اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔ کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں فرمائیں گے۔ کیوں نہیں ! ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر درست کردیں۔ بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے بھی برے کام کرتا رہے۔ ( القیامہ : ٥۔ ١)
قسم سے پہلے حرف ” لا “ کے دو محمل
القامیہ : ١ میں فرمایا ہے :” لا اقسم بیوم القیامۃ “ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ ” لا اقسم “ میں ” لا “ زائدہ ہے یا نفی کے معنی میں ہے، اکثر مفسرین کا مختار یہ ہے کہ یہ ” لا “ زائدہ ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں کوئی لفظ زائد اور بےمعنی نہیں ہوسکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لفظ بےمعنی نہیں ہے، البتہ یہ نفی کے معنی میں نہیں ہے، اس کو کلام میں قسم سے پہلے زینت کے لیے ذکر کیا جاتا ہے، اور کلام عرب میں اسی طرح ہوتا ہے اور قرآن مجید لغت عرب اور اسلوب عرب پر نازل ہوا ہے اور قرآن مجید میں اس کی بہت نظائر ہیں، جیسے فرمایا :
فَـلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ (النسائ : ٦٥) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے۔
اور تحسین کلام کے لیے لفظ ” لا “ کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے نفی کا معنی مقصود نہیں ہوتا، جیسے فرمایا :
مَا مَنَعَکَ اَلاَّ تَسْجُدَ (الاعراف : ١٢) تجھے سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا۔
اور قسم میں جب لفظ ” لا “ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ قسم کی تاکید ہوتی ہے۔
بعض مفسرین نے کہا : یہ لفظ ” لا “ نفی کے لیے ہے یعنی جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، اس کی مخالف چیز کی نفی کے لیے ہے، گویا کہ مشرکین نے قیامت کے وقوع کی نفی کی اور شدو مد سے قیامت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نہیں یہ بات نہیں ہے کہ قیامت واقع نہیں ہوگی، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں یعنی قیامت ضرور واقع ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قسم اس لیے کھائی ہے کہ وہ بہت عظیم دن ہوگا اور تمام نیکو کاروں اور بدکاروں کے اعمال کا ثمرہ اس دن ظاہرہو جائے گا۔