Site icon اردو محفل

وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 3

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ ۞

ترجمہ:

اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے۔

المدثر : ٣ میں فرمایا : اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے۔

اللہ کی بڑائی بیان کرنے کے محامل

(١) کلبی نے کہا : بت پرست اللہ کی شان میں جو نازیبا باتیں کہتے ہیں، مثلاً اللہ سبحانہٗ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور اس کے کئی شریک قرار دیتے ہیں، اور اس کو چھوڑ کر دوسروں کو عبادت کا مستحق قرار دیتے ہیں، ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی برأت بیان کیجئے اور اس کی تعظیم کیجئے۔

(٢) مقاتل نے کہا : آپ اللہ اکبر کہیے، روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر کہا : ” اللہ اکبر کبیرا “ پھر حضرت خدیجہ نے کہا : اللہ اکبر اور خوش ہوئیں اور انہوں نے جان لیا کہ آپ پر یہ وحی کی گئی ہے۔

(٣) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نماز میں اللہ اکبر کہیے، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ المدثر تو وائل سورتوں میں سے ہے اور اس وقت تک نماز فرض نہیں ہوئی تھی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بعید نہیں ہے کہ آپ نفلی نماز پڑھتے ہوں اور آپ کو یہ حکم دیا گیا ہوں کہ آپ اس نماز میں اللہ اکبر پڑھیے۔

امام ابو منصور محمد بن محمود الماتریدی السمر قندی الحنفی المتوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

” قم فانذر۔ “ (المدثر : ٢) میں صرف اللہ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم دیا ہے اور اجر وثواب سنانے کی بشارت کا حکم نہیں دیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر جو شخص شرک اور کفر اور بد اعمالیوں کو ترک کر دے گا، وہ آخرت کے عذاب سے نجات پا جائے گا، اس لیے عذاب سے ڈرانے کا حکم ثواب کی بشارت کے حکم کو متضمن ہے، اور زیادہ اہم چیز گناہوں کو ترک کرنا ہے، اس لیے ابتدائی دعوت کے مقام میں صرف اسی پر اقتصار کیا گیا۔

” وربک فکبر “۔ ( المدثر : ٣) کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی تعظیم کیجئے اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا معنی ہے کہ اللہ عزوجل کے احکام کی اطاعت کیجئے اور جن کاموں کو اللہ تعالیٰ نے لازم کیا ہے ان پر لزوماً عمل کیجئے نہ یہ کہ لفظ زبان سے کہیں ” یا عظیم “۔

اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کفار، مشرکین اور ملحدین جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے اور اس کا شرکاء ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ برأت بیان کیجئے، اس کے حق کی عظمت بیان کیجئے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیجئے، یہ ایسے ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اس کی اطاعت کرنا ہے اور اس کے امر پر عمل کرنا ہے، یہ صرف دل میں اس کی بڑائی کا اعتقاد رکھا جائے۔

( تاویلات اہل لسنۃ ج ٥ ص ٣١٠، مؤسستہ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٤٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 3

Exit mobile version