اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے چادر لپیٹنے والے رات کو نماز میں قیام کریں مگر تھوڑا۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کردیں۔ یا اس پر کچھ اضافہ کردیں اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ بیشک ہم آپ پر بھاری کلام نازل فرمائیں گے۔ ( المزمل : ٥۔ ١)
” المزمل “ کا معنی اور مصداق
اس پر اجماع ہے کہ اس آیت میں ” المزمل “ سے مراد ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، قزا نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھنے کے لیے اپنے اوپر چادر لپیٹ لی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے چادر لپیٹنے والے، ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو چادر لپیٹ کر لیٹے ہوئے تھے تو آپ سے فرمایا گیا : اے چادر لپیٹنے والے، اٹھیئے اور عبادت میں مشغول ہوجائیے، ایک قول یہ ہے کہ آپ پر غار حرا میں پہلی بار وحی نازل ہوئی اور سورة العلق کی ابتدائی تین آیات نازل ہوئیں اور بالفعل آپ پر نبوت کی ذمہ داری ڈال دی گئی تو آپ نبوت کے بارگراں سے گھبرا گئے اور خوف الٰہی سے کا نپتے ہوئے حضرت خدیجہ (رض) کے پاس پہنچے اور فرمایا : مجھے چادر اڑھائو، مجھے چادر اڑھائو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣) اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ جب کسی شخص کے ساتھ لطف اور محبت کے ساتھ خطاب کرنے کا قصد کیا جائے تو اس کے اس وقت کے حال کے مناسب کسی اسم کو مشتق کر کے اس سے کلام کیا جاتا ہے، جیسا کہ جب حضرت علی (رض) ، حضرت سیدہ فاطمہ (رض) سے ناراض ہو کر مسجد میں جا کر سو گئے اور اس وقت ان کے پہلو پر مٹی لگی ہوئی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : قم یا ابا تراب ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤١) اے مٹی والے ! اٹھو۔
سو اسی اسلوب پر ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی بھی لطف اور محبت کے ساتھ خطاب فرمایا کہ اے چادر لپیٹنے والے ! اٹھو.