“لتعودن” کے ترجمہ کا مطالعہ کنزالایمان کے تناظر میں
وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِـمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَـآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِىْ مِلَّتِنَا ۖ فَاَوْحٰٓى اِلَيْـهِـمْ رَبُّـهُـمْ(سورةإبراہیم:13)
اس آیت مبارکہ میں “لتعودن” عاد سے ماخوذ ہے ۔اس کی دو جہات ہیں فعل تام :اس کامطلب ہو گا رجع تو اس کامعنی ہوگا لوٹنا’واپس ہونایاپھرنا۔
فعل ناقص:صار ‘تو اس کا مطلب ہوگا “ہوجانا”
اب سوال یہاں پیدا ہوتا ہے اس لفظ کا ترجمہ یہاں حسب حال کون سا ترجمہ ہوگا۔
اس لفظ” لتعودن” کا ترجمہ جن مترجمین نے “لوٹنا”سے کیا وہ ملاحظہ ہو:
(1)تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا(مودودی)
(2)ہمارے دین میں لوٹ آؤ(احمد علی)
(3 )تم ہمارے مذہب کی طرف پلٹ آؤگے(جواد علی)
(4)تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ(جوناگڑھی)
(5)تمہیں ضرور ہمارے مذہب میں لوٹ آنا ہوگا(طاہر القادری)
ان تراجم میں لوٹنا’پلٹنااور واپس ہوناسے یہ تاثر ابھرتاہے ثم معاذ اللہ پہلے رسول کفار کے مذہب پر تھے پھر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ کفار نے اپنے رسولوں سے کہا تمہیں ضرور ان کفارکے مذہب کی طرف لوٹ آنا ہوگا۔جو کہ خلاف واقع ہے۔جو تاویل کا محتاج .
مفکر اسلام الشیخ احمد رضا خان نےاس کا ترجمہ فعل تام “رجع” کی بجاۓ فعل ناقص صار کے تحت “ہوجانا”سے کیا وہ ملاحظہ ہو:
وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِـمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَـآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِىْ مِلَّتِنَا ۖ فَاَوْحٰٓى اِلَيْـهِـمْ رَبُّـهُـمْ(سورةإبراہیم:13) اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پرہوجاؤ”(کنزالایمان)
جب” عاد” فعل ناقص یعنی صار بھی مستعمل ہے پھر” ہوجانےوالا” ترجمہ ہی مناسب ہے تاکہ کسی قسم کی تاویل میں بھی نہ پڑنا پڑے
دلاور خان
1/3/2024
