القیامہ : ٩۔ ٧ میں فرمایا : پس جب نظر چکا چوند ہوجائے گی۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے۔
قیامت کی تین علامتیں اور ان پر اعتراضات کے جوابات
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی تین علامتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی علامت یہ ہے کہ جب بجلی چکمے گی اور بہت تیز روشنی کو دیکھنے سے، دیکھنے والے کی نظر خیرہ ہوجائے گی اور اس کو کچھ نظر نہیں آئے گا جیسا کہ بہت روشنی پڑنے سے ایسا عموماً ہوجاتا ہے۔
اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ انسان کو ایسی حالت کا کب سامناہو گا، ایک قول یہ ہے کہ موت کے وقت، دوسرا قول یہ ہے کہ جب انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو دوزخ کو دیکھ کر اس کا نظر چکا چوند ہوجائے گی اور جنہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ کیفیت موت کے وقت ہوگی، انہوں نے کا : جب قیامت کے منکر نے قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس کو جواب دیا گیا کہ جب اس کی موت قریب آئے تو عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر اس کی نظر خیرہ ہوجائے گی اور اس کے شکوک زائل ہوجائیں گے اور اس کو قیامت پر یقین آجائے گا۔