Site icon اردو محفل

وَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 7

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ ۞

ترجمہ:

اور اپنے رب کی خاطر صبر کیجئے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کا حکم دینے کی وجوہ

اس آیت میں حسب ذیل وجوہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے :

(١) جب آپ کو مال دیا جائے تو آپ حسب مزاج اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کردیں اور اس سے مال میں جو کمی ہوگی اس پر آپ حسب عادت اپنے رب کی رضا کے لیے صبر کیجئے۔

(٢) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرائیں، آپ اپنے رب کی بڑائی بیان کریں، اپنے کپڑے پاک رکھیں، اور ہمیشہ معصیت سے مجتنب رہیں، اور بیشک ان احکام پر عمل کرنا بہت سخت اور مشکل ہے سو آپ اپنے رب کی رضا کے لیے ان مشکل احکام پر صبر کیجئے۔

(٣) قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور اللہ عزوجل کی بڑائی بیان کرنے کی وجہ سے یہ قوم آپ کا مذاق اڑائے گی اور آپکی مذمت کرے گی، آپ قوم کو ان دل خراش باتوں پر صبر کریں۔

(٤) ان آیات میں مشرکین کو تعریض ہے، احکام آپ کو دیئے ہیں اور سنایا مشرکین کو جا رہا ہے، آپ سے فرمایا ہے : اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے یعنی مشرکین اپنے رب کی بڑائی نہیں بیان کرتے بلکہ بتوں کی بڑائی بیان کرتے ہیں، آپ سے فرمایا ہے اپنے کپڑے پاک رکھیں، یعنی مشرکین اپنے کپڑے پاک نہیں رکھتے بلکہ نجس اور گندے رکھتے ہیں، آپ سے فرمایا ہے بتوں کو چھوڑے رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرنے پر برقرار رہیں، یعنی مشرکین بتوں کو نہیں چھوڑتے بلکہ ان کی پرستش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں، آپ سے فرمایا : زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ رکھیں یعنی مشرکین کسی کو کچھ دے کر اس پر احسان کرتے ہیں تو اس سے زیادہ لینے کی توقع کرتے ہیں، آپ سے فرمایا : اور اپنے رب کی خاطر صبر کیجئے یعنی مشرکین مصائب پر صبر نہیں کرتے، کوئی مرجائے تو نوحہ کرتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں، اگر ان کی مرضی کے خلاف لڑکی پیدا ہوجائے تو اس کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 7

Exit mobile version