Site icon اردو محفل

حُسین ہونا آسان کہاں

______________حُسین ہونا آسان کہاں !!

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

ہجرت رسول کا چوتھا سال اور شعبان المعظم کی پانچویں تاریخ تھی کہ گلستان جان احمد ﷺ میں ایک اور شگفتہ پھول کی آمد ہوئی۔نانا جان کی شفیق بارگاہ سے “حسین” جیسا منفرد نام عطا ہوا، جو ان کے برادر اکبر “حسن” ہی کی طرح تاریخ انسانی کا پہلا نام تھا۔اس طرح ہمارے حسین پیدا ہوتے ہی کائنات عالم میں منفرد شان کے مالک بن گیے۔منفرد نام عظمتوں کی ابتدا تھا نہ انتہا، ان کی عظمت کی ابتدا تو ان کے وجود مسعود کے اول وقت ہی سے ان کا مقدر ہوگئی تھی، جب بنت رسول ، راحت جان احمد ﷺ ، خاتون  جنت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور باب مدینۃ العلم، مولائے کائنات سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے خون کے امتزاج سے وجود حسین تیار ہوا۔بواسطہ والدہ معظمہ ان کے خون میں خون رسول کی خوش بو اور طہارت شامل ہوچکی تھی۔اس طرح شکم مادر ہی سے عظمتیں امام حسین رضی اللہ عنہ کے قدموں پر نثار تھیں۔آنکھیں کھولیں تو امام الانبیا، سید عالمﷺ کا مسکراتا ہوا رخ تاباں نگاہوں کے سامنے پایا۔کھیلنے کو فاطمہ زہرا کی گود، سیدنا علی کا سینہ اور “شمع بزم ہدایت” کی پشت مبارک ملی۔کائنات میں ان کے ماموؤں جیسا کوئی تھا نہ کوئی ان کی خالاؤں کی مثل۔ان کے امی/بابا تو پروردہ رسالت کا منفرد شرف رکھتے ہی تھے، بھائی بھی سردار جنت جیسا ملا۔ان کی نانی غمگسار پیغمبر اور امت کی مادر مشفقہ تھیں اور ان کے نانا کا تو کہنا ہی کیا وہ تو وجہ کائنات، محبوب پروردگار اور فخر آدم تھے اور ہیں۔اس سے زیادہ اعزازات بھلا اور کیا ہو سکتے تھے؟ قدرت الہی نے زمانے بھر کی تمام عظمتیں بچپن ہی سے امام حسین کی گود میں ڈال دی تھیں۔

کیا  بات  رضا   اس  چمنستــــــــان کرم  کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

_________اب تک ربیع الاول کا چاند لوگوں کو رحمت عالمﷺ کی آمدِ آمد کے مژدے سناتے ہوئے آتا تھا، مگر سن گیارہ ہجری کا چاند غموں کی کالی چادر اوڑھ کر آیا۔حضور نبی آخرالزماں ﷺ نے اپنی حیات ظاہری کے دن مکمل کرکے وعدہ الہی کے تحت امت کی نگاہوں سے پردہ فرمایا۔سات سال کے ننھے حسین نانا جان کے جسد اطہر کے پاس کھڑے ہیں، مگر آج گھر کا منظر بالکل الگ ہے۔ہر وقت گل زار رہنے والے کاشانہ نبوت میں ایک عجیب سا ماحول ہے۔ہر چہرہ اداس اور افسردگی کی مورت بنا ہے۔والدہ کے چہرے پر زمانے بھر کا غم صاف نظر آرہا ہے۔سیدہ عائشہ کی آنکھوں میں قیامت گزرنے کے اثرات نمایاں ہیں۔بابا علی کے مضبوط کندھے بھی آج غم واندوہ سے ڈھلکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔اس طرح ایک قیامت کبری تھی جو سات سالہ حسین کے سر پر گزر گئی تھی۔جس نے خاندان اہل بیت کے چہروں کی بشاشت کو ماند کر دیا تھا۔

________ہمیشہ ناز ونعم اور اور ناز و انداز میں رہنے والے شہزادے حسین کے دل پر اس حادثہ فاجعہ نے گہرا اثر ڈالا۔ایک طرف نانا جان کی جدائی کا غم تھا جو دل کو چین نہیں لینے دیتا تھا دوسری جانب اپنے گھر کی خوشیاں بھی شاید کہیں روپوش ہو گئی تھیں، کہ نانا جان کے وصال پر ملال کے بعد سے مادر مہربان سیدہ فاطمہ کے لبوں کی مسکراہٹ پوری طرح غائب ہوگئی تھی۔بابا جان کی جدائی نے ان کی ساری راحتوں کو کلفت میں بدل دیا تھا۔مصیبتوں پر سدا مسکرانے والی سیدہ، غم وحزن کی مورت بن گئی تھیں۔شدت غم کا عالم یہ تھا کہ آپ فرماتی تھیں:

صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبُ لَوْ أَنَّهَا
صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا

“مجھ پر مصائب وآلام کے وہ پہاڑ ٹوٹے اگر وہ دنوں پر ٹوٹتے تو شدت غم سے دنوں کا اجالا بھی رات کے اندھیروں میں بدل جاتا۔

اِغْبَرَّ أَفَاقُ السَّمَاء وَکُوِّرَتْ
شَمْسُ النَّہَارِ وَأَظْلَمَ الْعَصْرَانِ

“آسمان کی پہنائیاں غبار آلود ہوگئیں ، دن کا سورج لپیٹ دیا گیا اور زمانہ تاریک ہوگیا۔”

ربیع الاول سے شروع ہوا غموں کا یہ سلسلہ شاید کہیں تھم جاتا تو شاید دل کو کچھ قرار مل جاتا مگر مقدر کی آزمائشیں شروع ہوچکی تھیں۔ربیع الاول کے بعد ربیع الثانی بھی سُونا ہی گزر گیا۔جمادی الاول کی ساعتیں لب فاطمہ پر مسکراہٹ لا سکیں نہ جمادی الاخرہ ہی کسی طرح کی شادمانی کا سامان کر سکا۔رجب وشعبان بھی لب فاطمہ پر مسکراہٹ کی امید میں یوں ہی گزر گیے۔ایک بے چینی تھی جو میرے حسین کو بے قرار رکھتی تھی۔گھر میں والدہ کا غم اور بابا کی اداسی چین نہ لینے دیتی۔مسجد نبوی آتے تو نانا جان کی عدم موجودگی سے دل اور پارہ پارہ ہوجاتا۔حجرہ عائشہ میں قرار ملتا نہ کاشانہ فاطمہ میں غم ہلکا ہوتا۔چھ ماہ کا وقت گزر گیا مگر قلب حسین پر چھائے ہوئے غم کے بادل کم نہ ہو سکے، یہاں تک کہ رب کی رحمتوں کا سائبان بن کر رمضان آگیا۔مگر کون جانتا تھا کہ اس بار کا رمضان بھی ربیع الاول کی طرح اپنے دامن میں جدائی کا فرمان لیکر آیا ہے۔رمضان کی تیسری تاریخ تھی۔سیدہ کی طبیعت کو قدرے قرار تھا۔آج بڑے دنوں کے بعد شہزادوں کو اچھے سے تیار کیا۔پیار کیا۔لاڈ وپیار کی برکھا میں حسنین کریمین نہا اٹھے، لگا کہ اب امی جان رحلت پدری کے غم سے باہر آرہی ہیں مگر یہ امید زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی کہ کچھ ہی وقت کے بعد قاصد اجل کے بلاوے پر سیدہ بھی اپنے بابا سے ملنے کے لیے رب کی مہمان ہوگئیں۔اس طرح چھ ماہ کی مختصر سی مدت میں نانا جان کے بعد سینے سے لگانے والی سیدہ فاطمہ بھی نگاہوں سے اوجھل ہو گئیں۔(جاری)

سیِّدہ  ، زاہرہ ، طیِّبــــــــــــــــه ، طاہرہ
جانِ احمـــد کی راحت په لاکھوں سلام

4 محرم الحرام 1446ھ
11 جولائی 2024 بروز جمعرات

Exit mobile version