Site icon اردو محفل

ریاض شاہ پنڈوی

آپ کو یاد ہو گا چند برس قبل جب ریاض شاہ نے تقریر سے قبل سٹینڈ پر لگا ،،حق چار یار،، کا مونوگرام اپنے سامنے سے ہٹا دیا۔ میں نے ریاض شاہ کے اس گھناؤنے عمل پر ایک پوسٹ لکھی جو بہت مختصر وقت میں بہت زیادہ وائرل ہو گئی ۔ نماز ظہر کے بعد لاہور کے ایک معروف نقیب محفل  جو کیو ٹی وی پر بھی پروگرام کرتے ہیں۔ میرے ساتھ پرانے مراسم ہیں ( فی الحال نام لکھنا مناسب نہیں اگر ضرورت پڑی تو نام بتا بھی دوں گا ) مجھے ان کا فون آیا۔سلام دعا اور روایتی جملوں کے بعد مجھے کہنے لگے کہ شاہ جی مجھے ابھی پنڈی سے ریاض شاہ صاحب کا فون آیا ہے اور آپکے بارے میں پوچھا کہ آپکے ساتھ میرا تعلق کیسا ہے تو میں نے بتایا کہ اسد اللہ شاہ صاحب کیساتھ بہت گہرا اور پرانا تعلق ہے تو مجھے ریاض شاہ صاحب نے کہا کہ انہوں نے میرے حوالے سے ایک پوسٹ لگائی ہے آپ انکو کہہ کر وہ پوسٹ ڈیلیٹ کروا دیں ۔ میں نے کہا یہ تو ممکن ہی نہیں جب تک کہ وہ اپنے اس فعل پر معافی نہ مانگ لیں۔ ان صاحب نے اپنے تعلق کی بنیاد پر مجھے بہت زور دیا مگر میں نے کہا کہ اگر میری ذات یا کوئی دنیاوی رنج ہوتا تو میں ضرور آپکی بات مان جاتا  مگر یہاں بات ایمان اور عقیدے کی ہے میں کسی صورت ڈیلیٹ نہیں کروں گا
فون بند ہونے کے چند منٹ بعد ہی پھر ان صاحب کا فون آتا ہے اور مختلف تاویلات جو ریاض شاہ نے انہیں بتلائیں وہ مجھے بتانے لگے مگر میں نے وہ سب مسترد کر دیں ۔ ایک بار پھر چند منٹوں کے بعد ان کا فون آتا ہے کہ ریاض شاہ صاحب آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں میں نے کہا کہ میں نے صبح آذاد کشمیر جانا ہے اس لئے ممکن نہیں ۔ ایک بار پھر مجھے فون آتا ہے کہ ریاض شاہ صاحب کہتے ہیں کہ جاتے وقت مجھے ملتے جائیں میں میزبانی کرنا چاہتا ہوں میں نے کہا میرے پاس وقت نہیں ۔۔۔ ایک بار پھر فون آتا ہے کہ ریاض شاہ صاحب کہتے ہیں کہ اگر آپ اجازت دیں تو ابھی آپ کے پاس چُورہ شریف حاضر ہو جاتا ہوں دراصل وہ اپنے  کیو ٹی وی کے پروگرام
؛؛ممبرومحراب؛؛  میں چھے ماہ کےلئے آپکی صدارت،اختتامی کلمات اور دعا کےلئے آپکو مدعو کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے جواب دیا کہ میڈیا پر جتنے میرے چاہنے والے لوگ ہیں جو بڑے بڑے چینلز کو چلا رہے ہیں شاید آپکو۔اندازہ نہیں میں لوگوں کو ان چینلز پر بھیجتا ہوں مگر خود اپنے لئے پسند نہیں کرتا اس لئے آپکی اس پیشکش پر بھی معذرت اب اس کے بعد غالباً عشاء کی نماز کے بعد پھر انہی صاحب کا پھر فون آتا ہے کہ ریاض شاہ صاحب نے اب مجھے کہا ہے کہ میری کیو ۔ٹی وی کے مالک سے بات ہو گئی ہے ۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اسد اللہ شاہ صاحب سے پوچھیں کہ انکو کراچی کا ٹکٹ بھیجوں یا میں خود چُورہ شریف حاضر ہو جاؤں۔ ریاض شاہ صاحب نے اس سے بات کر لی ہے کہ ہر ہفتے وہ کیو ٹی وی پر آپکا 30 منٹ کا پروگرام بھی نشر کریگا اور آپ کو ایک بھاری نذرانہ بھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ سن کر میرے صبر کا پیمانہ جواب دے گیا ۔۔۔ میں نے اپنے اس دوست کو کہاکہ  میرا آپ سے 30 سال کا تعلق ہے تمہیں نہیں معلوم کہ میں کس مزاج اور طبیعت کا انسان ہوں اگر آپکےساتھ ایک تعلق نہ ہوتا تو تمہاری طبیعت بھی صاف کر دیتا ۔ آپ سب کیا میرا ایمان اور ضمیر خریدنا چاہتے ہو۔ بہرحال میں نے کچھ سخت جملے کہے جو یہاں لکھنے مناسب نہیں ۔ اور صاف صاف کہا کہ خبردار آئندہ اس حوالے سے مجھے فون مت کرنا وگرنہ میں کوئی لحاظ نہیں رکھوں گا ۔
آپ۔لوگ صاحب عقل ہیں یقیناً سمجھ چکے ہونگے کہ کس ارادے اور نیت سے ریاض شاہ اور اسکا گروپ مجھے ملنا چاہ رہا تھا۔ آپ بخوبی جان چکے ہونگے
ایک عرصہ ہوا مگر اپنے چند قریبی دوستوں کے علاوہ میں نے یہ بات کبھی کسی کو نہیں بتائی ۔ مگر اب آئے روز  یہ ریاض شاہ جس طرح مقدس ترین ہستیوں کی گستاخی اور بے ادبی کر رہا ہے میں نے اس کا اصل چہرہ دکھانے کےلئے یہ واقعہ تحریر کیا ہے کہ ذرا سوچیں کہ کس طرح یہ بدبخت بلکہ پورا گروہ لوگوں کے ایمان خریدتا ہے ۔
مگر ان لوگوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ جس کے گلے میں جناب سیدنا مجدد الف ثانی رحمت اللہ علیہ کی نسبت کا پٹہ ہو تم اسکو کیا خریدو گے ۔ ہمارے جوتے کا غبار بھی نہیں خرید سکتے
میں اپنی اس تحریر کے ایک ایک لفظ اور جملے کی سچائی کا ذمہ دار ہوں ۔ اور اس پر جہاں کہیں حلف بھی دے سکتا ہوں
العاجز؛ پیر سید اسد اللہ شاہ غالب
سجادہ نشین آستانہ عالیہ چُورہ شریف

Exit mobile version