اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بتوں کو چھوڑے رہیے۔ اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ رکھیے۔ اور اپنے کی خاطر صبر کیجئے۔ پس جب صور میں پھونک ماری جائے گی۔ تو وہ بہت مشکل والا دن ہوگا۔ کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔ (المدثر : ١٠۔ ٥)
عصمت انبیاء پر ایک اعتراض کا جواب
اس آیت میں ” الرجز “ کا لفظ ہے اور اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :
العتبی نے کہا : ” الرجز “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
جب فرعونیوں پر کوئی عذاب آتا تو وہ کہتے، اللہ نے جو آپ سے عہد کیا ہوا ہے، اس کی بناء پر آپ اپنے رب سے دعا کیجئے، اگر آپ نے اس عذاب کو ہم سے دور کردیا تو ہم ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔
پھر شیطان کے مکرو فریب کا نام بھی ’ ’ الرجز “ رکھا گیا کیونکہ وہ عذاب کا سبب ہے، اور بتوں کا نام بھی ” رجز “ رکھا گیا کیونکہ ان کی پرستش بھی عذاب کا سبب ہے، اس تفسیر کی بناء پر اس آیت معنی ہے : آپ حسب سابق تمام انواع و اقسام کے معاصی سے احتراز کرتے رہیں اور اپنی اسی خصلت پر ڈٹے رہیں۔
جو لوگ عصمت انبیاء کے قائل نہیں ہیں، وہ اس آیت سے اپنے مؤقف پر استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ آپ پہلے معاصی کا ارتکاب کرتے تھے، تبھی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو ارتکاب معصیت سے منع فرمایا ہے کہ آپ گناہ نہ کریں، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں آپ کو گناہ نہ کرنے کے دوام کا حکم دیا ہے، جیسا کہ ہم نماز میں کہتے ہیں : ” اھدنا الصراط المستقیم “ ہم کو سیدھے راستے کی ہدیات دے، اس کا یہ مطب نہیں ہے کہ ہم پہلے ہدایت یافتہ نہیں ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو ہدایت پر ہمیشہ برقرار رکھ، اگر ہم پہلے ہی ہدایت یافتہ نہ ہوتے تو نماز کیسے پڑھتے ؟