المدثر : ١٧ میں فرمایا : عنقریب میں اس کو صعود پر چڑھائوں گا۔
یعنی عنقریب میں اس کو صعود پر چڑھنے کا مکلف کروں گا، صعود کی تفسیر میں دو قول ہیں : ایک یہ ہے کہ ایک دشوار گزار گھاٹی ہے، جس پر چڑھتا سخت دشوار اور مشکل ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ صعود دوزخ کی ایک گھاٹی کا نام ہے، جب انسان اس گھاٹی پر ہاتھ رکھتا ہے تو وہ پگھل جاتی ہے اور جب اس سے ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ پھر اصل حالت پر آجاتی ہے، اور جب اس پر پیر رکھتا ہے تو وہ پگھل جاتی ہے اور جب پیر اٹھاتا ہے تو وہ پھر اصل حالت پر آجاتی ہے، روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ’ ’ الصعود “ دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس کی چڑھائی ستر سال کی ہے، پھر اس سے اتنے ہی سال تک گرتا رہے گا۔
(جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٤٣٣، المادردی ج ٦ ص ١٤١ )