Site icon اردو محفل

خدا کو کس نے بنایا ؟

خدا کو کس نے بنایا ؟
ملحدین کا مشہور سوال !
لیکن اندھا دھند جواب دینے سے قبل ذرا ٹھہریے ۔۔۔!
کیا یہ سوال درست ہے ؟
کیا یہ فی الحقیقت سوال کہلانے کے لائق ہے ؟
یہ سوال فی الحقیقت سوال ہی نہیں بلکہ دو باہم متناقض امور کو اکٹھا کر کے سوال کی شکل دے دی گئی ہے اور دو باہم متناقض امور کا اجتماع محال عقلی ہے
اس سوال کے عقلی و منطقی اعتبار سے غلط اور محال عقلی ہونے کی مثال یوں ہے
جیسے کوئی یہ کہے کہ
❶ اگر تاروں کا وجود ہے تو وہ دن کو کیوں دکھائی نہیں دیتے ؟
❷ اگر سورج اپنا وجود رکھتا ہے تو وہ رات کو کیوں دکھائی نہیں دیتا ؟
❸ ایک شخص بیک وقت زندہ اور مردہ کیوں نہیں ہو سکتا ؟
❹ اندھیرے اور اجالے کا وجود بیک وقت کیوں نہیں ہو سکتا ؟
❺ ایک شخص بیک وقت زمین اور خلا میں کیوں نہیں ہو سکتا
سمجھنے کے لیے تو ایک ہی مثال کافی ہے !
امید ہے اب اس سوال نما مغالطے  کا غیر عقلی ہونا واضح ہو چکا ہو گا
اب ہمارے بھولے بھالے مسلمان کیا کرتے ہیں یہ اس سوال نما مغالطے کا اپنے تئیں جواب دینے کے لیے فرض کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ بالفرض محال ایسا مان لیا جائے کہ خدا کا کوئی بنانے والا ہے تو یوں یوں ہو گا ۔۔۔!
یعنی ایک منطقی مغالطہ جس کا عقلی طور پر غلط ہونا واضح کیا جانا چاہیے اور ہمارے مسلمان اس کے برعکس اس کا جواب دینے کے لیے خود منطقی مغالطوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسے متناقض امور فرض کرنے لگتے ہیں جن کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔ جیسے کہ
اگر بالفرض محال یہ تسلیم کر لیا جائے کہ
خدا کا کوئی بنانے والا ہے تو اس کا بھی کوئی بنانے والا ہو گا یا یہ سوال پھر پیدا ہو جائے گا کہ خدا کو بنانے والے کو کس نے بنایا
جو امور محال عقلی ہیں انہیں فرض بھی نہیں کیا جا سکتا اگر یہ کہا جائے کہ یہ قضیہ شرطیہ ہے تو  قضیہ شرطیہ میں ایک شئے کے ثبوت سے دوسرے کی نفی کی جاتی ہے ۔ اگرچہ صدق شرطیہ کے لیے صدق مقدم و تالی لازم نہیں لیکن وجود علاقہ لازم ہے کیونکہ قضیہ شرطیہ  میں علاقہ پر ہی مدار حکم ہے ۔ اب مذکورہ صورت محال عقلی ہونے کے ساتھ ساتھ قضایہ کے زمرے میں بھی نہیں آتی
لہذا ایسا امر فرض کرنا بھی درست نہیں ۔
اب اس کا جواب کیا ہو گا ؟
سب سے اول تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر سوال جواب کے لائق نہیں ہوتا
ہاں ایسے سوال نما منطقی مغالطوں سے چونکہ کم علم اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لہذا لازم ہے کہ پہلے اس سوال نما مغالطے کی حقیقت بتلائی جائے  ۔اس کے بعد اسلام کے نزدیک خدا کا تصور واضح کیا جائے کہ ہم جسے خدا اور الہ مانتے ہیں اس کی خصوصیات کیا ہیں ۔
اسلامی تصور الہ  کے مطابق خدا وہ ہے جو
❶ محدث عالم ہے (تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے)
❷  قدیم ہے ( ہمیشہ سے ہے اس کی کوئی ابتداء نہیں اور کوئی انتہاء نہیں )
❸ واجب الوجود ہے (اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں )
❹ قادر ہے ( ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ہے یعنی جو کرنا چاہے کر سکتا ہے)
❺ وہ نہ عرض ہے نہ جسم نہ جوہر اور نہ صورت والا ہے (جسم و جسمانیت  وغیرہ سے پاک ہے)
❻ وہ لامحدود ہے (زمان و مکان سے ماوراء ہے)
❼ لیس کمثلہ شئی (وہ کسی شئے کے مثل نہیں )
اب خدائے تعالیٰ کے اس اسلامی تصور کو ذہن میں رکھ کر بتایئے کہ کیا یہ سوال درست ہے کہ “خدا کو کس نے پیدا کیا ” ؟ کیا یہ سوال نما مغالطہ اس لائق ہے کہ اس کا جواب دیا جائے ؟ یا انسب یہ ہے کہ اس مغالطے کی حقیقت بیان کی جائے ؟
اب جو مسلمان ایسے مغالطوں کا جواب دینا شروع ہو جاتے ہیں ان کا کیا خیال ہے کہ وہ اسلام کی کوئی خدمت کر رہے ہیں ؟ جو مسلمان ایسی چیز فرض کر لے اس کا تو اپنا ایمان داؤ پر لگ جاتا ہے وہ کسی ملحد کو کیا خاک مسلمان کرے گا ؟؟؟

✍️مُحمّد إسحٰق قریشي ألسلطاني

Exit mobile version