Site icon اردو محفل

وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ‌ ؕ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ  – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 56

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ‌ ؕ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ  ۞

ترجمہ:

اور وہ صرف اللہ کے چاہنے سے ہی نصیحت کو قبول کریں گے، وہی اس کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور مغفرت فرمانا اسی کی شان ہے  ؏

المدثر : ٥٦ میں فرمایا : اور وہ صرف اللہ کے چاہیے سے ہی اس نصیحت کو قبول کریں گے۔

امام رازی لکھتے ہیں : معتزلہ نے کہا ہے کہ وہ نصیحت کو صرف اس وقت قبول کریں گے جب اللہ تعالیٰ ان کو نصیحت کے قبول کرنے پر مجبور کر دے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیحت قبول کرنے کی مطلقاً نفی کی ہے، پھر اس حالت کا استثناء فرمایا ہے جب اللہ تعالیٰ یہ چاہے کہ وہ نصیحت قبول کریں، اور جب کفار نے نصیحت قبول نہیں کیا تو ہم کو معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں چاہا کہ وہ نصیحت کو قبول کریں۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧١٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے لکھا ہے : اس آیت سے معلوم ہوا ہے کہ بندوں کے افعال اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں، خواہ وہ مشیت بالذت ہو یا بالواسطہ ہو۔ ( روح المعانی جز ٩٢ ص ٢٣٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

اس آیت سے بہ ظاہر جبریہ کی تایید معلوم ہوتی ہے کہ انسان وہی کام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور انسان کے افعال میں انسان کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے، ہمارے نزدیک اس آیت کا محمل یہ ہے کہ انسان جو کام کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں وہی کام پیدا کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کسی کام کو پیدا کرنا اس کی مشیت پر موقوف ہے اور اس اعتبار سے کہنا درست ہے کہ انسان وہی کام کرتا ہے جس کام کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کام کے پیدا کرنے کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔

اس کے بعد فرمایا : وہی اس کا مستحق ہے کہ صرف اس سے ڈرا جائے اور مغفرت فرمانا بھی اسی کے شان ہے۔

یعنی وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کے بندے صرف اسی سے ڈریں اور اس کے عذاب سے خوف کھا کر اس پر ایمان لائیں اور اس کی اطاعت اور اس کی عبادت کریں اور وہی اس کا مستحق ہے کہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کر دے، جب اس کے بندے اس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اس کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، سو جو شخص مجھ سے ڈرا اور اس نے میرا کوئی شریک نہیں قرار دیا تو میں اس کا اہل ہوں کہ اس کی مغفرت کر دوں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٢٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٩٩)

سورۃ المدثر کا اختتام

آج ٨ جمادی الاولیٰ ١٤٢٦ ھ/١٦ جون ٢٠٠٥، بہ روز جمعات بعد از نماز ظہر سورة المدثر کا اختتام ہوگیا، ٥ جون کو سورة المدثر کی تفسیر شروع کی تھی، اس طرح گیارہ دنوں میں اس کی تفسیر مکمل ہوگئی، الٰہ العلمین ! جس طرح آپ نے یہاں تک پہنچا دیا ہے باقی تفسیر کو بھی مکمل فرما دیں اور مجھے صحت اور توانائی کے ساتھ تا حیات ایمان پر قائم رکھیں اور اسلام کے تمام احکام پر عامل رکھیں۔ اس تفسیر کو قبول فرمائیں اور تاروز قیامت اس کو فیض آفرین رکھیں، میری اور میرے والدین کی اور میرے اساتذہ کی اور میرے احباب، تلامذہ اور قارئین کی مغفرت فرما دیں۔

و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین

Exit mobile version