Site icon اردو محفل

لَا تُبۡقِىۡ وَ لَا تَذَرُ‌ۚ سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 28

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تُبۡقِىۡ وَ لَا تَذَرُ‌ۚ ۞

ترجمہ:

نہ وہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نہ وہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے۔ وہ کھال کو جھلسانے والی ہے۔ اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔ اور ہم نے دوزخ کے محافظ صرف فرشتے بنائے ہیں، اور ہم نے ان کی یہ تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے، تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور ایمان والوں کا نور اور زیادہ ہوجائے اور نہ اہل کتاب شک کریں اور نہ ایمان والے اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ اور کفاریہ کہیں کہ اللہ نے اس عجیب بات کو بیان کر کے کیا ارادہ فرمایا ہے، اسی طرح اللہ جس میں چاہے گم راہی پیدا کردیتا ہے، اور اللہ کے لشکروں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ صرف بشر کے لیے نصیحت ہے۔

(المدثر : ٣١۔ ٢٨ )

دوزخ کی صفات کے متعلق قرآن مجید کی آیات

المدثر : ٢٨ میں فرمایا : نہ وہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے۔

اس کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک ان دونوں جملوں کا معنی واحد ہے، اور دونوں جملوں کو محض تاکید کے لیے لایا گیا ہے، اور بعض کے نزدیک ان دونوں جملوں کے معنی متغایر ہیں اور ان میں درج ذیل وجوہ سے فرق ہے :

(١) دوزخ خون، گوشت اور ہڈیوں میں سے کسی چیز کو باقی نہیں رکھتی اور جب ان کو دو با رہ پیدا کردیا جاتا ہے تو ان کے جلانے کو نہیں چھوڑتی اور دوبارہ زیادہ شدت کے ساتھ جلاتی ہے اور غیر متناہی مدت تک اس طرح ہوتا رہتا ہے۔

(٢) جو عذاب کے مستحق ہیں ان کو عذاب دیئے بغیر باقی نہیں رکھتی، پھر ان کے بذنوں کو ضرور جلاتی ہے اور جلائے بغیر نہیں چھوڑتی۔

(٣) ان عذاب یافتہ لوگوں کے بذنوں میں سے کسی چیز کو باقی نہیں رکھتی، پھر یہ آگ اپنی قوت اور شدت سے ان کو جلائے بغیر نہیں چھوڑتی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 28

Exit mobile version