أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ اَنَّكَ تَقُوۡمُ اَدۡنىٰ مِنۡ ثُلُثَىِ الَّيۡلِ وَ نِصۡفَهٗ وَثُلُثَهٗ وَطَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ مَعَكَؕ وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَؕ عَلِمَ اَنۡ لَّنۡ تُحۡصُوۡهُ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ فَاقۡرَءُوۡا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الۡقُرۡاٰنِؕ عَلِمَ اَنۡ سَيَكُوۡنُ مِنۡكُمۡ مَّرۡضٰىۙ وَاٰخَرُوۡنَ يَضۡرِبُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ يَبۡتَغُوۡنَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِۙ وَاٰخَرُوۡنَ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ۖ فَاقۡرَءُوۡا مَا تَيَسَّرَ مِنۡهُ ۙ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِ هُوَ خَيۡرًا وَّاَعۡظَمَ اَجۡرًا ؕ وَاسۡتَغۡفِرُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
بیشک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ ( کبھی) دو تہائی رات کے قریب قیام کرتے ہیں اور ( کبھی) آدھی رات تک اور ( کبھی) ایک تہائی رات اور آپ کے ساتھ جو لوگ ہیں ان میں سے ایک جماعت بھی قیام کرتی ہے، اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اللہ کو علم ہے کہ اے مسلمانو ! تم ہرگز اس قیام کا شمار نہیں کرسکو گے، سو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی، پس تم جتنا آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو، اللہ کو علم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ لوگ زمین میں سفر کریں گے، اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہوئے، اور کچھ دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں قتال کر رہے ہوں گے، پس تم جتنا آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور تم اپنی بھلائی کے لیے جو کچھ آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے پاس اس سے بہتر اور زیادہ ثواب میں پائو گے اور اللہ سے مغفرت کرتے رہو، بیشک اللہ بہت مغفرت فرمانے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے ؏
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ ( کبھی) دو تہائی رات کے قیام کرتے ہیں اور ( کبھی) آدھی رات تک اور ( کبھی) ایک تہائی رات تک اور آپ کے ساتھ جو لوگ ہیں ان میں سے ایک جماعت بھی قیام کرتی ہے اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اللہ کو علم ہے کہ اے مسلمانو ! تم ہرگز اس قیام کا شمار نہیں کرسکو گے، سو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی، پس تم جتنا آسانی کے ساتھ قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ ( الخ (المزمل : ٢٠ )
نماز تہجد کی فرضیت کا منسوخ ہوتا
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے دو تہائی رات سے کچھ کم بھی تہجد کی نماز پڑھتے ہیں، اور کبھی آدھی رات تک بھی تہجد کی نماز پڑھتے ہیں اور کبھی ایک تہائی رات تک تہجد کی نماز پڑھتے ہیں اور آپ کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت بھی تہجد کی نماز پڑھتی ہے، لیکن ایک تو ہر رات کو اتنا قیام کرنا بہت مشکل اور بھاری کام تھا، دوسرے وقت کا اندازہ کرنا بھی مشکل تھا کہ دو تہائی رات تک قیام ہوا ہے یا نصف رات تک قیام ہوا ہے یا تہائی رات تک قیام ہوا ہے، کیونکہ اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں تخفیف نازل فرمائی اور رات کے اس قیام کی فرضیت کو منسوخ فرما دیا، اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تہجد کی نماز فرض نہیں ہے، مستحب ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اب دو تہائی رات یا نصف رات یا تہائی رات تک تہجد کی نماز پڑھنی فرض نہیں ہے، بلکہ جتنے وقت میں بھی آپ آسانی کے ساتھ تہجد پڑھ سکیں پڑھ لیں، فرض ادا ہوجائے گا، پھر جب پانچ نمازیں فرض ہوئیں تو تہجد کی اتنی مقدار کی فرضیت بھی منسوخ ہوگئی اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان آیات سے ابتداء نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔
نماز تہجد میں کتنا قرآن پڑھنا چاہیے ؟
اس آیت میں فرمایا ہے : پس تم جتنا آسانی کے ساتھ قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اس آیت کا معنی ہے :
تہجد کی نماز میں اتنا قرآن مجید پڑھو جتنا تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکو، اور اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :
السدی نے کہا : سو آیتیں پڑھو، حسن بصری نے کہا : جس شخص نے تہجد کی نماز میں سو آیتیں پڑھیں، قرآن مجید اس کی مخالفت نہیں کرے گا، کعب احبار نے کہا : جس نے تہجد کی نماز میں سو آیتیں پڑھیں اس کا نام فانتین میں لکھا جائے گا، سعید نے کہا : اس سے مراد پچاس آیتیں ہیں۔
کعب کا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ حدیث میں ہے :
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاض (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رات کو دس آیات کے ساتھ قیام کیا، اس کا نام غافلین میں نہیں لکھا جائے گا، اور جس نے سو آیات کے ساتھ قیام کیا، اس کا نام فانتین میں لکھا جائے گا اور جس نے ہزار آیت کے ساتھ قیام کیا اس کا نام پل بنانے والوں میں لکھا جائے گا۔
( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٩٨)
نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت کا فرض نہ ہونا
بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں قرآن پڑھنے سے مراد نماز پڑھنا ہے کیونکہ نماز کا ایک جز قرآن پڑھنا ہے اور اس آیت میں جز سے مراد کل ہے اور یہ اطلاق مجازی ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ رات میں جتنی نماز آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو، اتنی نماز پڑھو لیکن یہ قول باطل ہے کیونکہ قرآن مجید کے کسی لفظ کو مجاز پر اس وقت محمول کیا جاتا ہے، جب اس لفظ سے حقیقت کا ارادہ کرنا محال ہو یا متعذر ہو، اور اس آیت میں قرآن پڑھنے کا ارادہ کرنا محال نہیں ہے، اسی وجہ سے ائمہ احناف نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز میں کسی معین سورت کو پڑھنا فرض نہیں ہے، بلکہ قرآن مجید کا جو حصہ بھی آسانی کے ساتھ پڑھا جاسکے، اتنا قرآن پڑھنا فرض ہے، اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ نماز میں سورة فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے بلکہ مطلقاً قرآن کا پڑھنا فرض ہے، جس قدر قرآن کو کوئی شخص آسانی اور سہولت سے پڑھ سکتا ہو، جن بعض احادیث سے نماز میں سورة فاتحہ پڑھنے کا لزوم معلوم ہوتا ہے وہ وجوب پر محمول ہے یعنی نماز میں سورة فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔
عن عبادۃ بن الصامت ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال لا صلاۃ لمن لم یقراء بفاتحہ الکتاب۔
حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں ہوگی، جس نے نماز میں سورة فاتحہ کو نہیں پڑھا۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٩٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٢٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٧، سنن نسائی رقم الحدیث : ٩١١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٣٧)
اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نماز میں سورة فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے کیونکہ کسی چیز کی فرضیت ایسی دلیل سے ثابت ہوتی ہے، جس کی لزوم پر دلالت بھی قطعی ہو اور اس کا ثبوت بھی قطعی ہو، اس حدیث کی نماز میں سورة فاتحہ پڑھنے کے لزوم کی دلالت تو قطعی ہے کیونکہ اس میں یہ ارشاد ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی، لیکن اس حدیث کا ثبوت قطعی نہیں ہے، کیونکہ یہ حدیث خبر واحد ہے اور خبر واحد ظنی ہوتی ہے قطعی نہیں ہے، جس کا ثبوت قطعی ہے وہ صرف قرآن مجید ہے باخبر متواتر ہے، اس لیے ہمارے نزدیک نماز میں سورة فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے، فرض نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کو علم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ لوگ زمین میں سفر کریں گے اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہوئے اور کچھ دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں قتال کر رہے ہوں گے، پس تم جتنا آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو اچھا قرض دو ، اور تم اپنی بھلائی کے لیے جو کچھ آگے بھیجو گے، اس کو اللہ کے پاس اس سے بہتر اور زیادہ ثواب میں پائو گے اور تم اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو، بیشک اللہ بہت مغفرت فرمانے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ ( المزمل : ٢٠ )
تہجد کی فرضیت کو منسوخ کرنے کی توجیہ
اس آیت کے ابتدائی حصہ میں اللہ تعالیٰ نے تہجد کی فرضیت کو منسوخ کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے، یعنی اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے تہجد کی فرضیت کو کیوں منسوخ کردیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ کچھ لوگ بیمار ہوں گے تو وہ تہجد نہیں پڑھ سکیں گے، اور کچھ لوگ تجارت کے لیے زمین میں سفر کریں گے تو وہ حالت سفر میں تہجد نہیں پڑھ سکیں گے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سخت مشقت کے کاموں میں مصروف ہوں گے، پس اگر وہ دن کی تھکن، رات کی نیند سے نہ اتاریں اور رات کو پھر آدمی رات یا تہائی رات تک تہجد پڑھیں تو پھر ان کے لیے دن میں جہاد کی مشقت اٹھانا بہت مشکل ہوگا اور جہاد بہت اہم فریضہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تہجد کی فرضیت کو منسوخ کردیا اور تہجد کی فرضیت کو منسوخ کرنے کی جو وجوہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے متعلق بیان فرمائی ہیں وہ وجوہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھی متحقق ہیں بلکہ ان وجوہ کے علاوہ ایک زائد وجہ آپ کا امور تبلیغ میں مصروف اور مشغول ہوتا ہے، اس لیے جس طرح امت سے تہجد کی فرضیت ساقط ہوگئی، اس طرح آپ سے بھی تہجد کی فرضیت ساقط ہوگئی۔
اس آیت کے لطائف میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کا اور حلال روزی کے حصول کے لیے سفر کرنے والوں کا ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے، حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے لے گیا اور محض ثواب آپ کی نیت سے یہ سفر کیا اور اس چیز کو مروج قیمت کے مطابق فروخت کیا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا شہداء میں شمار ہوگا۔
سورۃ المزمل کے آخر میں زکوٰۃ کا حکم اس سورت کے مکی ہونے کے خلاف نہیں ہے
اس کے بعد پھر فرمایا : پس تم جتنا آسانی کے ساتھ قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اس میں پہلے جملہ کی تاکید ہے۔
اس کے بعد فرمایا : اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔
یعنی فرض نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اس سے مراد فرض زکوٰ نہیں ہے، نہ صدقہ فطر مراد ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں مدینہ منورہ میں فرض ہوئیں تھیں اور سورة المزمل مکی سورت ہے بلکہ مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے، لہٰذا اس آیت میں زکوٰۃ سے مراد نفلی صدقات ہیں اور نماز اور زکوٰۃ دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر کیا، کیونکہ جس طرح نماز سے بدن کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح نفلی صدقات ادا کرنے سے مال کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
علامہ آلوسی حنفی نے لکھا ہے کہ زکوٰۃ اجمالی طور پر مکہ میں فرض ہوئی تھی اور زکوٰۃ کے مصارف اور اس کی مقدار کا تعین مدینہ منورہ میں ہوا تھا، اس لیے اس آیت میں زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم اس سورت کے مکی ہونے کے منافی نہیں ہے۔
( روح المعانی جز ٢٩ ص ١٩٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
نیز علامہ آلوسی حنفی نے لکھا ہے :
حسن بصر ی، عکرمہ، عطاء، جابر وغیرہم کے نزدیک سورة المزمل پوری مکی ہے ” البحر المحیط “ میں مذکور ہے کہ سورة المزمل مکی ہے، ماسوا اس کے دوسرے رکوع کے جو ” ان ربک یعلم “ سے شروع ہوتا ہے، لیکن علامہ جلال الدین سیوطی نے اس کا رد کیا ہے کہ اس استثناء کی حکایت ابن الفارس نے کی ہے اور حاکم کی روایت اس کا رد کرتی ہے، حاکم کی روایت یہ ہے : حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اسلام کی ابتداء میں پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے تہجد فرض ہوگئی تو اس سورت کے ابتدائی حصہ کے نازل ہونے کے بعد اس سورت کا دوسرا رکوع نازل ہوا، جس سے تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔
( روح المعانی جز ٢٩ ص ١٧٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ سورة المزمل پوری مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس سورت میں زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم اس کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا ہے کہ اجمالی طور پرز کوٰۃ مکہ مکرمہ میں فرض ہوگئی تھی اور اس کی تفصیل مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔
اللہ کو قرض دینے کا معنی
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ کو اچھا قرض دو ۔
اس آیت کے تین محمل ہیں (١) اس سے مراد تمام صدقات ہیں (٢) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں سب سے اچھا مال نکالا جائے، جس مال میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہوا اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی نیت کی جائے اور وہ مال مستحق کو دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے، خواہ اس کا تعلق مال خرچ کرنے سے ہو یا اور کوئی نیک عمل ہو۔
اس کے بعد فرمایا : اور تم اپنی بھلائی کے لیے جو کچھ آگے بھیجو گے، اس کو اللہ کے پاس اس سے بہتر اور زیادہ ثواب میں پائو گے اور تم اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو، بیشک اللہ بہت مغفرت فرمانے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور اس کو اس لیے بچا کر رکھو کہ مرتے وقت اس مال میں وصیت کرو گے، اس سے کہیں بہتر یہ ہے کہ تم اس مال کو پہلے ہی اللہ کی راہ میں خرچ کردو۔
اور تم سے جو گناہ سر زد ہوچکے ہیں اور جو کو تاہیاں ہوچکی ہیں، ان پر تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہو، خاص طور پر جب تم رات کو اٹھ کر نماز میں قیام کرو تو اللہ سبحانہ سے استغفار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مغفرت کرنے والا ہے اور ان پر بےحد رحم فرمانے والا ہے۔
مقاتل نے کہا : وہ تمام گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے خواہ وہ گناہ کے بعد فوراً توبہ کرنے والا ہو یا گناہ پر اصرار کر کے پھر توجہ کرنے والا، جب بندہ اللہ سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
سورۃ المزمل کا اختتام
الحمد رب العلمین ! آج ٢٣ ربیع الثانی ١٤٢٦ ھ/٣ جون ٢٠٠٥ ء بہ روز جمعہ سورة المزمل کی تفسیر کا اختتام ہوگیا، ٢٣ مئی کو سورة المزمل کی تفسیر شروع کی تھی، اس طرح دس دنوں میں اس کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ الٰہ العلمین ! جس طرح آپ نے اس سورت کی تفسیر مکمل کرا دی ہے، قرآن مجید کی بقیہ سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دی، اور مجھے صحت و عافیت کے ساتھ تا حیال ایمان پر قائم رکھیں اور اسلام کے تمام احکام پر عامل رکھیں اور معصیت سے مجتنب رکھیں، میری، میرے والدین کی، میرے اساتذہ کی، میرے تلامذہ اور میرے احباب کی، اس کتاب کے ناشر اور معاونین کی اور میرے قارئین کی مغفرت فرمائیں اور تا قیامت اس کتاب کو مقبول عام بنادیں۔
میں نے کو لیسٹرول کم کرنے کے لیے چکنائی بالکل ترک کردی تھی، حتیٰ کہ چائے میں دودھ ڈالنا بھی چھوڑ دیا تھا اور سبز چائے کا قہرہ پیتا تھا، اس کا خوشگوار اثر میری شوگر پر پڑا اور وہ حیرت انگیز طور پر کم ہوگئی، اب میں پہلے کی بہ نسبت کم مقدار میں شوگر کنٹرول کرنے والی دوا لیتا ہوں، ایک Evopride 2mg صبح کو اور تین دفعہ Glucophage یہ پورے دن کی خوراک ہے۔ اکیس سال سے میں ایک وقت میں صرف Bran Bread کے پیس لیتا تھا، اب الحمد للہ ! ڈیڑھ روٹی کھاتا ہوں، اس کے علاوہ میں موسم کے لحاظ سے اب پھل بھی کھا رہا ہوں، سو اس تحریر کے حوالے سے میں شوگر کے تمام مریضوں کو بہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ چکنائی کو بالکل ترک کردیں، ابلی ہوئی سبزی اور ابلا ہوا گوشت کھائیں، بڑے گوشت سے پرہیز کریں، انشاء اللہ ان کی شوگر بہت کم ہوجائے گی۔
غلام رسول سعیدی غفرلہٗ
تبیان القرآن سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 20
