*المیہ یہ ہے!*
✍️:محمد سلیم قادری رضوی ترابی۔
برکت کا تعلق روحانیت کے ساتھ ہے، جہاں روحانیت ہے وہاں برکت ہے، جہاں روحانیت نہیں وہاں برکت نہیں۔۔۔ آج المیہ یہ ہے کہ بڑے بڑے مدارس، مراکز تو موجود ہیں۔۔۔ قدم قدم پر مساجد ہیں لیکن ہمارے سینے روحانیت سے خالی ہیں۔۔۔
دین کا کام کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن کام میں برکت نہیں۔۔۔ وعظ و بیان کی محافل بکثرت ہوتی ہیں لیکن اس کے ثمرات دیکھنے سے ہم محروم ہیں۔۔۔
بہت کچھ لکھا جارہا ہے لیکن کتابوں میں وہ لذت و برکت نہیں جو اکابر کی کتب میں میسر آتی ہے۔
نعت خوانی شاید اس کثرت سے کبھی نہ ہوئی ہوگی، ہر جگہ نعت خوانوں کی بہتات ہے لیکن سوز و گداز معدوم ہے۔
دہائیوں پیچھے چلے جائیں تو ایک عام آواز کا مالک جو نہ طرزوں کا ماہر، نہ ہی آواز بہت منفرد، لیکن جب وہ نعت کے اشعار پڑھتا تو سننے والوں پر کیف چھا جاتا۔۔۔ سامعین رونے لگتے جبکہ آج بڑے بڑے نام ہیں، اچھے ایکو ساؤنڈ ہیں، لیکن وہ سرور میسر نہیں۔
ہماری تبلیغی جماعتوں کے ورکرز کی دعوت میں وہ پہلے جیسی تاثیر نہیں رہی۔۔۔ پہلے دو جملے جو کام کر جاتے تھے اب گھنٹوں کی تقاریر وہ کام نہیں کرتیں۔
میرے استاد صاحب “برکت” کا ذکر اکثر کیا کرتے تھے۔۔۔ اُس وقت میری عمر کم تھی، “برکت” کا مفہوم کچھ سمجھتا کچھ نہیں سمجھ پاتا تھا۔ وہ ایک درسی کتاب کے بارے میں فرماتے تھے: فلاں کتاب اگرچہ پرانی ہے اور اس سے بہتر کتابیں موجود ہیں لیکن اِس کے مصنف چونکہ بزرگ عالم دین اور صاحب روحانیت ہیں اس لیے اس کتاب میں برکت ہے۔ نئی کتابوں میں وہ بات نہیں ہے۔”
اب کچھ مشاہدہ بڑھ رہا ہے تو “برکت” کا مفہوم مزید آشکار ہوتا جارہا ہے۔
واقعی جب تک پڑھانے والے باعمل اور صاحبان تقوی تھے، ہمارے مدارس سے فارغ ہونے والے اگرچہ کم ہوتے تھے لیکن باعمل اور دین حق کے سچے خادم ہوتے تھے۔
میں یہ قطعا نہیں کہہ رہا کہ آج مسند تدریس پر باعمل لوگ نہیں ہیں، ہیں اور ضرور ہیں لیکن پہلے کی نسبت بہت کم ہیں۔
جب برکت تھی تو ایک ایک عالم اتنا کام کرتا تھا کہ آج ایک عام تنظیم اور افراد کی جماعت اتنا کام نہیں کر پاتی۔
امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے احوال پڑھیے، وقت میں برکت، قول میں برکت، تحریر میں برکت، اشعار میں برکت اور آپ خود سراپا برکت اور عظیم البرکت۔
امام اہل سنت کو بطور مثال ذکر کیا ہے، صالحین کے احوال میں آپ کو برکت ہی برکت نظر آئے گی۔
میرے شیخ طریقت علامہ پیر سید شاہ تراب الحق قادری رضوی علیہ الرحمہ کے شب و روز بھی برکت کی چادر میں لپٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔
جبل استقامت امیر المجاہدین علامہ حافظ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ نے جس سرعت سے قوم کو عشق و الفت کا جام پلایا کیا وہ بغیر برکت کے ممکن ہے!
الغرض ہمارے اکابر میں اور ہم میں اصل فرق اسی “برکت” کا ہے۔ وہ باعمل لوگ تھے۔۔۔ اپنے علم پر پورا پورا عمل کرتے کرتے سراپا برکت بن گئے۔ ان کی صحبتوں میں بھی برکت ہی برکت تھی۔۔۔
چلیں پھر بات کو دہراتے ہیں، برکت کا تعلق روحانیت سے ہے، اور روحانیت پیدا ہوتی ہے گناہوں سے سچی توبہ اور پرہیز سے۔
آج خدمت دین کا عزم رکھنے والے ہر شخص کو سب سے پہلے اپنے اندر روحانیت پیدا کرنی چاہیے۔ پھر اس کے ہر کام میں برکت پیدا ہوتی چلی جائے گی، پھر قلیل “کثیر” ہوجائے گا کیونکہ وہ قلیل جس میں برکت ہو کثیر شئے سے بہتر ہے۔
اس برکت اور روحانیت کی راہ میں آج کے دور میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں، آنکھ اور زبان سے ہونے والے گناہ ہیں۔ ان کی معرفت حاصل کرکے ان سے اجتناب کریں اور صبح و شام اللہ عزوجل کا ذکر خوب کثرت کے ساتھ کیجیے ان شاء اللہ ہمارے سینے روحانیت سے مملو ہوں گے اور ہمارے کام برکت والے ہوجائیں گے۔
ہمیشہ یاد رکھیں:
“روحانیت ہو تو آٹھ تلواریں فتح دلوادیتی ہیں، اور روحانیت نہ ہو تو ہزاروں لوگ اور ہتھیار بھی کسی کام نہیں آتے!”
19 اگست 2024ء
#sunnipublications
# sunnibooks
#Razvibarkar
#سنی پبلی کیشنز
