Site icon اردو محفل

منہاجی اور طاہر القادری حنیف قریشی کی نظر میں

منہاجی اور طاہر القادری حنیف قریشی کی نظر میں ۔

زید قریشی نے دعوت اسلامی کے خلاف جب سے زہر اُگلنا شروع کیا تب سے دیکھا گیا ہے کہ بعض منہاجی بہت خوش ہیں ایسے بلکہ سب منہاجیوں کیلئے یہ تحریر ہے کہ وہ زید قریشی المعروف حنیف قریشی کے قلم سے اپنے شیخ المنہاج یعنی طاہر القادری اور منہاجیوں کی شان بھی پڑھ لیں ۔ زید قریشی نے اپنی کتاب “قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے “میں شیخ المنہاج طاہر القادری کی تقاریر اور بیانات جوکہ غازی صاحب کے خلاف اور ملعو۔ن تاثیر کے حق میں تھیں ان کا جائزہ لیا ہے چند ایک مقامات کی نشاندہی کررہا ہوں تاکہ پتا چل سکے کہ زید قریشی کی نظر میں منہاجیوں اور شیخ المنہاج کی علمی حیثیت اور مقام کیا ہے ۔

(1)- زید قریشی طاہر القادری کاتعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں :👇

“عالمی امن کے داعی مصنف تصانیف کثیرہ روز اول سے اہل سنت و جماعت کے حلقوں میں متنازع ترین شخصیت ڈاکٹر طاہر القادری صاحب”(قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے صفحہ 226)

(2)-طاہر القادری کی کتابیں غلطیوں کا پلندہ ہیں جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

” اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں بھی بے شمار مقامات پر عربی عبارات کے اردو ترجموں میں شدید نوعیت کی غلطیاں ہیں اور کئی مقامات پر تو ایسی فحش غلطیاں ہیں کہ ایک ادنی سا طالب علم بھی حیران رہ جاتا ہے کہیں مصدر کو مبالغہ کا صیغہ تو کہیں اسم اشارہ کو اسم ضمیر قرار دیا جا رہا ہے تاہم ان تمام چیزوں کو مسامحات کی بجائے اگر ہم جہالت پر محمول کریں تو یقیناً منہاج القرآن کے فضلاء مشتعل ہوں گے۔(صفحہ313)

(3)-طاہر القادری گستاخوں کا حامی ہے جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇
“ساری زندگی عشق رسول اور غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کا درس دینے والی شخصیت گستا۔خوں کی حمایت میں کیوں کر بولنے لگی “(ص227)

(4)-بعض منہاجیوں نے طاہر القادری کا کلمہ پڑھا ہے جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇
“بہت سارے منہاجین نے ڈاکٹر صاحب کو الوداع کہا اور بہت سارے خاموشی کا روزہ رکھ چکے ،کچھ حضرات نے غالباً کلمہ ہی ڈاکٹر صاحب کا پڑھا ہوا ہے ، بایں طور انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بے جا حمایت کرتے ہوئے ملعو۔نہ عا۔صیہ مسیح تک کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔(ص227)

(5)-طاہر القادری کا بیان خلاف شریعت ہے جس میں ایک کا۔فر و مر۔تد کی حمایت ہے ایسا بیان کوئی سیکولر بھی نہیں دے سکتا ، طاہر القادری کے ary newsپر دئیے گئے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

“ڈاکٹر صاحب کی یہ سٹیٹمنٹ خلاف توقع اور خلاف شریعت تھی ان کے اس انٹرویو سے کروڑوں مسلمانوں جن میں علماء بھی ہیں مشائخ بھی اور عوام کی بھی دل آزاری ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے شخص کی زبان سے خلاف توقع ایک صریح مرتد و کافر کی حمایت ایک مجاہد و عاشق رسول کی مخالفت اور اپنی تقریر و تقریر کے خلاف دی گئی سٹیٹمنٹ کے باعث پورے ملک میں ڈاکٹر صاحب کے محبین طبقوں میں صف ماتم بچھ گئی اور دیگر عاشقان رسول کو بھی گہرا صدمہ اٹھانا پڑا کہ اس طرح کی سٹیٹمنٹ تو اج تک کسی سیکولر انتہا پسند کو بھی دینے کی جرات نہ ہوئی تھی اخر ڈاکٹر صاحب نے یہ سب کچھ کیوں اور کیسے کہہ ڈالا؟ (ص232-233)

(6)-طاہر القادری نے اپنی غلطی ماننے کی بجائے گناہ پر گناہ کیا اور 295c میں تشکیک پیدا کی جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

” ڈاکٹر صاحب کی طرف سے کئی گھنٹوں پر مشتمل خطاب کیا گیا جس میں انتہائی غیر ضروری مباحث کو چھیڑا گیا ، اپنی سراسر غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے عذر گناہ بدتر از گناہ کرتے ہوئے خود نامو۔س رسالت کے قانون 295c میں ہی تشکیک کا بیج بو دیا گیا”(صفحہ 233)
مزید لکھتے ہیں : “ڈاکٹرصاحب کے انٹرویو کو بغور سنا جائے تو قرآن و سنت کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب کی تینوں باتیں سراسر غلط ہیں”(صفحہ 234)

(7)-طاہر القادری خائن ہے جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

“آنجناب نے سلمان تاثیر کے انٹرویو کے الفاظ کو ذکر کرتے ہوئے انتہاء درجے کی خیانت کی ہے ۔(صفحہ 302)

ایک جگہ لکھا ہے : ڈاکٹر صاحب کے اپنے انٹرویو کی وضاحت کے لیے کی گئی گفتگو میں کئی مقامات پر واضح تضادات بھی ہیں اور متعدد مقامات پر ان کی شدید علمی خیانتیں بھی ، ممکن ہے کہ اس میں ڈاکٹر صاحب کی عدم توجہ بھی شامل ہو۔ تاہم ظاہری حالات بتا رہے ہیں کہ موصوف نے اپنے مقصد کی خاطر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔(صفحہ309)
مزید ایک جگہ لکھتے ہیں : ڈاکٹر صاحب کی عادت ہے کہ وہ اپنے موقف پر ضعیف سے ضعیف ترقول یا روایت کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ان کے سُننے والے اس کو ” محکمات و قطعیات ” کا درجہ دے کر حجت قویہ قرار دیتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب اس سلسلے میں علمی خیانتوں سے بھی اجتناب نہیں فرماتے۔(صفحہ324)

(8)-طاہر القادری کا موقف خلاف سُنت ہے جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇
” ڈاکٹر صاحب سے گزارش ہے کہ کیا حدیث پاک کے واضح ارشاد اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کے باوجود بھی آپ کا موقف تسلیم کیا جا سکتا ہے اور کیا واضح طور پر آپ کا موقف سنت مصطفی کے خلاف نہیں ہے؟ (صفحہ 247)

(9)-طاہر القادری کی “فقہ طاہریہ” زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

“ڈاکٹر صاحب کے متعدد بیانات سننے کو ملے ہیں کہ جہاں آپ فقہاء اربعہ کے اقوال ذکر کر کے کہتے ہیں کہ فقہاء اربعہ کا موقف تو یہ ہے تاہم میرا موقف اس معاملے میں یہ ہے گویا ڈاکٹر صاحب خود کو درجہ اجتہاد پر فائز شخصیت سمجھتے ہیں اور اپنے خطبوں میں زور دے دے کر اور لفظوں کو دبا دبا کر بولتے ہوئے کہتے ہیں: کہ اس مسئلے میں میں یہ کہتا ہوں گویا حضرت کے انداز بیان سے زیر بحث مسئلہ میں بھی ہم یہی سمجھ سکتے ہیں کہ زیر بحث مسئلہ فقہ حنفی ، فقہ شافعی ، فقہ مالکی و حنبلی کے خلاف صحیح مگر “فقہ طاہریہ” کے مطابق درست ہے۔(صفحہ 267)

(10)-طاہر القادری کا بیان شریعت کے خلاف ، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور رجوع کریں جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

“یہ مسئلہ روز روشن کی طرح عیاں ہوا کہ انٹرویو دیتے وقت ڈاکٹر صاحب کی زبان بری طرح لڑکھڑائی اور انہوں نے سراسر خلاف شریعت سٹیٹمنٹ دی ہے ، جس سے رجوع اور اللہ سے معافی مانگنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔(صفحہ 267)

(11)-طاہر القادری کے شاگرد اس کا غلط دفاع کرکے پرویزی طریقے پر چل رہے ہیں جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

“میری ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں سے گزارش ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے خلاف شرعی باتوں کا جواب دیتے ہوئے بالکل دین کا حلیہ نہ بگاڑیں ، کیونکہ یہ سرا سر “پرویزی” سٹائل ہیں۔(صفحہ 269)

(12)-طاہر القادری کے چاہنے والے ملعون تاثیر کا دفاع کرتے ہیں جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇
“ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین توہین رسالت کے حوالے سے عوام کو لفظوں کے ہیر پھیر میں اُلجھا رہے ہیں کہ کون کون سے لفظوں سے گستاخی ثابت ہوتی ہے اور کون سے لفظوں سے نہیں ، کہاں نیت معتبر ہوگی اور کہاں نہیں ، چنانچہ وہ سلمان تا۔ثیر کے کُ۔فر کے ناکام دفاع میں اپنی گزشتہ تحریروں کا رد پہ رد کیے جا رہے ہیں۔(صفحہ 287)

(13)-طاہر القادری ملعو۔ن تاثیر کا دوست تھا جیسا کہ زید قریشی صاحب اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :👇

“ایسے شخص کو مر۔تد قرار دینے میں سوائے ڈاکٹر صاحب کی دیرینہ دوستی کے اور کیا چیز حائل ہوسکتی ہے ۔(صفحہ 289)

(14)-طاہر القادری خود ساختہ مجدد ہے اور عقیدے بدلتا رہتا ہے جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇

” گزشتہ صفحات میں آپ نے ڈاکٹر صاحب کے دعوی مجددیت سے پہلے کا نظریہ ملاحظہ فرما لیا کہ آنجناب کے ہاں محض اشارتاً ، کنایتاً ، اتفاقیہ ، بلا نیت توہین محض توہین کے وہم و شائبہ والا لفظ بھی شان حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں بولا جائے تو بھی گستا۔خی ثابت ہو جاتی ہے اب آپ نے ڈاکٹر صاحب کے “دعوی مجددیت” ” بین المذاہب کانفرنس” کے بعد کا نظریہ ملاحظہ فرما لیا ، روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جناب کا نظریہ و عقیدہ بالکل بدل چکا ہے۔(صفحہ 301)

(15)-منہاجی سلمان تاثیر کا دفاع کرتے ہیں گستاخوں کے حامی ہیں جیسا کہ زید قریشی صاحب لکھتے ہیں :👇
“آج اس کے سکالرز اور متعلقین ملک کے طول و عرض میں سلمان تا۔ثیر کا دفاع کر رہے ہیں اور درس عرفان القرآن کی نشستیں گستاخوں کی حمایت میں سجائی جا رہی ہیں اور گورنر کے دفاع کے ضمن میں منہاج القرآن کے فضلا دبے لفظوں میں ملعو۔نہ عا۔صیہ کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔(صفحہ307)

(16)آخر میں زید قریشی صاحب کی طرف سے طاہر القادری اور منہاجیوں کیلئے دعا 🤲

” اے اللہ کی قیامت کے دن ہمیں غا۔زی صاحب کی معیت عطا فرما اور ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین کو سلمان تاثیر۔۔ اور عاصیہ مسیح۔۔۔کا ساتھ عطا فرما۔(صفحہ 325)

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
17/4/24ء

Exit mobile version