Site icon اردو محفل

فجر کی جماعت کے دوران سنتیں پڑھنا” شرعی مسئلہ احادیث و آثار کی روشنی می

“فجر کی جماعت کے دوران سنتیں پڑھنا” شرعی مسئلہ احادیث و آثار کی روشنی میں!
_______________________________
✍️ابو ھریرہ محمد منور الحنفی العطاری
_______________________________
آج کل سوشل میڈیا پر صحیح مسلم کی یہ حدیث مبارک گردش کر رہی ہے “إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة” “جب نماز قائم ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں” اس حدیثِ مبارکہ کے پیشِ نظر بعض لوگ اس شرعی مسئلہ کو بیان کرنے والے علماء کو جاہل کہتے نظر آ رہے ہیں کہ حدیث پر عمل نہیں کرتے بلکہ امام کے قول پر عمل کرتے ہیں حالانکہ ان کو کیا معلوم فہمِ حدیث کسے کہتے ہیں خیر میں کتبِ احناف میں بیان کردہ اس شرعی مسئلے کی تمام تر جزئیات پر احادیث و آثار پیش کروں جس کے بعد آپ پر عیاں ہو گا کہ جن قیودات کے ساتھ مسئلہ بیان کیا جاتا ہے ان قیودات کے ساتھ صحابہ کرام کا بھی اس پر عمل رہا اسی سے آپ پر اس حدیث پاک کے باوجودِ مطلق ہونے کے خاص صورت میں سنتِ فجر کا خاص صورت میں استثناء واضح ہو جائے گا۔
_______________________________
مسئلہ شرعی:
_______________________________
ومن انتهى إلى الإمام في صلاة الفجر وهو لم يصل ركعتي الفجر إن خشي أن تفوته ركعة ويدرك الأخرى يصلي ركعتي الفجر عند باب المسجد ثم يدخل “لأنه أمكنه الجمع بين الفضيلتين” وإن خشي فوتهما دخل مع الإمام “لأن ثواب الجماعة أعظم والوعيد بالترك ألزم” بخلاف سنة الظهر حيث يتركها في الحالتين لأنه يمكنه أداؤها في الوقت بعد الفرض هو الصحيح وإنما الاختلاف بين أبي يوسف ومحمد رحمهما الله في تقديمها على الركعتين وتأخيرها عنهما ولا كذلك سنة الفجر.(1)

اگر نمازِ فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ دور سنتِ فجر پڑھ کر شریکِ جماعت ہو اور جو جانتا ہے کہ سنت میں مشغول ہو گا تو جماعت جاتی رہے گی اور سنت کے خیال سے جماعت ترک کی یہ ناجائز و گناہ ہے اور باقی نمازوں میں اگرچہ جماعت ملنا معلوم ہو سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔
_______________________________
دسرا مسئلہ شرعی جب کہ سنتِ فجر ترک کر کہ جماعت میں شامل ہوں:
_______________________________
وإذا فاتته ركعتا الفجر لا يقضيهما قبل طلوع الشمس ” لأنه يبقى نفلا مطلقا وهو مكروه بعد الصبح.(2)

جب فجر کی دو سنتیں نہ پڑھ سکے بلکہ فرض میں شامل ہو گئے تو اب سنتیں فرض کے فورا بعد نہیں بلکہ ان کی قضاء طلوعِ شمس کے بعد کی جائے گی۔
_______________________________
دلائل مسئلہ شرعی اول:
_______________________________
۱___عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن أبي موسى قال: «جاءنا ابن مسعود والإمام يصلي الفجر، فصلى ركعتين إلى سارية، ولم يكن صلى ركعتي الفجر».(3)

ابو موسی کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت آئے جب امام نمازِ فجر پڑھا رہا تھا تو آپ نے چونکہ سنتیں ادا نہیں کی ہوئیں تھیں اسلئے پہلے ستون کی آڑ میں دو سنتیں ادا کی(پھر فرض نماز میں شامل ہوئے)۔

۲___حدثنا إسحاق بن إبراهيم، عن عبد الرزاق، عن الثوري، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن أبي موسى، قال: «جاء ابن مسعود، والإمام يصلي الصبح فصلى ركعتين إلى سارية، ولم يكن صلى ركعتي الفجر».(4)

۳___حدثنا أبو بشر الرقي، قال: ثنا أبو معاوية، عن مسعر، عن عبيد بن الحسن، عن أبي عبيد الله، عن أبي الدرداء «أنه كان يدخل المسجد والناس صفوف في صلاة الفجر , فيصلي الركعتين في ناحية المسجد , ثم يدخل مع القوم في الصلاة».(5)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے جب فجر کی فرض نماز کے لیے لوگ صفیں باندھے کھڑے تھے آپ نے مسجد کے کونے میں دو سنیں ادا کیں پھر امام کے ساتھ فرض نماز میں شامل ہوئے۔

٤___حدثنا سليمان بن شعيب، قال: ثنا عبد الرحمن بن زياد، قال: ثنا زهير بن معاوية، عن أبي إسحاق، قال: حدثني عبد الله بن أبي موسى، عن أبيه، حين دعاهم سعيد بن العاص، دعا أبا موسى , وحذيفة , وعبد الله بن مسعود رضي الله عنهم , قبل أن يصلي الغداة , ثم خرجوا من عنده وقد أقيمت الصلاة , فجلس عبد الله إلى أسطوانة من المسجد , فصلى الركعتين , ثم دخل في الصلاة ” فهذا عبد الله قد فعل هذا ومعه حذيفة وأبو موسى لا ينكران ذلك عليه , فدل ذلك على موافقتهما إياه”.(6)

اس سے ثابت ہوا عبد اللہ بن مسعود اور ان کے ساتھ دو صحابہ کرام حضرت حذیفہ و ابو موسی رضی اللہ عنھما کا بھی یہی موقف تھا۔

٥___حدثنا أحمد بن عبد المؤمن الخراساني، قال: ثنا علي بن الحسن بن شقيق، قال: أنا الحسين بن واقد قال: ثنا يزيد النحوي، عن أبي مجلز، قال: دخلت المسجد في صلاة الغداة مع ابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم , والإمام يصلي. فأما ابن عمر رضي الله عنهما فدخل في الصف , وأما ابن عباس رضي الله عنهما , فصلى ركعتين , ثم دخل مع الإمام , فلما سلم الإمام قعد ابن عمر مكانه , حتى طلعت الشمس , فقام فركع ركعتين ” فهذا ابن عباس صلى ركعتين في المسجد والإمام في صلاة الصبح. (7)

٦___عبد اللہ بن عباس و عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فجر کے وقت مسجد میں داخل ہوئے جب جماعت قائم ہو چکی تھی تو عبد اللہ بن عمر صف میں شامل ہو گئے اور ابن عباس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر امام کے ساتھ شامل ہو گئے اور ابن عمر امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہیں بیٹھے رہے جب سورج طلوع ہوا اس کے بعد آپ نے سنتیں پڑھیں۔
اس اثر سے احناف کی بیان کردہ دونوں صورتوں کا سو فیصد درست ہونا ثابت ہوتا ہے اگر کوئی صاحبِ عقل غور کرے تو۔

٧___حدثنا أبو بكرة، قال: ثنا أبو عمر الضرير، قال: ثنا عبد العزيز بن مسلم، قال: أنا مطرف بن طريف، عن أبي عثمان الأنصاري، قال: «جاء عبد الله بن عباس والإمام في صلاة الغداة , ولم يكن صلى الركعتين فصلى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما الركعتين خلف الإمام , ثم دخل معهم».(8)
عبد اللہ بن عباس کا اثر پہلے دو رکعتیں ادا کیں پھر امام کے ساتھ شامل ہوئے۔
_______________________________
فجر کی سنتوں ہی کا استثناء کیوں؟
_______________________________

٨____حدثنا محمد بن موسى الجرشي، قال: حدثنا هارون بن مسلم صاحب الحناء، قال: حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن محمد بن زيد، عن ابن سيلان عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تتركوا ركعتي الفجر، وإن طرقتكم الخيل”.(9)

نبی علیہ السلام نے فرمایا: فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑو اگرچہ سرخ گھوڑے تمہیں روند ہی کیوں نہ دیں۔

قال الإمام الهيثمي:
[باب إذا أقيمت الصلاة هل يصلى غيرها]

2391 – عن أبي موسى قال: أقيمت الصلاة، فتقدم عبد الله بن مسعود إلى أسطوانة في المسجد فصلى ركعتين ثم دخل – يعني في الصلاة.
رواه الطبراني في الكبير، ورجاله ثقات.

2392 – وعن عبد الله بن أبي موسى قال: جاءنا ابن مسعود والإمام يصلي الصبح فصلى ركعتين إلى سارية ولم يكن صلى ركعتي الفجر.
رواه الطبراني ورجاله موثقون. (10)

امام ہیثمی مجمع الزوائد میں باب قائم کرتے ہیں کہ کیا جب جماعت قائم ہو جائے تو کچھ پڑھ سکتے ہیں ؟ پھر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فجر کی سنتیں پڑھ کر امام کے ساتھ شامل ہونے والے اثر کو نقل کر کہ اس کی سند کے تمام رجال کو ثقہ کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ جماعت قائم ہونے کی صورت میں صرف سنتِ فجر وہ بھی اس صورت میں جب ایسے وقت آئے کہ جماعت قائم ہو چکی تھی تو سنتِ فجر پڑھ لے اور پھر امام کے ساتھ فرضوں میں شامل ہو جائے۔
_______________________________
مسئلہ ثانی کے دلائل جب سنتیں رہ جائیں تو ان کی قضاء طلوعِ شمس كے بعد کی جائے کیونکہ بعد فجر منع ہے۔
_______________________________
١___حدثنا وكيع، عن فضيل بن غزوان، عن نافع، عن ابن عمر «أنه جاء إلى القوم وهم في الصلاة ولم يكن صلى الركعتين فدخل معهم، ثم جلس في مصلاه، فلما أضحى قام فقضاهما».(11)

ابن عمر کا اثر کہ آپ نے سنتیں رہ جانے کی صورت میں فجر کے فورا بعد نہیں بلکہ طلوع شمس کے بعد پڑھیں۔

٢___حدثنا غندر، عن شعبة، عن يحيى بن سعيد، قال: سمعت القاسم، يقول: «لو لم أصلهما حتى أصلي الفجر، صليتهما بعد طلوع الشمس».(12)

٣___حدثنا محمد بن سلام، قال: حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن خبيب، عن حفص بن عاصم، عن أبي هريرة، قال: ” نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاتين: بعد الفجر حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب الشمس “.(13)

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی علیہ السلام نے فجر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔
_______________________________
حوالہ جات:
_______________________________
(1)”الهداية” في شرح بداية المبتدي (1/ 71)
(2)”الهداية” في شرح بداية المبتدي (1/ 72)
(3)”مصنف عبد الرزاق الصنعاني (2/ 444)
(4)”المعجم الكبير للطبراني (9/ 277)
(5)”شرح معاني الآثار (1/ 375)رقم(٢٢٠٥)
(6)”شرح معاني الآثار (1/ 374)
(7)”شرح معاني الآثار (1/ 374)
(8)”شرح معاني الآثار (1/ 375)
(9)”مسند البزار = البحر الزخار (15/ 9)
(10)”مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (2/ 75)
(11)”مصنف ابن أبي شيبة (2/ 59)
(12)”مصنف ابن أبي شيبة (2/ 59)
(13)”صحيح البخاري (1/ 121) رقم (٥٨٨).

Exit mobile version