اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ سوات کرتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟ پس جب نظر چکا چوند ہوجائے گی۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے۔ اس دن انسان کہے گا : آج فرار کی جگہ کہاں ہے ؟۔ ( القیامہ : ١٠۔ ٦)
یعنی سوال کرنے والا انکار اور استہزاء ً کہے گا کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟ وہ قیامت کے دن کو بہت بعید سمجھے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
کافر کہتے ہیں : قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو (بتائو) ۔ آپ کہیے : اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو تمہیں واضح طور پر عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ پھر جب یہ لوگ اس وعدہ کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا : یہی وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرتے تھے۔