں جانتا تھا، بعد میں اس نے جان لیا، اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم حادث ہو اور چونکہ، اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، سو اس سے اللہ تعالیٰ کا محل حوادث ہونا لازم آئے گا اور جو محل حوادث ہو وہ حوادث ہوتا ہے۔ اس اعتراض سے بچنے کے لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : تاکہ اللہ اس بات کو ظاہر فرما دے کہ بیشک ان سب رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں، اس کی نظیر یہ آیت ہے :
ہم تم کو ضرور آزمائیں گے، حتیٰ کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں۔
اس پر بھی یہی اعتراض ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو آزمانے کے بعد علم ہو تو اس کا علم حادث ہوگا، اس کا جواب بھی یہ ہے کہ اس آیت کا معنی اس طرح ہے : ہم تم کو ضرور آزمائیں گے حتیٰ کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ظاہر کردیں اور یہاں علم کا معنی کسی چیز کا منکشف ہونا نہیں ہے بلکہ کسی چیز کو ظاہر کرنا ہے اور یہ اس کا مجازی معنی ہے۔
دیگر مفسرین نے بھی اس آیت کی توجیہات کی ہیں :
قتادہ اور مقاتل نے کہا : اس آیت کے معنی ہے : تاکہ ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ جان لیں کہ جس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچایا ہے، دیگر رسولوں نے بھی اسی طرح اللہ عزوجل کے پیغام کو پہنچایا تھا، گویا اس آیت میں مجاز بالحذف ہے، یعنی ہم نے آپ کو یہ خبر دی ہے کہ ہم وحی کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس طرح آپ اللہ سبحانہ ٗ کا پیغام پہنچا رہے ہیں دیگر رسول بھی اسی طرح اللہ جل شانہٗ کا پیغام پہنچاتے رہے ہیں۔
ابن جبیر نے کہا اس آیت کا معنی ہے : تاکہ ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جان لیں کہ حضرت جبریل اور ان کے ساتھ والے فرشتوں نے آپ کے پاس آپ کے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ ابن جبیر نے کہا : آپ کے پاس جب بھی وحی آتی تھی تو اس کی حفاظت کرنے کے لیے اس کے ہمراہ چار فرشتے ہوتے تھے۔
آپ قول یہ ہے کہ تاکہ رسول جان لے خواہ وہ کوئی رسول ہو کہ اس کے سوا باقی رسولوں نے بھی تبلیغ کی ہے، ابن قتیبہ نے کہا : تاکہ جنات یہ جان لیں کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں اور وہ پیغامات جنات کے چوری چھپے سننے اور وحی میں کسی اور کلام کی آمیزش سے محفوظ تھے۔
مجاہد نے کہا : تاکہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے یہ جان لیں کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا : اور جو کچھ ان کے پاس ہے، ان سب کا اللہ نے احاطہ فرما لیا ہے اور اس نے ہر چیز کا شمار کرلیا ہے۔
ابن جبیر نے کہا : اس کا منی یہ ہے : تاکہ رسول یہ جان لیں کہ ان کے رب کے علم نے ان کے کاموں کا احاطہ کرلیا ہے اور اس نے ہر چیز کے عدد کا احاطہ کیا ہے اور اس کو اس کا پورا علم ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے پس اللہ سبحانہ ہر چیز کا شمار کرنے والا ہے، اس کا احاطہ کرنے والے ہے، اس کو پوری طرح جاننے والا ہے اور ہر چیز کی پوری حفاظت کرنے والا ہے۔
سورۃ الجن کا اختتام
الحمد للہ رب العلمین ! آج ١٣ ربیع الثانی ١٤٢٦/٢٢ مئی ٢٠٠٥ ء بہ روز ہفتہ بعد نماز ظہر سورة الجن کی تفسیر مکمل ہوگئی ٢١ اپریل کو اس کی تفسیر شروع کی تھی، اس تفسیر کے دوران میں کافی علیل رہا، شوگر اور کو لیسٹرول کی کم بیشی اور انکے اثرات کا شکار رہا، تاہم کوشش رہی کہ ہر روز کچھ نہ کچھ کام ہوتا رہے اور سخت علالت میں بھی اس معمول کو جاری رکھا، اللہ تعالیٰ میری اس سعی کو مشکور فرمائے اور محض اپنے فضل سے میری مغفرت فرما دے۔
و صلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ سیدنا محمد وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ وازوجہٖ و ذریاتہٖ و امتہٖ اجمعین