تحریر . علامہ شہزاد مجددی صاحب
ہمارے خطبا مقررین کا یہ حال ہے کہ جس کتاب نزھة المجالس پر ہمارے محدثین و اکابرین نے اعتماد ہی نہیں کیا ۔۔جس کتاب کی قرات امام سیوطی نے حرام قرار دی اور محدث دمشق برہان الدین نے بھی اس کتاب کو پڑھنے سے منع کیا ۔۔اس کتاب سے حاضرین محفل کو واقعات سناۓ جاتے ہیں ۔۔۔جو واقعہ مولا علی اور جبریل امین سے منسوب سنایا جاتا ہے یہ بھی نزھة المجالس میں ہی ہے ۔۔بغیر سند کے ۔۔
شیخ صفوری ایک مؤرخ اور ادیب تھے.
– نام: عبدالرحمن بن عبدالسلام الصفوري.
– تاريخ الوفاة: 894ھ.
–
اکثر مقرروں کی پسندیدہ کتاب ” نزھة المجالس” کا حال
کتاب ہر موضوع پر مشتمل مواد سے بھری پڑی ہے اور اس کتاب میں ہر طرح کی صحیح اور غلط روایات کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، ابتداء سے ہی علمائے کرام نے اس کتاب پر اعتماد نہیں کیا.
محمد بن محمد ابو شھبہ لکھتے ہیں
جن کتب سے اجتناب کرنا چاہیے، ان میں سے کتاب “نزھةالمجالس” بھی ہے، اس کتاب میں عام لوگوں کی عقلوں کو برباد کیا گیا ہے، کیوں کہ اس میں بہت زیادہ من گھڑت باتیں اور جھوٹ لکھے گئے ہیں اور جب صفوری نے یہ کتاب لکھی تو محدث دمشق برھان الدین ناجی نے اس کا معارضہ کیا(اس پر تبصرہ و تنقید کی ہے) اور ان کی غلطیوں اور جھوٹ کو پکڑا ہے اور یہ بیان کیا کہ اس کتاب میں جو کچھ ہے، وہ بہت زیادہ من گھڑت ہے اور اس میں سے ایک رسالہ لکھ کر امام سیوطی کے پاس مصر بھیجا تو امام سیوطی نے اس کے من گھڑت اور اس کی بناوٹ پر برھان الدین ناجی کی بات سے اتفاق کیا۔
ابن طولون نے “مفاكهة الخلان ” میں لکھا ہے
امام صفوری کی اس کتاب میں ذکر کردہ موضوع (من گھڑت ) اور بے اصل روایات کی بنیاد پر شیخ شہاب الدین الحمصی نے جامع اموی سے ان کی درس کی کرسی( مسند)ہٹانے کا حکم دیا۔
وفی مفاكهة الخلان في حوادث الزمان لابن طولون الدمشقي۔۔۔۔وقال الشهاب الحمصي في ذيله: وفي يوم الخميس خامس عشر جمادى الأولى منها، منعت زين الدين الصفوري، المحدث من القراءة بالجامع الأموي، ومن غيره، وأمرت بشيل كرسيه من الجامع الأموي، وسببه أنه جمع كتاباً سماه: نزهة المجالس وذكر في أحاديث موضوعة على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم أحضر الكتاب المذكور وذكر أنه تاب ورجع عن الأحاديث الموضوعة فيه، وأنه لا يعود لذلك، والله يعلم المفسد من المصلح.
{ مفاكهة الخلان في حوادث الزمان لابن طولون الدمشقي،جلد ١/١٣١ طبع دار الكتب العلمية }
ومما ينبغي الحذر منه كتاب “نزهة المجالس”, فقد أفسد عقول العامة بما فيه من خرافات وأكاذيب، ولما ألف الصفوري هذا الكتاب عارضه برهان الدين الناجي محدث دمشق، وبين كثرة ما فيه من موضوع, وقد جمع منه رسالة وأرسلها إلى الإمام السيوطي بمصر فوافقه على كثير منها بالوضع والاختلاق۔۔
{ الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شُهبة صفحہ ٣٥٥ طبع دار الفكر العربي }
حساب لگا لیں جس کتاب کیوجہ سے مصنف کو عہدے سے ہٹایا گیا آج کل وہی کتاب اکثر مقرروں کی فیورٹ کتاب ہے۔۔۔الامان والحفیظ۔
دارالاخلاص لاہور
