حضرت علامہ خلیل الرحمٰن چشتی علیہ الرحمہ صاحب بہت ملنسار اور بااخلاق عالم تھے۔
2004 سے 2009 تک میری ان سے ملاقات رہیں، ان کے بیانات سنے۔۔میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں فجر کے بعد بیان کرنے آتے اسی طرح نور مسجد کاغذی بازار میں بھی کئ بیانات ہوتے۔۔ جوانی کی عبادت ان کا مشہور بیان تھا جو یہ ہر سال اعتکاف میں کرتے اور ان کے بیانات سن کر نوجوان زار و قطار روتے تھے، بیماری سے قبل بہت پر جوش جوشیلے خطیب تھے۔
کچھ عرصہ نیو میمن مسجد بولٹن مارکٹ میں بھی خطابت کی ۔
مرد مومن مرد حق علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے۔ اپنے اساتذہ اور بزرگوں کا بڑا احترام کرتے تھے۔ چھوٹوں پر شفقت فرماتے اور مجھے اکثر محبت میں عبدالرحمن بھائی کہہ کر بلاتے۔
ایک عرصہ تک بلدیہ ٹاؤن سے پورے شہر میں موٹر بائیک / اسکوٹر پر سفر کرتے رہے ۔۔
اچھے فاضل محنتی عالم تھے۔۔۔سانحہ نشتر پارک کے غازی تھے۔
انجمن طلباء اسلام اور جماعت اھلسنت سے بہت محبت کرتے اور ایک عرصہ دراز تک ان سے وابستہ رہے اور مسلک کی شاندار خدمت کی۔
اللہ تعالٰی ان کی پرخلوص خدمات دینیہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی جگہ عطا فرمائے۔
آمین
مفتی عبدالرحمن قادری
ملاوی افریقہ
