سب سے پہلے میلاد رسولﷺ کے عمل کو بدعت (ضلالہ) کہنے والے علامہ ابن تیمیہ کے فتویٰ میں علمی نقص و اضطراب!
ازقلم: اسد الطحاوی
میلا د رسولﷺ کو عملی طور پر بدعت کہہ کر تو رد کر دیا لیکن اس فعل پر اجتہاد محبت و تعظیم پر ثواب کا فتویٰ دیا۔
جیسا کہ آپ ایک جگہ میلاد رسولﷺ کے بارے لکھتے ہیں:
وكذلك ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصارى في ميلاد عيسى عليه السلام، وإما محبة للنبي صلى الله عليه وسلم، وتعظيمًا. والله قد يثيبهم (4) على هذه المحبة والاجتهاد، لا على البدع- من اتخاذ مولد النبي صلى الله عليه وسلم عيدًا. مع اختلاف الناس في مولده. فإن هذا لم يفعله السلف، مع قيام المقتضي له وعدم المانع منه لو كان خيرًا. ولو كان هذا خيرًا محضا، أو راجحًا لكان السلف رضي الله عنهم أحق به منا، فإنهم كانوا أشد محبة لرسول الله صلى الله عليه وسلم وتعظيمًا له منا، وهم على الخير أحرص.
اور اسی طرح جو کچھ بعض لوگ کرتے ہیں، یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے میلاد میں نصاریٰ کی مشابہت کی وجہ سے، یا نبی ﷺ سے محبت اور تعظیم کے طور پر۔ اللہ ان کو اس محبت اور اجتہاد پر ثواب دے سکتا ہے، لیکن بدعت پر نہیں – یعنی نبی ﷺ کے میلاد کو عید کے طور پر منانا۔ حالانکہ لوگوں کا نبی ﷺ کی تاریخِ ولادت کے بارے میں اختلاف ہے۔
یہ عمل سلف صالحین نے نہیں کیا، باوجود اس کے کہ اگر یہ کوئی نیک عمل ہوتا تو اس کے کرنے کے تمام اسباب موجود تھے اور کوئی روک بھی نہیں تھی۔ اور اگر یہ مکمل طور پر خیر یا راجح ہوتا، تو سلف صالحین ہم سے زیادہ اس کے مستحق تھے، کیونکہ وہ ہم سے زیادہ نبی ﷺ سے محبت اور تعظیم کرتے تھے اور وہ ہمیشہ خیر پر عمل کرنے کے زیادہ حریص تھے۔
[اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم]
یعنی یہاں علامہ ابن تیمیہ کے مطابق کوئی فعل جو حضور ، صحابہ یا سلف سے ثابت نہ ہو اور انکے نام کرنے پر کوئی چیز بھی مانع نہ ہو لیکن پھر بھی ان سے ثابت نہ ہو تو یہ بدعت ہے اور ایسی بدعت ہے جس پر عمل نہیں کرنا چاہیے کہ اگر یہ خیر کی چیز ہوتی تو خیر القرون والے زیادہ متسحق تھے اسکو کرنے کے ۔ وغیرہ وغیرہ!!
اب آتے ہیں علامہ ابن تیمیہ کے فتویں میں تضاد و اضطراب کی طرف!
ایک طرف جبکہ علامہ ابن تیمیہ خود بدعات کی تقسیم بندی کو تسلیم کرتے تھے ۔
یعنی بدعت حسنہ
اور
بدعت ضلالہ
بلکہ وہ اسکی متعدد اقسام کے بھی قائل تھے اور اس اصول کا اطلاق بھی انہوں نے کیا ہے ایک مسلہ پر اور بڑے عجیب طریقے سے اطلاق کیا ہے ۔ اگر اس فتویٰ کو پڑھا جائے تو میلاد رسولﷺ پر بدعت حسنہ کا قیاسی فتوی ٰدینا انکے لیے کوئی مانع نہیں تھا۔
جیسا کہ جہمیہ و مشبہ کا رد کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ جب انکا موقف لکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے دیدار کے قائل نہیں تھے کیونکہ انکے بقول اس سے اللہ کا جسم ہونا لازم آتا ہے تو انہوں نے اس عقلی بنیاد پر اثار کا رد کر دیا ۔
جیسا کہ ابن تیمیہ پہلے بدعتی گروہ کا دعویٰ نقل کرتے ہیں :
فإذا قال النفاة من الجهمية والمعتزلة وغيرهم: لو كان الله يرى في الآخرة لكان في جهة، وما كان في جهة فهو جسم، وذلك على الله محال، أو قالوا: لو كان الله تكلم بالقرآن، بحيث يكون الكلام قائماً به، لقامت به الصفات والأفعال، وذلك يستلزم أن يكون محلاً للأعراض والحوادث، وما كان محلاً للأعراض والحوادث، فهو جسم، والله منزه عن ذلك، لأن الدليل على إثبات الصانع إنما هو حدوث العالم، وحدوث العالم إنما علم بحدوث الأجسام، فلو كان جسم ليس بمحدث لبطلت دلالة إثبات الصانع. فهذا الكلام ونحوه هو عمدة النفاة من الجهمية والمعتزلة وغيرهم، ومن وافقهم في بعض بدعتهم، وهذا ونحوه في العقليات التي يزعمون أنها عارضت نصوص الكتاب والسنة.
یعنی :
جب نفی کرنے والے، جیسے جہمیہ، معتزلہ اور دیگر گروہ یہ کہتے ہیں: اگر اللہ کو آخرت میں دیکھا جا سکتا ہے تو وہ کسی سمت میں ہوگا، اور جو کسی سمت میں ہوتا ہے وہ جسم ہوتا ہے، اور اللہ کے لیے جسم ہونا محال ہے، یا وہ کہتے ہیں: اگر اللہ نے قرآن کے ذریعے کلام کیا اور یہ کلام اس کی ذات میں قائم ہے، تو اس پر صفات اور افعال قائم ہوں گے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ صفات اور حادثات کا محل ہوگا، اور جو حادثات کا محل ہو، وہ جسم ہوتا ہے، اور اللہ اس سے پاک ہے، کیونکہ صانع (خالق) کے اثبات کی دلیل کائنات کا حادث (نیا ہونا) ہے، اور کائنات کے حادث ہونے کا علم جسموں کے حادث ہونے سے ہوتا ہے۔ پس اگر اللہ جسم ہوتا اور حادث نہ ہوتا تو صانع کے اثبات کی دلیل باطل ہو جاتی۔
یہ کلام اور اس جیسی باتیں جہمیہ، معتزلہ اور ان کے متبعین کی دلیل ہیں، اور وہ لوگ جو ان کی بعض بدعات میں ان کے ساتھ متفق ہیں، اس کلام کو دلیل بناتے ہیں۔ یہی ان کی عقلی دلیلیں ہیں، جن کے بارے میں وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ کتاب و سنت کی نصوص کے مخالف ہیں۔
پھر ایسوں کا رد عقلی طور پر کرتے ہوئے ابن تیمیہ کہتے ہیں:
فيقال لهؤلاء: أنتم لم تنفوا ما نفيتموه بكتاب ولا سنة ولا إجماع، فإن هذه الألفاظ ليس لها وجود في النصوص، بل قولكم: لو رؤي لكان في جهة، وما كان في جهة فهو جسم، وما كان جسم فهو محدث كلام تدعون أنكم علمتم صحته بالعقل، حينيئذ فتطالبون بالدلالة العقلية على هذا النفي، وينظر فيه بنفس العقل. ومن عارضكم من المثبتة أهل الكلام من المرجئة وغيرهم كالكرامية والهشامية وقال لكم فليكن هذا لازما للرؤية، وليكن هو جسماً أو قال لكم: أنا أقول إنه جسم وناظركم على ذلك بالمعقول، وأثبته بالمعقول كما نفيتموه بالمعقول، لم يكن لكم أن تقولوا له: أنت مبتدع في إثبات الجسم فإنه يقول لكم: وأنتم مبتدعون في نفيه، فالبدعة في نفيه كالبدعة في إثباته، وإن لم تكن أعظم، بل النافي أحق بالبدعة من المثبت، لأن المثبت أثبت ما أثبتته النصوص، وذكر هذا معاضدةً للنصوص، وتأييداً لها، وموافقة لها، ورداً على من خالف موجبها.
تو ان لوگوں سے کہا جائے گا: آپ نے جو کچھ نفی کی ہے، اسے نہ قرآن، نہ سنت، اور نہ ہی اجماع سے ثابت کیا ہے، کیونکہ یہ الفاظ نصوص (قرآنی یا حدیثی دلائل) میں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ آپ کا یہ کہنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو دیکھا جاتا، تو وہ کسی سمت میں ہوتا، اور جو کسی سمت میں ہو وہ جسم ہوتا ہے، اور جو جسم ہو وہ مخلوق ہوتا ہے، یہ سب آپ کے دعوے ہیں کہ آپ نے اسے عقل سے صحیح سمجھا ہے۔ ایسے میں آپ سے عقلی دلیل طلب کی جائے گی تاکہ اس نفی کو ثابت کیا جائے، اور پھر اسے خود عقل سے جانچا جائے گا۔
اگر کوئی آپ کے مخالف، جیسے کہ اہلِ کلام میں سے مرجئہ کے پیروکار، کرامیہ، یا ہشامیہ، آپ سے بحث کریں اور کہیں: ٹھیک ہے، مان لیا کہ یہ رویت کا لازمی نتیجہ ہے، اور مان لیا کہ وہ جسم ہو، یا میں کہتا ہوں کہ وہ جسم ہے، اور پھر آپ سے اسی عقل کی بنیاد پر مناظرہ کریں جسے آپ نے اپنے نظریے کی بنیاد بنایا ہے، اور اپنے نظریے کو اسی عقل سے ثابت کریں جس سے آپ نے اسے رد کیا ہے، تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ شخص جسم کا اثبات کرکے بدعتی ہے، کیونکہ وہ آپ کو کہہ سکتا ہے کہ
“آپ بھی جسم کی نفی کرکے بدعتی ہیں”۔
لہٰذا، جسم کی نفی میں بدعت ویسی ہی بدعت ہے جیسے اس کے اثبات میں بدعت ہے، بلکہ شاید نفی کرنے والا زیادہ حق رکھتا ہے بدعتی کہلانے کا، کیونکہ اثبات کرنے والے نے وہ چیز ثابت کی ہے جسے نصوص نے ثابت کیا ہے۔ اس نے اپنے قول کو نصوص کی تائید میں بیان کیا ہے، انہیں تقویت دی ہے، اور ان کے خلاف بولنے والوں کا رد کیا ہے۔
(نوٹ: یعنی ابن تیمیہ نے مجسمیوں کی عقلی دلیل پر معاذ اللہ یہ الزامی جواب گھڑ لیا کہ اگر ہم اثار کی بنیاد پر تجسیم کے قائل ہوتے ہیں آپکے نزدیک تو آپ بھی ہمارے نزدیک تجسیم کی نفی کرکے بدعتی بنتے ہیں )
پھر علامہ ابن تیمیہ اپنے اس موقف پر بدعت کی تقسیم کا سہارہ لیتے ہیں۔ اور بدعت کی اقسام اور امام شافعی کے اجتہاد کو دلیل بناتے ہوئے کہتے ہیں:
فإن قدر أنه أنه ابتدع في ذلك كانت بدعته أخف من بدعة من نفى ذلك نفياً عارض به النصوص ن ودفع موجبها، ومقتضاها، فإن ما خالف النصوص فهو بدعة باتفاق المسلمين، وما لم يعلم أنه خالفها فقد يسمى بدعة. قال الشافعي رضي الله تعالى عنه: البدعة بدعتان: بدعة خالفت كتاباً أو سنة أو إجماعاً أو أثراً عن بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهذه بدعة ضلالة، وبدعة لم تخالف شيئاً من ذلك، فهذه قد تكون حسنة، لقول عمر: نعمت البدعة هذه. هذا الكلام أو نحوه رواه البيهقي بإسناده الصحيح في المدخل.
آپ کہتے ہیں :
اگر یہ فرض کیا جائے کہ اس معاملے میں کوئی بدعت ایجاد کی گئی ہے، تو اس کی بدعت اس شخص کی بدعت سے ہلکی ہوگی جس نے اس کا انکار کیا اور نصوص (قرآنی یا حدیثی دلائل) کا سامنا کرتے ہوئے انہیں رد کر دیا اور ان کے تقاضے کو قبول نہیں کیا۔ کیونکہ جو چیز نصوص کے خلاف ہو، وہ مسلمانوں کے اتفاق کے مطابق بدعت ہے، اور جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ نصوص کے خلاف ہے، اسے کبھی بدعت کہا جا سکتا ہے۔ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بدعت دو قسم کی ہے: ایک وہ بدعت جو کتاب (قرآن)، سنت، اجماع یا کسی صحابی کے اثر کے خلاف ہو، تو یہ بدعت ضلالت ہے۔ اور دوسری وہ بدعت جو ان میں سے کسی کے خلاف نہ ہو، تو یہ بدعت کبھی اچھی بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ حضرت عمر نے فرمایا: “یہ بہترین بدعت ہے۔”
اور پھر اس اصول پر یہ قیاس کرتے ہیں کہ جو جسم کی نفی نہ کرے تو یہ بھی ایسی بدعت ہے جو سلف کے خلاف نہیں کیونکہ بقول ابن تیمیہ سلف و ائمہ سے اللہ کے جسم کی نفی ثابت نہیں ۔
جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:
ومن المعلوم أن قو ل نفاة الرؤية والصفات والعلو على العرش والقائلين بأن الله لم يتلكم، بل خلق كلاماً في غيره، ونفيهم ذلك لأن إثبات ذلك تجسيم، هو إلي مخالفة الكتاب والسنة والإجماع السلفي والآثار أقرب من قول من أثبت ذلك، وقال ـ مع ذلك ـ ألفاظاً يقول: إنها توافق معنى الكتاب والسنة، لا سيما والنفاة متفقون على أن ظواهر النصوص تجسيم عندهم، وليس عندهم بالنفي نص، فهم معترفون بأن قولهم هو البدعة، وقول منازعهم أقرب إلى السنة. ومما يوضح هذا أن السلف والأئمة كثر كلامهم في ذم الجهمية النفاة للصفات، وذموا المشبهة أيضاً، وذلك في كلامهم أقل بكثير من ذم الجهمية، لأن مرض التعطيل أعظم من مرض التشبيه، وأما ذكر التجسيم وذم المجسمة فهو لا يعرف في كلام أحد من السلف والأئمة، كما لا يعرف في كلامهم أيضاً القول بأن الله جسم، أو ليس بجسم، بل ذكروا في كلامهم الذي أنكروه على الجهمية نفي الجسم، كما ذكره أحمد في كتاب الرد على الجهمية: ولما ناظر برغوث وألزمه بأنه جسم، امتنع أحمد من موافقته على النفي والإثبات، وقال: هو أحد صمد، لم يلد ولم يولد، لم يكن له كفواً أحد.
یعنی :
یہ بات معلوم ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رویت (دیکھنے)، صفات، عرش پر بلند ہونے، اور یہ کہ اللہ نے کلام کیا ہے، کو نہیں مانتے، بلکہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ نے خود کلام نہیں کیا بلکہ کسی اور میں کلام پیدا کیا ہے، اور ان سب چیزوں کی نفی اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ یہ اثبات تجسیم (اللہ کو جسمانی ماننا) ہے، ان کا قول کتاب و سنت، اجماعِ سلف اور آثار کے خلاف زیادہ ہے نسبت ان لوگوں کے جو ان چیزوں کو ثابت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کتاب و سنت کے معنی سے مطابقت رکھتے ہیں۔ خصوصاً یہ کہ نفی کرنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ نصوص کے ظاہری الفاظ ان کے نزدیک تجسیم کا مفہوم رکھتے ہیں، اور ان کے پاس نفی پر کوئی نص نہیں ہے۔ چنانچہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا قول بدعت ہے، اور ان کے مخالفین کا قول سنت کے زیادہ قریب ہے۔
اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ سلف اور ائمہ نے جہمیہ (جو صفات کا انکار کرتے ہیں) کی مذمت میں بہت کچھ کہا ہے، اور مشبہہ (جو اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات سے مشابہت دیتے ہیں) کی بھی مذمت کی ہے، لیکن جہمیہ کی مذمت کہیں زیادہ ہے کیونکہ تعطیل (صفات کی نفی) کا مرض تشبیہ (مشابہت دینے) کے مرض سے بڑا ہے۔ جہاں تک تجسیم کا ذکر اور مجسمہ (جو اللہ کو جسم مانتے ہیں) کی مذمت کا تعلق ہے تو یہ سلف اور ائمہ کے کلام میں نہیں پایا جاتا، جیسے کہ ان کے کلام میں یہ قول بھی نہیں ملتا کہ اللہ جسم ہے یا نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے جہمیہ کے جس قول کی مذمت کی ہے وہ جسم کی نفی کا قول ہے، جیسا کہ امام احمد نے اپنی کتاب الرد على الجهمية میں ذکر کیا۔ جب برغوث نے امام احمد سے مناظرہ کیا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ یہ مانیں کہ اللہ جسم ہے، تو امام احمد نے اس کے نفی یا اثبات دونوں سے انکار کیا اور کہا:
“وہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ جنا گیا، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے” (سورۃ الإخلاص)
[درء تعارض العقل والنقل، ص 249]
خلاصۃ :
یعنی علامہ ابن تیمیہ کے مطابق جو جہمیہ اللہ کی عرش و رویت اور دیگر چیزوں کو اس وجہ سے نہیں مانتے کے انکے پاس یہ عقلی دلیل ہے کہ انکو تسلیم کرنے سے اللہ کا جسم ہونا لازم آتا ہے ۔ جسکی بنیاد پر یہ ہم کو بدعتی کہتے ہیں ۔
تو انکے برعکس ہم اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم اثار بیان کرتے ہوئے انکو اللہ کے جسم کی نفی کرنے پر بدعتی کہین۔
کیونکہ بقول ابن تیمیہ :
سلف و ائمہ نے مجسمیوں کا رد کیا ہے اس میں کبھی اس پر بات ہی نہیں کی کہ اللہ کا جسم ہے یا نہیں (معاذ اللہ )
بلکہ بقول علامہ ابن تیمیہ : جب بدعتی مجسمی نے امام احمد بن حنبل کو مجبور کیا تو وہ اللہ کے جسم کا اقرار کریں تو انہوں نے ایسا جواب دیا جس میں نہ ہی اللہ کے جسم کا انکار تھا اور انہ ہی اقرار ۔
تو اگر ہم نے اثار کی بنیاد پر ایسا بدعتی عقیدہ تجسیم کا اختیار کر بھی لیا تو یہ سلف کے خلاف بدعت نہیں بلکہ یہ بدعت حسنہ بھی ہو سکتی ہے ۔
علامہ ابن تیمہ کے فتویٰ میں نقص:
یعنی بدعت عملی بہت کم درجہ ہوتی ہے بدعت اعتقادی کے مقابل
علامہ ابن تیمہ نے بدعت عملی پر تو امام شافعی کا فتویٰ نہیں لگایا جبکہ اما م شافعی کا فتوی ٰمحدثات یعنی عملی بدعات کے تعلق سے تھا۔
بلکہ اسکے برعکس
امام شافعی کے اصول جو کہ محدثات کے تعلق سے تھا اسکو بدعت اعتقادی میں شامل کر کے بدعت حسنہ کا اصول لاگو کر دیا جو کہ بالکل واضح فحش خطاء ہے ۔
اس لیے امت نے میلاد رسولﷺ کے عمل پر ان جمہور علماء کے فتویٰ کو ہی راجح قرار دیا ہے جو فقہ اور اور اسکی جزویات میں مکمل مہارت تامہ رکھتے ۔ اور اپنے اپنے مذہب میں اتفاقی طور پر فقہی حیثیت رکھتے تھے ۔
تحقیق: اسد الطحاوی
