Site icon اردو محفل

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں”

جب ہلاکو خان بغداد شریف پر حملہ کرنے کے لیے قریب آ پہنچا تھا اس وقت اہل علم اور دانشور ” مسواک کی سائز ” یا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ عنہ  ” گندم کھائے تھے یا جو” اور کچھ جگہوں پر شعرو شاعری کا مقابلہ ہو رہا تھا,جب خبر پہنچی تو ان سب نے کہا کہ ملک کی حفاظت  ” ارباب اقتدار اور  افواج ” کا کام ہے  !
1258ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافت عباسیہ کے خاتمے کو سقوط بغداد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بغداد کا محاصرہ جو ١٢٥٨ء میں ہوا ایک حملہ، جارحیت اور بغداد شہر کی بربادی تھا، اس حملہ نے بغداد کو مکمل طور پر برباد کر دیا باشندے جن کی تعداد 100،000 سے 1،000،000تهى کو شہر کے حملے کے دوران قتل کیا گیا،اور شہر جلا دیا یہاں تک کہ بغداد کے کتب خانے بھی چنگيزى افواج کے حملوں سے محفوظ نہ تھے جس میں بيت الحكمة بھی شامل ہے انھوں نے مکمل طور پر كتب خانے تباہ کر ڈالے۔
ہلاکو خان کی زیر قیادت منگول افواج نے خلافت عباسیہ کے دار الحکومت بغداد کا محاصرہ کرکے شہر فتح کر لیا اور عباسی حکمران مستعصم باللہ کو قتل کر دیا۔ شہر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور کتب خانوں کو نذر آتش اور دریا برد کر دیا گیا۔ جنگ کے بعد منگولوں نے شام پر حملہ کیا اور دمشق، حلب اور دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا۔ اس شکست کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے عروج کا دور اول ختم ہو گیا۔
بيت الحكمہ، جو بے شمار قیمتی تاریخی دستاویزات اور طب سے لے کر علم فلکیات تک کے موضوعات پرلكھی گئی کتب كا گھر تھا کو تباہ کر ڈالا گیا۔ زندہ بچ جانے والوں نے کہا کہ دریائے دجلہ کا پانی ان کتب كی سیاہی کے ساتھ سیاہ پڑ گیا جو بہت زیادہ تعداد میں دریا میں پھینک دى گئی تھیں۔ نہ صرف یہ مگر کئی دنوں تک اس کا پانی سائنسدانوں اور فلسفیوں کے خون سے سرخ رہا۔ شہریوں نے فرار کی کوشش کی مگر منگول سپاہیوں نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ مارٹن سكر لکھتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد نوے ہزار ہو سکتی ہے (Sicker 2000, p. 111) دیگر تخمینے کافی زیادہ ہیں۔ وصّافِ کا دعوی ہے کہ انسانی زندگی کا نقصان کئی لاکھ تھا۔ ایان فريزر (دی نیویارکر سے ) کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کا تخمینہ 200،000 سے دس لاکھ ہے۔ منگولوں نے لوٹ مارکی اور پھر مساجد، محلات، لائبریریوں اور ہسپتالوں کو تباہ کر ڈالا۔ شاہی عمارتوں کو جلا دیا گیا۔ خلیفہ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے اپنے شہریوں کا قتل عام اور اپنے خزانے كی لوٹ مار دیکھنے کے لیے مجبور کر دیا گیا۔ منگولوں نے ایک قالین میں خلیفہ کو لپیٹ کر اپنے گھوڑوں کے نیچے کچل دیا۔
آج ملک عزیز میں اہل علم اور دانشور حضرات جس طرح ” مشاجرات صحابہ” کے ابحاث کو اس وقت لا رہے ہیں اور ناصبیت و خارجیت کے مباحث کو پیش کر رہے ہیں اور اپنے منبر و محراب ,مساجد و مدارس , اسٹیجوں ,جلسوں اور پروگراموں  وغیرہ کو جس طرح استعمال کر رہے ہیں یہ دنیا و آخرت میں ہلاکت میں ڈالنے والی چیز ہے ! جو مشاجرات میں سکوت کا حکم دیا گیا ہے اب ان پر ایرے غیرے نتھو خیرے سبھی بحث کر رہے ہیں,ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری ہے ۔
ملک میں آئے دن ہم پر حملے ہو رہے ہیں ,معاشی,اقتصادی بائیکاٹ کے لیے سازش کی جا رہی ہے ,سیاسی اعتبار سے اچھوت بنا دیا گیا ہے ,سماجی اعتبار سے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے ,جمعہ کے دن کی چھٹی ختم کی جا رہی ہے ,مسلم خواتین ” فتنہ ارتداد”  کا شکار ہو رہی ہیں ,سیکڑوں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں,
ان کوحل کرنے کے بجائے سکوتی مباحث کو تلاش کرکے سامنے لایا جا رہا ہے اور پوری قوم کو اس کے پیچھے لگایا جا رہا ہے!
دین و مذہب,جان و مال ,عزت و آبرو ,عقل و دماغ کی حفاظت کے لیے مضبوط لائحہ تیار کرنے کے بجائے ” قدیم غیر نفع بخش ” بحثوں کو سامنے لایا جا رہا ہے ۔
ہمارے اعداء ہمیں ڈیٹینشن  سینٹر بھیج رہے ہیں ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم بچے ہوئے ہیں لیکن یہ ہماری غلط فہمی اور بہت بڑی بھول ہے ہم کبھی بھی ان کے شکار ہو سکتے ہیں ۔
ابھی وقت ہے ہوشن کے ناخن لیں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
(علامہ اقبال)
نوٹ: آسام کے کچھ لوگ بس کے ذریعے ٹیٹینشن سینٹر بھیجے گئے   (ذرائع)
✍محمد عباس الازہری

Exit mobile version