کیا یہ بالکل سادہ سی بات بھی علم کا دعوی کرنے والے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آسکتی ؟
اعتراض کہ میلادرسول کا ثبوت خیر القرون میں نہیں تبھی بدعت شرعی (ضلالہ) ہے پس۔
الجواب:
کسی بھی عمل و اعتقاد کو پرکھنے کا فقہی و اصولی طریقہ یہ ہے کہ کیا وہ نئے امور خیر القرون کے ائمہ سلف یا مجتہدین کے مدون کردہ اصول پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟
اگر تو اصول پر ثابت ہو جائیں تو انکا وجود کے اعتبار سے ہونا یا انکا خیر القرون کے اصول پر ثابت ہونا ایک جیسا ہی ہے۔
یعنی کہ
کیا مدارس قائم کرنا اسناد کا احتمام لازم کرنا اور کتب حدیث و فقہ کی ترتیب کورس مدوون کرنا۔
اسکی اصل کیا خیر القرون سے ثابت ہے؟
بالکل اسکی اصل یہ ہے کہ نبی کریم صحابہ کو مختلف علاقوں میں بھیجتے تاکہ وہ تبلیغ کریں اور عوام کو شریعت و حرام و حلال کا حکم سمجھائیں۔
نہ کہ سادہ عوام کے ہاتھ میں فقط قرآن و حدیث تھما دیا جائے۔
اسی طرح ایک اعتراض منکرین حدیث کرتے ہیں کہ حضور و،صحابہ کے دور میں کتب حدیث اور شروحات حدیث کی کتب کا ثبوت نہیں ملتا۔
نہ ہی حدیث کی کتب کے نام اور اقسام کا ثبوت ملتا ہے۔
کہ ان کتب کی ابواب بندی ہو اور اس اسلوب سے احادیث کو جمع کیا گیا ہو صحابہ کی طرف سے۔۔۔
جبکہ اسکا جواب اہل اسلام اس اصول سے دیتے ہیں۔
کہ نبی کریم نے صحابی کو حدیث نقل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
پس حضور اکرم سے حدیث لکھنے کی اصل ثابت ہو گئی
تو اب اس سے درج ذیل امور ثابت ہو گئے۔
1۔ کتب حدیث لکھنا اور انکے نام متعین کرنا۔
2۔ کتب حدیثکی فہرست فقہی ترتیب سے کرنا۔
3۔ نبی کریم و صحابہ سے احادیث کو ابواب کے تحت بیان کرنا ثابت نہیں۔
لیکن چونکہ ان سے فقط صحیفہ میں چند روایات نقل کرنا ثابت ہو گیا۔ تو پس
اب کتب حدیث کے نام رکھنا
انکی فنی ترتیب رکھنا
مثلا
کتب حدیث میں
مسند
معجم
جز
مستدرک
مصنف
کی اقسام بندی کرنا ان سب کا صریحا ثبوت نہ ہی حضورسے ہے نہ ہی صحابہ سے۔
لیکن اوپر بیان کردہ امور کی اصل ثابت ہے۔
“صحابہ نے حدیث صحیفہ میں نقل کی”
اب چونکہ اصل اصول ثابت ہو گیا تو اسی اصول پر کیے جانے والے نئے امور اصلا بدعت شرعی نہ ہوئے لیکن عملا بدعت لغوی ہوئے۔
کہ اصل کو نئے طریقےسے سر انجام دیا گیا۔
ایسے ہی پھر کتب حدیث کی اصل،ثابت ہو گئی تو انکی شروحات لکھنا بھی صحیفہ نقل کرنے سے اخذ ہیں۔
لیکن منکرین حدیث کا پھر بھی انکار کرنا
کہ نہیں ہم کو صریح ثبوت پیش کرو
کہ کسی صحابی نے کتاب لکھی ہو حدیث کی اسکو نام دیا ہو صحیح ابو ھریرہ
یا مسند ابو بکر صدیق
یا مصنف حضرت علی ۔
تو انکا جواب اصول سے ہی دیا جائے گا کہ جب حضرت ابو ھریرہ کا صحیفہ لکھنا ثابت ہو گیا۔
تو پس
مسند
مستدرک
سنن
و صحیح
تو اصطلاحات زمانی ہیں جو وقت کی ضرورت کے تحت ایجاد ہوئیں اور اصلا ثابت ہیں لیکن عملا بدعات ہیں۔
ایسے ہی جب منکرین حدیث یہ دعوی کرتے ہیں کہ
حضورکے دور میں
“علم رجال ” مفقود تھا
نہ صحابہ نے رجال کی کتب مدون کی نہ ہی ثقہ ضعیف و صدوق کے القابات منسوب کیے۔
تو اسکا جواب اہل اسلام یہ دیتے ہیں
کہ حضرت عمر سے جب کوئی روایت حضو سے چاہے کوئی،صحابی بیان کرتا یا غیر صحابی وہ اس سے قسم لیکر پوچھتے کہ کیا واقعی تم سے یہ بات نبی کریم نے بیان کی؟
یا تم نے خود سنی؟
فقط ان جیسی بنیادی مثالوں کو پیش کرکے ثابت کر دیا جاتا ہے کہ
پس روایت کے لیے راوی کی جانج پڑتال کی اصل ملتی ہے۔
پس اس اصل سے
علم رجال کو مدون کرنے کا اصول نکلتا ہے۔
جسکے نتیجہ میں درجہ ذیل امور تخلیق میں آئے۔
الجرح و تعدیل کی کتب
کتب ثقات
کتب الضعفاء
کتب العلل
بلکہ علم رجال کے دفاع کے لیے یہ قرآن کی اس آیت کو بھی دلیل بنا لیا جاتا ہے کہ اللہ فرماتا ہے ۔
“جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اسکی تحقیق کر لو” (القرآن)
اب اس آیت سے پورے کے پورے علم رجال اور اسکی جزیات کو ثابت مان لیا جاتا ہے۔
یہ سب امور عملا بدعات ہیں لیکن فی نفسی کوئی بدعت ضرورت کے تحت
واجب
مستحب
مباح
منکر
و
حرام یعنی ضلالہ کہلاتی ہے۔
اگر ان اصول ک مطلق انکار کر دیا جائے تو وہ نئے اصول جو دین کی تبلیغ و دفاع کے لیے بعد میں وجود میں آئے وہ سب باطل ہو جائے گا۔
چاہے علم منطق ہو
علم صرف و نحو
علم تفسیر
اصول علم حدیث
ان سب علوم میں سیکڑوں جزیات و اصول کا صریحا کے عدم ثبوت کے سبب اس کار خیر کو باطل کہنا پڑ جائے گا۔
ایسے ہی عمل میلاد کا صریح منانے کی ترغیب نہیں ملتی
لیکن اسکی اصل اصول سے ثابت ہے جو اصول خیر القرون میں مدون ہو چکا۔
جیسا کہ صحابہ کی طرف سے بدعت کی تقسیم
جس میں حضرت عمر و حضرت ابن عمر ہیں۔
انکے اقوالات سے امام شافعی کا بدعت کو حسنہ و ضلالہ میں تقسیم فرمانا۔
اور امام شافعی کے اس قول پر شارحین حدیث و مفسرین قرآن کا
بدعت کو حسنہ سے لیکر ضلالہ تک مزید 5 اقسام میں بیان کرنا۔
لیکن کل بدعتہ ضلالہ کہنے والے مر کر دوبارہ پیدا ہو کر بھی اوپر بیان کردہ تمام امور کا نہ ہی دفاع کر سکتے ہیں نہ ہی انکے صریح ثبوت دے سکتے ہیں جو اصول یہ میلاد کے اثبات کے لیے مانگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ میلاد کو “کل بدعتہ ضلالہ ” کے اصول کے تحت جن لوگوں نے رد کرنے کی کوشش کی جن میں چند ایک لوگ
جیسا کہ
ابن تیمیہ
علامہ شاطبی
وغیرہم ہیں انکے فتوے کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور جمہور ائمہ نے میلاد کے امر کو
امام شافعی کےخیر القرون کے بیان کردہ بدعت حسنہ و مذممومہ کے تحت اسکی اصل کے اعتبار سے پرکھ کر حسنہ میں شمار کیا۔
کیا یہ باتیں اتنی مشکل ہیں یا یہ تفصیل اتنی باطل ہے کہ لوگ اس موقف کو سمجھنے سے عاجز ہیں؟
بالکل نہیں یہ حق سب پر واضح ہے سوائے انکے جنکے دلوں پر تالے لگ گئے اپنی جماعت قیود سے مجبور یا اپنے علماء کو بت بنانے والے لوگوں کا ہی ایسا رویہ ہو سکتا ہے۔
میری عنوان میلاد کے تحت جتنی بھی تحاریر ہیں انکا جوا اصول سے کسی نے بھی آج تک نہیں دیا نہ ہی دے سکتے ہیں۔
اسد الطحاوی ✍️
