Site icon اردو محفل

ڈاکٹر برق کا انتقال مسلم سیاست کے ایک عہد کا خاتمہ

ڈاکٹر برق کا انتقال مسلم سیاست کے ایک عہد کا خاتمہ__

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

کل صبح ہندوستانی سیاست کے سب سے معمر سیاسی رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برق صاحب کا انتقال ہوگیا۔آج صبح انہیں ان کے آبائی وطن سنبھل میں سپرد خاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ حضرت سید امین میاں برکاتی سجادہ خانقاہ برکاتیہ مارہرہ نے پڑھائی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔

ڈاکٹر برق[1930-2024] ایک عام سیاست دان نہیں تھے، وہ ایک مذہبی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ان کی والدہ مشہور عالم دین مناظر اہل سنت مفتی محمد حسین نعیمی سنبھلی کی ہمشیرہ تھیں، یعنی مفتی صاحب آپ کے ماموں ہوا کرتے تھے۔آپ کی سیاسی تربیت مجاہد دوراں علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی علیہ الرحمہ(سابق ممبر آف پارلیمنٹ) کے زیر سایہ ہوئی۔مذہبی ماحول اور دین دارانہ سیاسی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ تقریباً ساٹھ سالہ لمبے دور سیاست میں ان کے دامن پر مذہبی بے راہ روی کا ادنی سا داغ تک نہیں لگ سکا۔ورنہ آج کی سیاست کا حال یہ ہے کہ انسان عہدے پر بعد میں پہنچتا ہے مذہبی غیرت پہلے بیچ دیتا ہے۔ڈاکٹر برق اس معنی میں بڑے پختہ اور صاحب عزیمت مومن ثابت ہوئے کہ انہوں نے سیاست کی پر خار وادیوں میں رہتے ہوئے بھی اپنا دینی تشخص اور مذہبی پہچان کو نہ صرف باقی رکھا بل کہ اغیار پر اپنی گہری چھاپ بھی چھوڑی۔

_برق صاحب صوم وصلواۃ کے بڑے پابند تھے۔سفر ہو یا حضر نمازوں کی پابندی ان کا مزاج تھی۔پارلیمانی سیشن کے دوران بھی ان کی نماز قضا نہیں ہوتی تھی۔پارلیمنٹ کی پرانی عمارت میں نماز کے لیے کوئی مستقل جگہ نہیں تھی جس کے باعث برق صاحب نے عمارت کے ایک حصے کو نماز کے لیے مختص کر لیا تھا۔آپ کی اس عادت کا بیگانوں پر بھی اتنا اثر تھا کہ جب سولہویں پارلیمانی الیکشن[2014] میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث وہ پارلیمنٹ نہیں پہنچ سکے تو اگلے پانچ سال تک اس جگہ کو گملوں سے محصور کر دیا گیا تاکہ ادھر کسی کے پاؤں نہ پڑیں، یہاں تک کہ سترہویں الیکشن میں وہ ایک بار پھر منتخب ہوئے اور اسی جگہ برق صاحب نے نمازوں کا سلسلہ پھر سے شروع کیا۔

__برق صاحب نے 1974 میں سنبھل ہی سے اپنا پہلا اسمبلی الیکشن جیتا تھا اس کے بعد وہ چار مرتبہ یوپی اسمبلی کے ممبر اور ایک بار ملائم سنگھ کی حکومت میں وزیر کابینہ بھی منتخب ہوئے۔1996 میں انہوں نے مرادآباد سے پہلا پارلیمانی الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔مرادآباد سے وہ تین مرتبہ ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔بعد میں جب سنبھل کو مرادآباد سے الگ کرکے نیا ضلع بنا دیا گیا تو انہوں نے دو مرتبہ سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

__عوام سے مضبوط وابستگی ڈاکٹر برق صاحب کی سب سے بڑی طاقت رہی۔عروج پانے کے بعد بھی ان کا عام لوگوں سے رشتہ برقرار رہا۔ان کے دروازے ہر خاص وعام کے لیے ہمہ وقت کھلے رہتے تھے۔عوام سے ان کی وابستگی اور پہچان بڑی مضبوط اور تکلفات سے پرے تھی۔سیاسی لیڈر ہونے کی بنا پر لوگوں کو ان سے مختلف شکایتیں بھلے ہی رہی ہوں لیکن اس بات کا اعتراف مخالفین کو بھی رہتا تھا کہ کسی نازک یا حساس معاملے پر وہ کبھی روپوش نہیں ہوئے بل کہ ایسے مواقع پر وہ کہیں دور بھی ہوتے تو اولین فرصت میں پوری طاقت کے ساتھ عوام کے درمیان کھڑے نظر آتے تھے۔یہی چیز ان کی سب سے بڑی طاقت رہی، جس کا اعتراف ان کے مخالفین کو بھی تھا۔

__برق صاحب کی ساٹھ سالہ سیاست پر نظر ڈالیں تو بھلے ہی کوئی بڑا تعمیری/تعلیمی کارنامہ دکھائی نہیں پڑتا، مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ انہوں نے جس زمانے میں سیاست کا آغاز کیا وہ زمانہ مسلمانان ہند کے لیے بڑا آزمائشی اور مشکل دور تھا۔آزادی وطن کو 20 سال ہی گزرے تھے۔مسلمانوں پر تقسیم وطن کا الزام لگا کر انہیں مین اسٹریم سے پوری طرح کاٹ دیا گیا تھا۔اس وقت سیاست کرنے کا مطلب یا تو کانگریسی اطاعت قبول کرنا تھا یا شدت پسندوں کے آگے سرینڈر کرنا۔ایسے نازک ماحول میں برق صاحب نے اپنے سیاسی رہنما حضرت مجاہد دوراں کی تربیت سے وہ مزاج پایا کہ کمیونل لیڈر ہوں کہ سیکولر پارٹیاں انہوں نے قوم مسلم کو پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ دلایا۔جس دور میں عوام وخواص کے لبوں پر خاموش پہرے تھے اس دور میں برق صاحب نے برقی تیوروں کا مظاہرہ کرکے شر پسندوں کے حوصلوں کو پست کیا۔ان کی سیاسی زندگی کا ایک بڑا achievement یہی رہا کہ انہوں نے اس دور میں مسلم مسائل پر بے باک لہجہ اپنایا جب اچھے خاصے مسلم لیڈروں کی زبانیں معذرت خواہانہ لہجہ اپنائے ہوئے تھیں یا مکمل خاموش تھیں۔جب بھی اس عہد کے حالات کا تجزیہ کیا جائے گا تو برملا اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ برق صاحب نے بھلے ہی بڑے ادارے نہیں بنائے لیکن یہ برق صاحب ہی تھے جنہوں نے قوم مسلم کو سر اٹھا کر چلنے اور پلٹ کر جواب دینے حوصلہ دیا۔یہ کارنامہ ہی اپنے آپ میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔جس کے لیے تاریخ انہیں سدا یاد رکھے گی۔

_______17 ویں پارلیمانی الیکشن میں لگاتار دوسری کامیابی کے بعد بی جے پی ارکان باؤلے ہوئے پھر رہے تھے۔جابجا “بھارت میں رہنا ہوگا تو وندے ماترم کہنا ہوگا” جیسی دھمکیاں ان کی زبانوں پر تھیں ایسے ماحول میں 89 سال کے بوڑھے جوان نے پارلیمنٹ میں حلف اٹھاتے وقت بڑی بے باکی کے ساتھ کہا تھا:
“وندے ماترم اسلام کے خلاف ہے ہم ہرگز اسے قبول نہیں کریں گے۔”

برق صاحب کے یہی وہ تیور تھے جس سے حکومتی ایوان میں ہلچل مچ جاتی تھی۔انہوں نے کبھی بھی پارٹی ہائی کمان کا غلبہ اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔جب پارٹی ہائی کمان کو من مرضی کرتے دیکھا اپنی ذاتی مقبولیت کے سہارے پارٹی ہائی کمان کو اوقات دکھانے سے پیچھے نہیں ہٹے۔پندرہویں پارلیمانی الیکشن میں سماج وادی پارٹی نے انہیں آنکھیں دکھائیں تو انہوں نے پارٹی چھوڑ کر الیکشن میں تال ٹھونکی اور سیٹ نکال کر پارٹی کو احساس دلا دیا کہ برق کسی پارٹی کا محتاج نہیں ہے۔اسی طرح گذشتہ بلدیاتی انتخاب میں انہوں نے پارٹی کے ذریعے ان کا مشورہ قبول نہ کرنے پر پارٹی کے ڈکلئیر امیدوار کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا کرکے سماج وادی پارٹی کو اپنی حیثیت کا بھرپور احساس کرایا۔یہ کام برق صاحب نے عمر کے آخری دور تک کیا۔جب کہ آج کے اکثر مسلم لیڈر بے ریڑھ کے ہیں، ہائی کمان جہاں کہتا ہے جب کہتا ہے فوراً ہی ضمیر وخودی کا سودا کر لیتے ہیں لیکن برق صاحب نے عمر کی نو دہائیاں پار کرنے کے بعد بھی اپنی ریڑھ سلامت رکھی اس لیے وہ ہمیشہ عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے گیے آج بھلے ہی وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی جرأت مندانہ سیاست انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھےگی اور لوگ ان کے طرز وانداز کو سالوں تک یاد رکھیں گے۔جیسا کہ برق صاحب نے خود کہا تھا:
ایک روز ہم بھی چلے جائیں گے
اپنے تو اپنے غیر بھی پچھتائیں گے
اے برق میرے مر جانے کے بعد
میرے نقش قدم یاد آئیں گے

17 شعبان المعظم 1445ھ
28 فروری 2024 بروز بدھ

Exit mobile version