آسمان اس کی شدت سے پھٹ جائے گا اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا.
اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا پورا ہونا کیوں لازم ہے ؟
المزمل : ١٨ میں فرمایا : آسمان اس کی شدت سے پھٹ جائے گا اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
قیامت کی ہولناکیوں میں سے یہ ہے کہ وہ دن اس قدر سخت اور شدید ہوگا کہ آسمان اس وقت وسعت، عظمت اور شدت کے باوجود پھٹ کر روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائے گا، تو سوچو کہ عام مخلوق کا اس دن کیا حال ہوگا۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
آیت کے اس حصہ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ قیامت کے دن آسمان کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور جو اس کے علم کا تقاضا ہو اس کا پورا ہونا واجب ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہو کہ آسمان کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا وعدہ کیا ہو وہ لا محالہ پورا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب محال ہے۔
سورۃ المزمل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کا اجمالی تذکرہ
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاکیزہ احوال اور آپ کی عمدہ سیرت کے بیان سے شروع کیا تھا، اور آپ کے احوال دو قسم کے ہیں، ایک قسم وہ ہے جس کا تعلق اللہ عزوجل کی اطاعت اور اس کی عبادت کے ساتھ ہے، المزمل : ٩۔ ١ میں اس کا بیان ہے اور آپ کی سیرت کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق لوگوں کے ساتھ ہے، اس کا ذکر المزمل : ١١۔ ١٠ میں ہے : اور آپ کافروں کی باتوں پر صبر کریں اور ان کی خوش اسلوبی سے چھوڑ دیں۔ اور ان مال اور جھٹلانے والوں کو مجھ سے چھوڑ ڈیں اور ان کو تھوڑی مہلت دیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر کفار کو دھمکی بھی دی ہے کہ تمہاری دل آزاد اور دل خراش باتوں کا جواب دینا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے لائق نہیں ہے، تم سے انتقام میں لوں گا، پھر اس کے بعد کی آیتوں میں المزمل : ١٨ تک کفار کو آخرت کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور قیامت کے دن کی ہولاکیوں کا ذکر فرمایا ہے۔